اسلام آباد ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد پر پابندی عائد کرتے ہوئے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی شق 89 کو تاحکمِ ثانی معطل کردیا۔

پاکستان پینل کوڈ کی یہ شق والدین، گارجین اور اساتذہ کی جانب سے 12 سال سے کم عمر بچوں کو ان کی بھلائی کی نیت سے جسمانی سزا دینے کی اجازت دیتی ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان کے معروف گلوکار و سماجی کارکن شہزاد رائے کی جانب سے بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کی دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے بچوں کو جسمانی سزا دینے کے معاملے پر 5 مارچ کو حکومت سے جواب بھی طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہدایت کی وزارت داخلہ فوری طور پر تعلیمی اداروں میں بچوں کے حقوق یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

سماعت کے دوران درخواست پر دلائل دیتے ہوئے شہزاد رائے کے وکیل نے کہا کہ پینل کوڈ کے سیکشن 89 میں بچوں پر تشدد کی گنجائش بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY