ہم نے اپنے گذشتہ کالم میں اس طرف اشارہ کیا تھا؟ مگر تحریک انصاف والوں نے شاید اس پر توجہ نہیں دی کہ وہ پاکستان سے باہر بسنے والے پاکستانیوں کو آدھا پاکستانی سمجھتے ہیں، لہذا ان کی رائے کی اہمیت بھی نصف ہی ہونا چاہیے کیونکہ انصاف کا تقاضہ ہے؟ مگر چندہ لینے میں وہ یہ تمیز روا نہیں رکھتے اورکہتے ہیں کہ جتنا زیادہ دیسکوا تنا ہی اچھا ہے؟ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شاید اُس فتوےٰ سے متاثر ہوگئے ہیں جس کو ہم نے ایک مذہبی پروگرام میں ٹی وی پر ایک مفتی صاحب سے سنا تھا “کہ آج کل مالِ حلال مملکت ِ خداداد میں عنقیٰ ہے اور ملتا ہی نہیں ہے۔ لہذااگر کسی کے مال میں حلال کا تھوڑا سا بھی غلبہ ہے تووہ رقم بھی مسجد میں لگائی جا سکتی ہے “ چونکہ وہاں عوامی زبان میں نخالص کا دور،دورہ ہے اور کوئی چیز خالص ملتی ہی نہیں ہے۔ اس لیے کوئی عالم اگرجو جوڑیا بازارسے تعلق رکھتا ہو وہ کل کو یہ بھی فتویٰ دے سکتا ہے کہ اصل چیز کا غلبہ ہو تو تھوڑی سی ملاوٹ بھی چلے گی؟ پہلا فتویٰ ایک شخص کے اس سوال کے جواب میں عطا ہوا تھا جو کہ ان گناہ گار کانوں نے سنا کہ کیاحرام پیسہ مسجد میں لگایا جاسکتا ہے؟ چونکہ سوالی کوا نہوں نے ٹی وی پر دکھایا نہیں تھا لہذا ہم قیاس ہی کرسکتے ہیں ؟ کہ وہ کوئی بڑے میاں ہی رہے ہونگے؟ ورنہ آجکل تو مساجد کی انتظامیہ نے یہ سوال پوچھنا ہی چھوڑدیا ہے جو کہ پاکستان بننے سے پہلے چندہ دینے والوں سے عام طور پر پوچھا لیا کرتے تھے؟اب وہ یہ ہی سوال چندہ دینے والوں سے دوبارہ پوچھنے لگیں گے تو مسجدیں بنانا مشکل ہو جا ئے گا ،ور جوبنی ہوئی ہیں ان کی مرمت نہ ہونے اور موذن اور امام صاحب کو تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے بڑی مشکلات کا سامنا پڑیگا۔
عجیب بات ہے کہ جو ملک اللہ کے نام پر بنا تھا وہاں تو یہ حال ہے؟اور جنہوں نے صرف اسلام کے چند اصول اپنا ئے ہوئے ہیں جیسے کہ “عدل اور اپنے باشندوں کی فلاح بہبود“ وہاں مالِ حرام تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا ہے؟ سوائے اس کے کہ پوری آمدنی سود زدہ ہے چونکہ ا نکے یہاں سرمایہ دارانہ نظا م ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں وہی رائج ہے۔ لہذا سارا لین دین اسی پر چلتا ہے؟ اسی میں سے اچھی خاصی رقم مسلمان ملکو ں میں بھی جاتی ہے۔ جو ان ملکوں میں کام کرنے والے اپنے خاندان وا لوں کے خرچے کے لیے بھیجتے ہیں۔ اور ہر قسم کے چندے بھی اسی میں سے جاتے ہیں؟ مگر یہاں کاروباری اوقات میں مخصوص وقفے کے سوا کسی کو خود چائے پیتے یا دوستوں کو پلاتے، رشوت لیتے دیتے، جھوٹ بولتے کم تولتے یا نمبر دو کا مال فروخت کرتے ہم نے کوئی نہیں دیکھا؟دیکھئے ہم بہک کر کہا ں سے کہاں پہنچ گئے، بات کر رہے تھے اپنے کالم کی اور پٹری سے اتر ے تو پہنچ گئے موازنہ پر۔اصل میں آجکل جوٹاپک وطن عزیز میں بہت گرم ہیں؟ ان میں سے ایک ہے“ سانحہ ساہی وال “اور دوسرا ہے “سانحہ ماڈل ٹاؤن“ دونوں فریق یعنی حزب اختلاف اورحزب اقتدار ٹی وی ٹاک شو ہو ،اسمبلی ہو، گھر میں ہوں یا گھر سے باہر ہوں غرضکہ چاہیں وہ کہیں بھی ہوں؟ قوم اسی پر لگی ہوئی ہے کہ ہم نے ماڈل ٹاؤن کے سانحہ کو کتناا چھا ڈیل کیا کہ چھٹا سال چل رہاہے مگر مسئلہ حل نہیں ہوسکا، کیونکہ ہم اسے اچھے سے اچھی طرح ڈیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ جبکہ ایک خاتوں جو خواتیں کی نشست پر مسلم لیگ( ن) کی نمائندہ ہیں،وہ اینکر جواب میں بہت دور ی کی کوڑی لیکر آئیں کہ سانحہ ماڈل تو اس وقت کی “ حزب اختلاف“ نے خود کرا یا تھا؟ تاکہ کچھ لاشیں گر جائیں اور انہیں حکومت کے خلاف کنیٹنروں پر اچھالنے کاموقعہ ملے؟ جبکہ یہ موٹی سی بات ناتجربہ کار ہونے کی وجہ سے موجودہ حزب اقتدار کو نظر نہیں آئی تو انہیں خود کہہ کر سمجھانا پڑی کہ پولس بھی پرانی ہے اور وہ سابق آقاؤں کی وفادار بھی ہوسکتی ہے اور یہ تجربہ کارانہ سازش بھی انہیں سے تعلق نہ رکھتی ہوو کہ کہیں پرانے آقاؤں کی وفاداری نبھانے کی وجہ سے تو نہیں نمودار ہوئی ہو۔
اس لیے کہ جتنی حکومت صفائیاں پیش کر تی جارہی ہے اتنے ہی معاملات بجا ئے سلجھنے کہ اورا لجھتے جا رہے ہیں؟ حتیٰ کہ “ان کیمرہ جو پریس کانفرنس “ہو ئی اس کو بھی سننے کے بعد حکومت کے حامی اینکر کہتے ہوئے سنے گئے کہ یہ نہ ہوتی تو بہتر ہوتا؟ بس فرق یہ ہے کہ تجربہ کار فریق اپنی تجربہ کاری کی بنا پر بے ڈھڑک جھوٹ بول رہا ہے اور یہ جھوٹ بولنے میں ابھی نا تجربہ کار ہیں۔ اس لیے جھوٹ بولتے ہوئے اللہ ڈرتے ہیں؟ اس لیے انہیں کچھ عرصہ حزب اختلاف سے تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔آیا کچھ خیالِ شریف میں؟













