آج کل ایک جملہ مسلسل سننے میں آرہا ہے ۔‘‘آپ نے کہا تھا ۔‘‘ یعنی آنے والے لوگوں نے خواب دکھائے تھے کہ ہم کچھ اچھا کرینگے ہم یہ شوق رکھتے ہیں کہ ملک ٹھیک ہو ،کرپشن ختم ہو اور لوگوں کی زندگیاں آسان ہوں ۔بقول لوگوں کے خواب دکھایا گیا تھا ۔بات بالکل ٹھیک ہے اور قابلِ غور بھی ۔لیکن پیارے لوگو فرشتے بھی آجائیں تو شاید سب کچھ کچھ دنوں میں نہ کر سکیں اور جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو اُسے ٹھیک کرنا کچھ مہلت کچھ وقت تو مانگتا ہے ۔جب علامہ اقبال نے خواب دیکھا تھا مسلمانوں کے لئے تو تعبیر ملی تھی خون دے کر جدو جہد کر کے قُربانیاں دے کر یونہی نہیں مل گئی تھی آزادی اور یونہی نہیں پوری ہو گئی تھی بات قائد کی اُس نے جد وجہد کی تھی دن رات ایک کیا تھا اور پوری مسلم قوم نے اُس کا ساتھ دیا تھا ۔ہم زرا خود پر نظر تو کریں ۔ہم کتنے کچے ہیں کہ جواز دیتے ہیں کہ جو کچھ کہا تھا کر کیوں نہیں رہے حالانکہ اگر کچھ باتیں چھوڑ کر دیکھا جائے تو ملک میں وہ کچھ ہورہا ہے جو شاید تصور میں بھی نہیں تھا ۔
ہم بہت ہی معزرت کے ساتھ اپنے اُن ہم وطنوں سے کہنا چاہتے ہیں جو ہتھیلی پر سر سوں جمانے کے دَر پے ہیں کہ خرابی لگانا بہت آسان ہوتا ہے ٹھیک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور جہاں ہر پتھر کے نیچے کرپشن ہو، بے ایمانی ہو ،دھوکہ ہو، اعتبار کی کمی ہو وہاں ماحول کو ساز گار بنانا اور نیا رنگ دینا بہت دقت طلب ہوتا ہے۔ اور جب ہر طرف سے شہتیر برس رہے ہوں اُن لوگوں کے جن کے ہاتھ میں تقدیر گروی تھی ہماری تو اُس کو چھڑانے میں بھی وقت لگتا ہے ۔یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کہ ایک ایسے ماحول کو بدلا جائے جس میں اچھے برے کی تمیز کو تقریبا` ختم کر دیا گیا ہو ۔برائی سب جگہ ہے لیکن جب کم ہوتی ہے تو قابلِ برداشت ہوتی ہے لیکن جب یہ پھیل جاتی ہے تو اِسے سمیٹنے کے لئے سب کی مدد درکار ہوتی ہے ۔جب تک ہم اس بات پر متحد نہیں ہوتے کہ ہمیں بدلنا ہے ہمیں کوئی بھی اس گرداب سے نہیں نکال سکتا ۔
نئے لوگ ہیں کم تجربہ ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ کچھ جانتے نہیں ہیں ۔لیکن ہم جیسے بے صبرے شاید اس تبدیلی کو ہضم نہیں کر پا رہے ۔یا شاید ہم اُسی طرح کے لوگوں کے عادی ہیں جو ہمیں کھوکھلا کر گئے ۔روز ایک نیا اسکینڈل سامنے آرہا ہے ۔کبھی فالودہ بیچنے والا کروڑ پتی بن جاتا ہے تو کبھی ایک یتیم بے روز گار نو جوان ارب پتی بن جاتا ہے لیکن یہ معجزہ کیسے ہوا اُن دونوں کو خبر نہیں ۔کیسا جادو ہے ؟ ہماری تو چیف صاحب سے استدعا ہوگی کہ ان کالی بھیڑوں کو قرار واقعئی سزا دیں جنہوں نے یہ جعل سازی کی اور ان معصوم لوگوں کو چکر دے دیا لیکن ہمیں خوف ہے کہ کہیں فالودے والا اور غریب نوجوان ہی نہ پکڑا جائے کہ تم اتنے معصوم کیسے تھے کہ تمہیں پتہ نہیں چلا کہ تمہارا بینک اکائونٹ ہے اور وہ بھی لَش پَش ، ان بڑوں پر ہاتھ ڈالنا قانون کا کام ہے میرے ملک کی بد نصیبی یہ بھی ہے کہ چھوٹے چھوٹے جرائم تو قابلِ سزا ہیں لیکن بڑے مُجرم قابلِ پکڑ نہیں ۔ جب تک آپ سزا نہیں دیں گے کسی پر کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ ہماری کھال بہت موٹی ہے ہم پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا ۔ہم سارے پیسے ہضم کر کے بیرونِ ملک بھیج کے بچ نکلتے ہیں اور ہمارا قانون ثبوت ہی مانگتا رہ جاتا ہے ۔حالانکہ ہمارے بعض اینکرز ٹی ،وی پر بیٹھ کر ایسے ایسے ثبوت دکھاتے نظر آتے ہیں کہ ہم رات کو اطمینان سے سو جاتے ہیں کہ چلو ایک تو شکنجے میں آیا لیکن صبح ہوتے آس ٹوٹ جاتی ہے کہ خبریں ہمارا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں کہ تم جو سوچ کر خوبصورت خواب دیکھ رہے تھے اُس کی تعبیر شاید ابھی کوسوں دور ہے ۔عدلیہ کو چاہئیے کہ اُن لوگوں کی مدد ضرور لے جن کے پاس یہ ثبوت ہیں جو روز ہمیں یہ آس دلاتے ہیں کہ اب ختم ہو جائیگی یہ دیدہ دلیری کہ جو چاہے کرلو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔
بات تھی بے صبری کی اور وعدوں کی بلا شک وعدے پورے ہونے چاہئیں لیکن اے بے صبرے پاکستانیوں کچھ وقت تو لگتا ہے ۔اگر ہم اس حکومت کو بھی وقت نہیں دیں گے اس کا ساتھ نہیں دیں گے تو شاید ہم پھر کبھی اس طاقت سے نہ اُبھر سکیں گے جس طرح ہم نے ان ستر سالوں میں نقصان اُٹھائے ہم پھر اُسی طرف دھکیل دئے جائینگے ۔ہمیں کسی حکومت سے کوئی سروکار نہیں ہمیں صرف ا ور صرف اپنے ملک اور اس میں بسنے والوں کی فکر ہے ۔حکومت کوئی بھی کرے جو پاکستان کے لوگوں کے لئے اچھا کرے گا ہماری سوچ اُس کے ساتھ ہے ۔ہم نے ستر سالوں میں کوئی لیڈر پیدا کئے نہ خود کو ٹھیک کیا بلکہ جو کچھ اقدار اور کردار ہمارے باقی تھے اُنہیں بھی ایسے لوگوں نے پسِ پردہ کردیا جن کا ایمان ہی پیسہ تھا جائیدادیں تھیں اپنے لوگ تھے اور اپنا اقتدار تھا ۔اب اگر کچھ لوگ ہمارے لئے اچھا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں موقعہ تو دو ۔ہم یہ بھی یقین دلاتے ہیں کہ ہم وہ قوم ہیں کہ اگر ان نئے لوگوں نے کچھ کر کے نہ دکھایا تو ہم ان کا پرانے لوگوں سے بھی برا حشر کریں گے کیونکہ ہم بے صبرے ہی نہیں نا آشنا بھی ہیں اس بات سے کہ سب مل کر ٹھیک کرتے ہیں کام جلدی ہوتا ہے الگ الگ ہوتے ہیں تو ہر کام دیر سے ہوتا ہے ۔ہم نے کچھ لوگوں پر اعتماد کیا ہے ضروری ہے کہ ہم اُن کو کام کا موقعہ دیں ۔ہم نے لوٹنے والوں کو پینتیس سال دئے کیا انہیں پینتیس مہینے بھی نہیں د ے سکتے ۔
ہماری عدالتوں کے فیصلے بڑوں کے لئے بہت خوبصورت ہوتے ہیں ایک فیصلے کے بارے میں پتہ چلا کہ جو بڑی کرسی والوں کی سزا معطل کی گئی ہے اُس میں کہا گیا ہے کہ کسی کو گلنے سڑنے کے لئے نہیں قید رکھ سکتے ۔ہم جب سے اس قدر زہنی خلجان کا شکار ہیں کہ پھر ہم یہ مقدمے کرتے ہی کیوں ہیں اور خاص کر حاکموں پر تو ہونے ہی نہیں چاہئیں کہ وہ صرف اور صرف ہم پر حکومت کرنےکے لئے بنے ہیں خرابی لگا کر جواب دینے کے لئے نہیں ۔ہمیں لگا کہ ہمارے ترازو ہچکولے کھا رہے ہیں خدا را انہیں سنبھالیں ورنہ اس سے بھی بڑے بڑے کرپشن ہونگے اور آپ کسی کو بھی سزا نہیں دے سکینگے ۔یا پھر ختم کریں یہ سب ڈرامے سب کو معاف کر دیں جو ہوا سو ہوا ۔
پلی بارگین جیسا گندہ قانون ملک میں نہیں ہونا چاہئے ۔یہ کیا بات ہوئی کہ کروڑوں کا نقصان پہنچایا اور سینکڑوں دے کر جان بچا لی ۔یہ کیسا انصاف ہے بلکہ ہم تو اب تلاش کر رہے ہیں کہ انصاف ہے کہاں ؟جب سے ہم نے ہوش سنبھالا آج تک صرف الزام سنے کبھی کسی کو سلاخوں کے پیچھے نہیں دیکھا اور اگر کوئی گیا بھی تو اُس کے ہمدردوں نے اُسے نکلوا لیا ،صرف غریبوں سے بھری ہیں جیلیں ۔اور شاید ہمارے ملک میں صرف غریب ہی بے ایمان بھی ہے ،اور اُسکی گردن میں سزا کا پھندا بھی فِٹ آتا ہے ۔ورنہ نہ جعلی ڈاکومنٹ کوئی سزا دلا سکتے ہیں نا جائیدادیں ۔
ہماری خواہش ہے کہ اب ہم اس بات پر بھی غور کریں کہ ملک میں نئے لیڈر بنیں کچھ پڑھے لکھے اللہ کا خوف رکھنے والے اور ایماندار ملک سے محبت کرنے والوں کو آگے آنے کا موقعہ دیں تاکہ ہمارے ملک سے لیڈروں کی کمی کا اُن کی قلت کا بھی خاتمہ ہو اور آنے والے وقتوں میں اچھی قیادتیں ملتی رہیں ۔اب تک الزامات کی سیاست ہوتی رہی اب کام کی سیاست بھی کی جائے ۔اور جو بھی غلط کام کرتا یا غلط فائدہ لیتا نظر اآئے چاہے اپنا ہو یا پرایا اُسے اُسی وقت سامنے لایا جائے تاکہ سب کے سامنے آئے ۔ویسے اب تو ہماری شخصیت ایسی ہو گئی ہے کہ بڑے سے بڑے الزام لگنے کے بعد بھی ہم خُم ٹھوک کر کھڑے ہوتے ہیں شرمندہ نہیں ہوتے ۔وہ زمانے بھی لَد گئے شاید جب الزام تو بہت بڑی بات ہے اگر کوئی جھوٹا بھی کہہ دیتا تھا تو اچھے لوگ کھانا تک نہیں کھا سکتے تھے اس غم میں کہ اس نے مجھے جھوٹا کہہ دیا لیکن یہ سب باتیں اب قصئہ پارینہ ہو گئی ہیں ۔
ہماری دعا ہے کہ ہماری خود داری اور حمئیت پھر سے لوٹ آئے اور ہم سب ہی صبر اور اطمینان سے اپنے ملک کی خرابیوں کو دور بھی کریں اور اچھی باتوں کا ساتھ بھی دیں ۔
اللہ میرے ملک کو ترقی اور کامیابی کی طرف گامزن فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY