گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنیکا لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار

0
1101

سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کے لاہور ہائیکورٹ کے حکم کیخلاف نیب درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے تین رکنی بینچ ( جسٹس منیب اختر اور جسٹس مظاہر اکبر نقوی ) کے ہمراہ جمعرات 24 نومبر کو قومی احتساب بیورو ( نیب ) کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گرفتاری سے قبل ملزم کو آگاہ کرنے کی قانون میں کوئی شرط نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کا لاہور ہائیکورٹ کا حکم خلاف قانون ہے۔ حمزہ شہباز کو گرفتاری سے 10 دن قبل آگاہ کرنے کا حکم عدالتی نظیر کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کا حکم غیر موثر ہونے کی بنیاد پر کیس کو نمٹا دیا گیا۔

واضح ہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ نواز ( ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو صاف پانی، رمضان شوگر ملز اور آمد سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتاری سے قبل آگاہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

نیب کی جانب سے 18 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزم کو گرفتاری سے پہلے آگاہ کرنا ضروری نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ قانون کے برخلاف ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY