فروری 29 کا دن ہر چار سال بعد آتا ہے

0
1098

فروری 29 کا دن ہر چار سال بعد آتا ہے۔ یہ وہ سال ہیں جو 4 کے ساتھ تقسیم ہو جاتے ہیں مثلاً 1996، 2000، 2008۔ ان کو لیپ کا سال کہا جاتا ہے

فروری گريگورين سال کا دوسرا مہينہ ہے۔ شمالی نصف کرہ میں اس مہينے ميں سردی کا موسم ہوتا ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں گرمیوں کا۔ فروری قدیم زمانہ میں سال کا آخری مہینہ ہوتا تھا اور اس میں سال کے باقی بچ جانے والے دن رکھے گئے اسی لیے اس میں کم دن ہیں۔ اس مہینہ کا نام قدیم زمانہ روم میں پاکیزگی  پر رکھا گیا کیونکہ اس سال کے آخری مہینہ میں بہار شروع ہونے سے پہلے ایک میلہ لگتا تھا جس میں پاکیزگی اور صفائی حاصل کرنے کے لیے مختلف رسومات ادا کی جاتی تھیں۔

جس سال 29 فروری ہو تو یہ لیپ کا سال ہوتا ہے۔ یعنی ایسا سال جس میں فروری کا مہینہ 28 کی بجائے 29 دن کا ہوتا ہے۔ گویا اس برس 365 کی بجائے تین 366 دن ہوں گے۔

قدیم مصریوں نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ زمین سورج کے گرد 365 دن میں چکر مکمل نہیں کرتی بلکہ اس سے کچھ زیادہ وقت لگاتی ہے۔ اسی لیے گزشتہ ہزار سال انسان اس کوشش میں رہا کہ کس طرح موسموں کے اوقات میں ایک مطابقت رہے اور کھیتی باڑی اور دیگر کام ایک نظام کے تحت ہو سکیں۔

زمین کا سورج کے گرد گردش کا دورانیہ 365 دنوں کا نہیں ہے بلکہ چوتھائی دن زیادہ ہے۔ یعنی کہ 365 دن، پانچ گھنٹے، 49 منٹ اور 12 سیکنڈ۔ اور چونکہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے اس لیے موسموں کی تبدیلی کا انحصار بھی زمین اور سورج کے اس گردش کے رشتے پر ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ہر سال 365 دن رکھیں تو ہر سال چوتھائی دن کا فرق پڑنے لگتا ہے اور کیلنڈر موسموں سے دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY