ئی لیک ہونے والی دستاویزات کو ’’پیراڈائز لیکس‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور ان کی وجہ سے دنیا کے کئی دارالحکومت ہل گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ایک کروڑ 34؍ لاکھ دستاویزات جاری کی گئی ہیں۔ ان دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ارب پتی وزیر تجارت کے روسی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کیلئے فنڈ جمع کرنے والے سرکردہ شخص کی خفیہ سرمایہ کاری، ملکہ برطانیہ اور ملکہ اردن اور دنیا بھر کے 120؍ سیاست دانوں کی آف شور سرمایہ کاری کے حوالے سے سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔

پاکستانیوں کے حوالے سے ملنے والا بیشتر ریکارڈ برمودا، برٹش ورجن آئی لینڈ، کیمین آئی لینڈ، مالٹا اور دیگر ملکوں سے ملا ہے۔ نیشنل انشورنس کارپوریشن لمیٹڈ (این آئی سی ایل) کے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی، صدر الدین ہاشوانی، میاں منشاء، ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) لائسنس کی کامیاب بولی دینے والے، ظہیر الدین، سونیری بینک کے مالک نورالدین فیراستا، چیئرمین دائود ہرکولیس کارپوریشن حسین دائود اور دیگر نامور پاکستانیوں کی شناخت سامنے آئی ہے جنہوں نے آف شور سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
تقریباً 135؍ ایسے پاکستانیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں جن کے اپنے نام سے یا پھر آف شور کمپنیوں کے نام سے سوئس بینکوں میں اکائونٹس موجود ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا نام دو ٹرسٹ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

ایاز خان نیازی کا نام برٹش آئی لینڈ میں چار آف شور کمپنیوں بشمول ایک ٹرسٹ (اندلسین ڈسکریشنری ٹرسٹ) کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ باقی تین کمپنیوں کی حیثیت میں قائم کی گئیں جن میں اندلیسن اسٹیبلشمنٹ لمیٹڈ، اندلسین انٹرپرائزز لمیٹڈ اور اندلسین ہولڈنگز لمیٹڈ۔ یہ تمام کمپنیاں اور ٹرسٹ اس وقت قائم کی گئیں جب 2010ء میں ایاز خان این آئی سی ایل کے چیئرمین تھے۔

نشاط گروپ کے چیئرمین میاں محمد منشا کا تعلق 6؍ آف شور کمپنیوں کے سا تھ سامنے آیا ہے۔ ان میں سے چار ورجن آئی لینڈ میں ہیں جن کے نام یہ ہیں، مالین سیکورٹیز لمیٹڈ، میپل لیف انوسٹمنٹ لمیٹڈ، لائل ٹریڈنگ لمیٹڈ، ڈولین انٹرنیشنل لمیٹڈ۔ باقی دو کمپنیاں ماریشس میں ہیں جن کے نام کروفٹ لمیٹڈ اور بیسٹ ایگلز ہولڈنگز انکارپوریٹڈ ہیں۔ ان کمپنیوں کے ساتھ جڑے ایک سوئس بینک کا حوالہ بھی سامنے آیا ہے جو 1994ء کا ہے اور یہ اکائونٹ 2007ء تک قائم تھا۔

علائو الدین جے فیراستا، سونیری بینک کے چیئرمین ہیں اور وہ برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ایک کمپنی رینج ورتھ لمیٹڈ کے مالک ہیں۔ ان کے بھتیجے اور روپالی پولی ایسٹر لمیٹڈ کے چیئرمین نے بھی برٹش ورجن آئی لینڈ میں ایک کمپنی قائم کی ہے جس کا سوئس بینک میں ایک اکائونٹ ہے۔
۔
حسین داؤد کو آئیل آف مین میں رجسٹرڈ کمپنی سے تعلق میں شناخت کیا گیا تھا، اس کمپنی کانام ہرکولیس انٹرپرائزیز لمیٹیڈ تھا اور اس کے سوئس اور فرینچ بینکوں میں دو کھاتے بھی تھے۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے بزنس مین ظہیر الدین جو ڈی ٹی ایچ لائسنس حاصل کرنے والے تین افراد میں سے ایک تھے، وہ برٹش ورجن آئی لینڈ میں تین کمپنیوں کے مالک تھے اور بینک آف برمودا اور ایچ ایس بی سی برمودا مین ان کے دو اکاؤنٹس تھے اور جب پیمرا میں ڈی ٹی ایچ کی بولی کیلئے کاروبار کی تفصیلات جمع کرائی گئی تھیں تو ان میں سے کسی کا بھی انہوں نے بزنس پروفائل میں اعلان نہیں کیا تھا۔
ماریشس میں قائم ایک آف شور کمپنی  لمیٹیڈ نے ڈیلی ٹائمز اخبار میں سرمایہ کاری کی تھی۔ یہ کمپنی مکمل طور پر شکتی ماسٹر فنڈ ایل پی کی سبسیڈری ہے۔ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے 2011 ء میں  کے حصص کے بینی فشل اونرشپ کے بارے میں معلومات طلب کی تھیں جس کا یہ جواب موصول ہوا تھا کہ کمپنی حصص کی بینی فشل مالک ہے۔ اس نے پیس پاکستان کے حصص بھی خریدے تھے جو تاثیر خاندان کی ملکیت ہے۔ دی نیوز نے تبصرے کے لئے شہریار تاثیر سے رابطہ کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ایک کارپوریٹ ارینجمنٹ تھا۔ اسماعیلی برادری کے روحانی رہنما اور برطانوی شہری پرنس کریم آغا خان ریکارڈ میں دو وجوہات کی بنا پر سامنے آئے۔

ملکہ برطانیہ سمیت غیرملکی شخصیات

دستاویزت سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کی کوئن الزبتھ دوم نے ’’کےمین آئی لینڈ فنڈ‘‘ میں سرمایہ کاری کی تھی جس نے ایک نجی ایکویٹی کمپنی میں سرمایہ کاری کی جو برائٹ ہاؤس کو کنٹرول کرتی تھی ، یہ برطانیہ کی ایک رینٹ ٹو اون کمپنی ہے، جس پر ارکان پارلیمنٹ اور صارفین کے نگران اداروں نے تنقید کی کہ یہ ادارہ نقد ادا نہ کر سکنے والے برطانیوں کو گھریلو اشیا 99 اعشاریہ 9 فیصد سود پر فروخت کرتا ہے۔ آئی لینڈ آف جرسی میں اردن کی ملکہ بھی دو ٹرسٹ کی مالک ہیں۔

ان میں سے ایک ان کی وسیع وعریض برطانوی جائیدادوں کی مالک ہے۔ امریکا کے فور اسٹار جنرل اور ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے صدارت کے لئے پرامید ویزلے کلارک آن لائن جوا کمپنی کے ڈائریکٹر تھے جس کی آف شور معاون کمپنیاں تھیں۔ ویزلے یورپ میں ناٹو کے سپریم کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ دی ایپل بائے فائلز سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے کامرس سیکرٹری ولبر رووس ایک شپنگ کمپنی نیویگیٹر ہولڈنگز کے مالی اثاثوں کی دیکھ بھال کے لئے ’’کےمین آئی لینڈ‘‘کے ایک پورے سلسلے کو استعمال کر چکے ہیں، اس کمپنی کے اعلی ترین صارفین میں روسی حکومت سے وابستہ انرجی فرمبھی شامل ہے جس نے نیویگیٹر ہولڈنگز کو 2016 میں 23 ملین ڈالر سے زیادہ ادا کیے تھے۔
اس کمپنی کے مالکان میں روسی صدر ولادمیر پوٹن کے داماد کیرل شامالوف کے ساتھ ایک روسی ارب پتی بھی شامل ہے جس پر امریکی حکومت نے 2014 میں پوٹن کے ساتھ تعلق کی وجہ سے پابندی عائد کردی تھی۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جن امریکا کے سیاسی معاملات میں روس کے خفیہ طور پر ملوث ہونے کے بارے میں تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ’’ولبر رووس‘‘ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ کامرس سیکرٹری نے کبھی پوٹن کے داماد کے دیگر مالکان سے ملاقات نہیں کی اور جب نیویگیٹر نے کے ساتھ تعلقات کا آغاز کیا تو وہ نیویگیٹر کے بورڈ میں نہیں تھے۔ کے ترجمان نے کہا ہے کہ رووس نے عالمی شپنگ سے متعلق معاملات سے خود کو الگ کر لیا تھا اور وہ روسی اداروں کے خلاف عام طور پر انتظامیہ کی پابندیوں کی حمایت کر تے رہے ہیں۔
امریکا میں قائم سوشل میڈیا کے دنیا کے بڑے اداروں میں روسی سرمایہ کاری بھی ثابت ہوچکی ہے۔ روس کے ایک سرکاری ملکیت کے حامل بینک نے 2011 میں ٹوئیٹر انکارپوریٹیڈ میں 191 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی اور کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے روسی سرمایہ کار یوری ملنر نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔ اسی طرح یوری ملنر کے ذریعے فیس بک میں ایک ارب ڈالر کے قریب سرمایہ کاری کی گئی تھی اور انہوں نے حال ہی میں ٹرمپ کے داماد کے ساتھ مشترکہ طور پر قائم کی گئی رئیل اسٹیٹ کی فرم میں ساڑھے 8 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں دنیا بھر کی جن سرکردہ سیاسی شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ان میں یہ افراد شامل ہیں۔

برازیل کے وزیر زراعت بلیرو بورگز ماگی، امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار ویزلی کلارک، یوگنڈا کے وزیر خارجہ سیم کامبا کوتیسا، آسٹریا کے سابق چانسلر الفریڈ گوزین بائور، سعودی عرب کے سابق وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلطان بن عبدالعزیز، مونٹینیگرو کے سابق رہنما کی بہن اینا کولاریویچ، عراقی پارلیمنٹ کے سابق رکن موزر غسان شوکت، یوکرین کی پارلیمنٹ کے سابق رکن اینتون پریگوڈسکی، کینیا کی سابق وزیر زراعت سیلی کوسیگی، قازقستان کے سابق وزیر برائے توانائی و تجارت مختار ابلیازوف، قازقستان کے سابق وزیر برائے تیل و گیس سوت مینابایوف، میکسیکو کے سابق قومی سلامتی کے سیکریٹری الیہاندرو گرتیز مانیرو، گھانا کے سابق صدر کے بھائی ابراہیم ماہاما، انڈونیشیا کے سابق صدر کے بچے ٹومی اور مامیک سوہارتو، کوسٹا ریکا کے سابق صدر اور ڈبلیو ای ایف کے سابق چیف ایگزیکٹو ہوزے ماریا فیگوریس، کینیڈا کے سابق وزیراعظم ژان شیریتین، کینیڈا کے سابق وزیراعظم پال مارٹن، کینیڈا کے سابق وزیراعظم برائن ملرونی، جاپان کے سابق وزیراعظم یوکیو ہاتویاما، امریکا کی سابق وزیر تجارت پینی پرتزکر، امریکا کے سابق وزیر برائے ٹریژری کمرشل جیمز مایر ساسون، ایل سلواڈور کے سابق نائب صدر کارلوس کوئنتینیلا شمٹ، لتھوانیا کے ممبر یورپی پارلیمنٹ انتاناس گوگا، بھارتی پارلیمنٹ کے رکن رویندرا کشور (آر کے) سنہا، بھارت کے وزیر برائے ہوابازی جینت سنہا، متحدہ عرب امارات کی دو اہم شخصیات، قازقستان کے وزیر برائے دفاع اور ایرو اسپیس انڈسٹری بیبت اتامکولوف، برازیل کے وزیر خزانہ ہینرک کامپوس، زمبیا کے اپوزیشن لیڈر ہکنڈے سیمی ہشلما، پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز، انڈونیشیا کے اپوزیشن لیڈر پربووو سوبیانتو، نائیجیریا کی سینیٹ کے صدر بکولا ساراکی، شامی صدر بشار الاسد کے کزن رامی مکلوف، کولمبیا کے صدر ہوان مینوئل سانتوس، لائبیریا کی صدر ایلین جانسن، ترک وزیراعظم کے بیٹے ارقم اور بولنت یلدرم، اردن کی ملکہ نور الحسین، ملکہ برطانیہ الیزابیتھ دوم، امریکی وزیر تجارت ولبر لوئس راس جونیئر، امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور یوکرین کے نائب وزیر اعظم ولیری ووشچیوسکی۔
نئی سامنے آنے والی دستاویزات میں معروف امریکی پاپ سنگر میڈونا اور بونو کا نام بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز ، محمد بن نائف، شہزادہ سعود بن فہد بن عبدالعزیز السعود ، مرحوم شاہ فہد کی بیوی الجوہرا بنت ابراہیم الابراہیم وغیرہ، قطر کے وزیر خزانہ علی شریف العمادی، سابق قطری امیر حماد بن خلیفہ الثانی، شہزادہ حمد بن جاسم بن جبرآل ثانی، آسٹریلوی وزیراعظم، ایران کے ارکان پارلیمنٹ اور 714بھارتیوں کے نام بھی شامل ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY