وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پلواما واقعے کے بعد اندازہ تھا کہ بھارت کوئی جارحیت کرے گا ، بالا کوٹ میں بھارتی بمباری کی اطلاع رات تین بجے ملی تو افراتفری کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کیا ، مگر بعد میں پاکستان کی افواج نے بھارت کو موثر جواب دیا۔
27 فروری 2019 کو بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا ایک سال مکمل ہونے کی مناسبت سے وزیراعظم ہاؤس میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعظم عمران خان سمیت اعلیٰ سول اور فوجی قیادت نے شرکت کی۔
اس دوران خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اُس مشکل وقت میں سے نکلے، اس پر اللّٰہ کا شکر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اللّٰہ کا شکر ہے کہ حالات بگڑے نہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستانی قوم کی دانشمندی تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ برس پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت نے جو حرکت کی اس کے جواب میں ہم نے سنجیدگی دکھائی۔
انہوں نے کہا کہ ہم بھی صورتحال خراب کرسکتے تھے لیکن ہم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، بھارت کی جارحیت میں جب دیکھا کہ جانی نقصان نہیں ہوا تو پھر اس کے مطابق جواب دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ واقعے کے بعد اندازہ تھا کہ بھارت کوئی جارحیت کرے گا، لہٰذا پاکستان بھارت کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار تھا۔
26 فروری کو بھارتی دراندازی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ صبح تین بجے ایئر چیف نے بھارت کی جارحیت کی خبر دی تھی۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اور ایئرچیف کی باتیں سن کر مجھے بھی حوصلہ ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے جس طرح بھارت کی جارحیت کا جواب دیا اس پر فخر ہے، اس وقت بھارتی جارحیت کے خلاف تمام جماعتیں ایک پیج پر تھیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جس بھارت کو میں جانتا تھا وہ بڑے خطرناک راستے پر چل پڑا ہے، وہ اس وقت بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے، جس راستے پر بھارت نکل چکا اس سے واپسی بہت مشکل ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریے پر جو بھی قوم گئی ہے پھر خونریزی ہی ہوئی ہے، جب نفرت پر نظریہ قائم کیا جاتا ہے تو پھر اس میں خون ہی ہوتا ہے۔












