ٹرمپ کے خلاف تشدد پر اکسانے کا مقدمہ چل سکتا ہے: جج

0
118

امریکہ میں ایک جج نے فیصلہ سنایا ہے کہ گزشتہ سال صدارتی انتخاب کے سلسلے میں منعقدہ ایک ریلی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مظاہرین کے خلاف تشدد پر اکسانے کے الزام کا مقدمہ شروع کیا جا سکتا ہے۔

اس مقدمہ شروع نہ کرنے کے لیے آزادی اظہار رائے کی دلیل کو جج نے مسترد کر دیا۔

ریاست کنٹکی میں لوئزویل کے ڈسٹرکٹ کورٹ جج ڈیوڈ ہیل کے اس فیصلے سے تین مظاہرین کی طرف سے اب قانونی طور پر مقدمہ شروع کروانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

مقدمے میں ٹرمپ، ان کی انتخابی مہم اور دیگر تین حامیوں کو فریق بنایا گیا ہے۔
ہنری بروسیو، کاشیا نوانگوما اور مولی شاہ کا موقف ہے کہ مارچ 2016ء میں لوئزویل میں ایک ریلی کے دوران ٹرمپ نے مبینہ طور پر مسلسل یہ کہا کہ “انھیں باہر پھینک دو”، جس پر ٹرمپ کے حامیوں نے انھیں نشانہ بنایا۔

ٹرمپ کے وکیل کا استدلال تھا کہ یہ اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ہے اور ٹرمپ کا ارادہ نہیں تھا کہ ان کے حامی طاقت کا استعمال کریں۔

جج ہیل نے اپنے فیصلے میں یہ رائے تحریر کی کہ “یہ قرین قیاس ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے ‘انھیں باہر پھینک دو’ کی ہدایت طاقت کے استعمال کی وکالت کرتی تھی۔۔۔ یہ ایک حکم تھا۔”

مقدمے میں جن لوگوں کو مبینہ حملہ آور نامزد کیا گیا ہے ان میں ایک سفید فام نسل پرست گروپ کے رکن میتھیو ہیمباک اور کوریئن جنگ میں شریک رہنے والوں کی اوہائیو میں ایسوسی ایشن کے رکن ایلون بمبارجر بھی شامل ہیں۔ تیسرے شخص کی شناخت تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

جج ہیل کا کہنا تھا کہ نوانگوما جو کہ ایک سیاہ فام خاتون ہیں، کو ریلی سے نکالا جانا ” خاص طور پر لاپرواہی ہے۔” انھوں نے اس خاتون کی طرف سے نسل پرستی کا شکار ہونے کا الزام بھی مسترد نہیں کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY