لندن سے تشریف لائے معروف صحافی
ماھر لسانیات
ماھر نشریات
ادیب و شاعر
مرثیہ نگار
محقق
صاحب المطالعہ
عالمی اخبار کے چیف ایڈیٹر
استاد
دانشور
اکیڈمی کا درجہ رکھنے والے
محترم المقام جناب صفدر ہمدانی ان دنوں لاھور تشریف لائے ھیں
انکے اعزاز میں مختلف شہروں میں انکے قریبی دوستوں نے علمی مجالس و محافل کا اھتمام کیا
اسی ضمن میں شیخو پورہ میں مقیم معروف دینی و علمی شخصیت سیدہ ام الفروہ کی دعوت پر شیخو پورہ تشریف لائے اور وھاں کے بہت مشہور تاریخی مقام ھرن مینار بھی دیکھنے گیے
شیخو پورہ لاھور سے تقریباً 38 کلو میٹردور ھے
شیخوپورہ شہنشاہ جہانگیر کے نام پر بسایا گیا ھے جس کو پیار سے شیخو کہتے تھے
اس خوبصورت وسیع عالیشان عمارت کو دیکھ کر اندازہ ھوتا ھے کہ اس زمانے کی بادشاہ اور
حاکمان وقت کو فن تعمیر سے کس قدر دلچسپی اور لگاؤ تھا
ھرن مینار بھی فن تعمیر کا بہت خوب صورت نمونہ و یادگار ھے
یہاں خوش نظر مناظر و اشجار آنکھوں کو سکون دیتے ھیں
افسردگی کو مسرت میں بدل دیتے ھیں
ھرن مینار دراصل شہنشاہ جہانگیر نے اپنے بہت پیارے ھرن کی یاد میں تعمیر کرایا تھا
ھرن مینار کی 99 سیڑھیاں ھیں

مینار کے اوپر سے بہت خوب صورت مناظر اور جھیل کا دلکش منظر آنکھوں کو تازگی دیتا ھے
شہنشاہ جہانگیر کے عہد حکومت 1605) ء تا(1627 میں شیخوپورہ کو شاہی شکار گاہ کی حیثیت حاصل تھی کیونکہ یہ علاقہ بہت سرسبز و شاداب تھا اور شیخوپورہ کے وسیع و عریض اور گھنے جنگل میں انواع و اقسام کے جانور بکثرت ملتے تھے شہنشاہ جہانگیر کی دعوت پر بڑی بڑی دور سے مہاراجے اور نواب شکار کھیلنے کے لیے شیخوپورہ آتے تھے۔ ہرن مینار کا یہ علاقہ کبھی جنگلی گھاس اور گھنے جنگلات سے گھرا ہوا تھا جہاں ہرنوں کے غول چوکڑیاں بھرا کرتے تھے یہ مغل بادشاہ جہانگیر کی شکار گاہ تھی۔ کہتے ہیں کہ جہانگیر بادشاہ کے پاس ایک ہنس راج نامی ہرن تھا۔ جو بادشاہ کو بہت پسند تھا وہ ہرن مر گیا تو جہانگیر نے اس کی قبر پر ایک مینار تعمیر کروایا جس کا نام ہرن مینار پڑ گیا۔ اس بات کا حوالہ جہانگیر کی اپنی خودنوشت تزک جہانگیری میں بھی ملتا ہے جہانگیر لکھتا ہے کہ’’ ذوالحج منگل کے روز جہانگیر پورہ (شیخوپورہ) میں پڑائو ڈالا جو شکار کھیلنے کے لیے میرا پسندیدہ مقام تھا۔ اس جگہ ہنس راج نامی ایک ہرن کی قبر اور مینار ہے جو میرے حکم سے تعمیر کیا گیا ہے یہ ہرن سدھائے ہوئے ہرنوں کی لڑائی اور صحرائی ہرنوں کے شکار میں مدد دینے میں بے مثال تھا۔‘‘
شاھین اشرف علی












