(مر د و عورت میں فرق اور برابری ، عورت مارچ ، انٹرویو ، اور میرا جسم میری مرضی )
۔
۔
سب سے پہلے مختصراً مرد و عورت کی برابری ، حیثیت اور حقوق کے بارے اسلام کا سٹیٹمنٹ مشاہدہ کرتے ہیں اور اس کیلئے ہم مرد و عورت پر مشتمل ایک ازدواجی ادارے اور سوشل کانٹریکٹ یعنی
نکاحسے مثال پیش کرتے ہیں اور مختصراً یہ انویسٹیگیٹ کرتے ہیں کہ اسلام مرد و عورت کو کیسے دیکھتا ہے ؟
اسلام میں مرد و عورت کے حقوق میں فرق ہے مثلاً اسلام میں فائنینشیئل ڈیپارٹمنٹ ( نان نفقہ وغیرہ ) کی تمام تر ذمہ داری مرد پر ہے ، عورت کو اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ، لڑکی جب تک والد کے گھر میں ہے اس کا والد اس کو فائنینشلی سپورٹ کرے گا اور جب شوہر کے گھر جائے تو اس کا شوہر اسے سپورٹ کرے گا ، اور یہ بضی واضح رہے کہ یہ عورت کا ” حق ” ہے چنانچہ والد یا شوہر احسان نہیں کر رہا ، اس کو مکمل احترام اور کرامت کے ساتھ فاِنینشیئلی سپورٹ کیا جائے گا۔ دوسری طرف عورت کی کوئی معاشی ذمہ داری نہیں ہے لیکن وہ اس کے باوجود معاشی حقوق رکھتی ہے اورایکنامی میں دخیل ہے۔ مثلاً وہ بزنس کر سکتی ہے اور حقِ ملکیت بھی رکھتی ہے اور یہ شوہر اور والد سے الگ ان سب کے مالکانہ حقوق رکھتی ہے ، اس کی ملکیت کی وہ بلا شرکتِ غیرے مالک ہے۔ اگر مرد عورت کو فائنینشِلی سپورٹ نہ کرے اور عورت اپنی ضرورت خود پوری کرے تو اس پر مرد کی اطاعت ساقط ہے ، جنسی ملاپ سے منع کرنے پر مرد عورت کی فائنینشل سپورٹ کو منقطع نہیں کرس سکتا۔ اسی طرح اسلام کے موقف کے مطابق مرد کے بھی حقوق ہیں جیسے کہ عورت اس جنسی ملاپ کیلئے منع نہیں کرے گی اور اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہیں نکلے گی وغیرہ۔ یہ مشترک حقوق ہیں۔
جہاں تک اس کی بات ہے کہ اسلام کی نگاہ میں مرد و عورت کی حیثیت کیا ہے ؟ کیا وہ قیمت ، مقام و حیثیت وغیرہ میں برابر ہیں؟ اس کا جواب ہاں میں ہے۔ اسلام کی نگاہ میں قدر و قیمت ، حیثیت اور فضیلت کا معیار واضح اور صریح موقف میں ” تقویٰ ” ہے۔ چنانچہ اسلام کی نظر میں مرد و عورت کے درمیان قدر و قیمت اور مقام و حیثیت و فضیلت کی برابری ، برتری یا کمتری کا موازنہ سرے سے ہی غیر منطقی اور باطل ہے۔ اس معاملے میں اسلام انسان کے بارے میں اپنا موقف قائم کرتا ہے کہ وہی انسان سب سے بافضیلت اور زیادہ قدر و قیمت کا حامل ہے جو تقویٰ کے اعتبار سے بڑھ کر ہے چاہے وہ مرد ہے یا عورت۔ پس مثلاً مرد و عورت میں اگر عورت مرد سے زیادہ باتقویٰ ہے تو وہ مرد سے زیادہ قدر و قیمت فضیلت رکھتی ہے اور یہی معاملہ مرد کا بھی ہے۔
اوائلِ انسانی تاریخ میں مرد عورت میں کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں تھا جب زراعت دریافت نہیں ہوئی تھی ، مرد عورت پر کوئی پلس پوائنٹ نہیں رکھتا تھا ، عورت کی حیثیت اور مقام بلکل مرد کے برابر ہی تھا۔ اس کے بعد زراعت دریافت ہوئی تو اس کیلئے جسمانی قوت کی ضرورت تھی ، اور اس کی حفاظت کیلئے سماج کی ضرورت پڑی ، اور پھر سماجی ادارے اور ریاست وجود میں آئی۔ کاشتکاری ، خوراک کی حفاظت اور نگرانی وغیرہ کیلئے سارا رول مرد کا تھا ، عورتیں اس میں زیادہ دخیل نہیں تھیں چنانچہ معاشرے پر مرد کا غلبہ ہو گیا۔ اسلام نے مرد اور عورت کے جو حقوق مقرر کیے ہیں اس میں مرد کے غلبے کی نفی کر کے طاقت کے توازن کو مرد کے پلڑے سے لے کر برابری کی بنیاد پر مرد و عورت میں کچھ اس طرح تقسیم کر دیا کہ اب نہ مرد غالب ہو سکتا ہے نہ ہی عورت ، بلکہ ان دونوں کو ساتھ مل کر ہی چلنا پڑتا ہے , چونکہ انسانی کے اندر بےنیازی دراصل انانیت کا بیج ہے ، اور جب وہ محتاج میں نہیں رہتا تو سرکش ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اسلام نے مرد و عورت کو ایک دوسرے کا نیاز مند اور محتاج بنا دیا تاکہ یہ ایک دوسرے پر غلبہ نہ حاصل کر سکیں ، اب گویا یہ ریل کی دونوں پٹریاں ہیں جو ایک دوسرے سے جدا ہیں لیکن ایک دوسرے کے بغیر کسی کام کی نہیں ہیں۔ مثلاً مرد کے فائینینشل سپورٹ کی صورت میں عورت پر مرد کی اطاعت واجب ہے لیکن اگر مرد یہ سپورٹ فراہم نہ کرے تو مرد کی اطاعت ساقط ہو جاتی ہے ، عورت کو تعلیم اور سپورٹ نہ ہونے کی صورت میں خود کام کر کے اپنی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کیلئے مرد کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے لیکن گھر سے باہر نکلنے کیلئے وہ مرد کی اجازت لے گی۔ عورت پر مرد کے گھر کا کام فرض نہیں ہے اور مرد اسے اس پر مجبور نہیں کر سکتا لیکن پھر عورت ضرورت کے سوا کسی خواہش کا حق کھو دے گی ، مرد عورت سے تندی و تیزی سے بات نہیں کر سکتا اور عورت مرد کو جنسی ملاپ کیلئے منع نہیں کر سکتی ، لیکن منع کرنے کی صورت میں مرد اس کا نان نفقہ روک نہیں سکتا ، مرد عورت کو جاب کرنے سے اس طرح روک سکتا ہے کیونکہ گھر سے نکلنے کیلئے مرد کی اجازت لازمی ہے لیکن اگر شادی سے پہلے یہ طے ہوا تھا کہ عورت جاب کرے گی تو مرد جاب سے روکنے کا حق کھو دیتا ہے اور یوں جاب کی غرض سے گھر سے نکلنے سے روک بھی نہیں سکتا وغیرہ۔ چنانچہ اس طرح نہ مرد غالب رہتا ہے نہ ہی عورت غالب رہتی ہے۔
۔
۔
مرد و عورت کے حقوق میں اسلام نے جو تفریق رکھی ہے اس کی ایک وجہ تو اوپر بیان ہو چکی کہ اسلام دونوں میں سے کسی ایک کو دوسرے پر غلبہ نہیں دینا چاہتا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مرد و عورت میں فطرتاً حقیقی تفریق پائی جاتی ہے جیسے کہ جسمانی ، روحانی ، نفسیاتی یا جذباتی وغیرہ۔ چنانچہ اسلام فطرت کو نظر انداز نہیں کرتا بلکہ اس کا احترام کرتا ہے اور اسی کے حساب سے دونوں کی ذمہ داریوں اور فرائض کا تعیُن کرتا ہے۔ چنانچہ فطری تفریق کے ساتھ مرد و عورت کی صلاحیتوں میں بھی تفریق پائی جاتی ہے ، کچھ صلاحتیں مرد کے پاس ہیں جیسے کہ جسمانی قوت ، یا ریشنیلٹی کی طرف مائل تفکر اور کچھ صلاحیتیں عورت کے پاس ہیں جیسے کہ جذباتی ذہانت اور لطافت و ظرافت اور مرد کی قوت کو جِلا دینے کیلئے حُسن و جمال کا لُطف وغیرہ ، البتہ یہ واضح رہے کہ یہاں حُسن و جمال سے مراد فیشیئل بیوٹی facial beauty یا فِگر figure نہیں ہے , بلکہ یہ دونوں چیزیں حُسن کا ایک حصہ ہیں ، گویا اگر حُسن ایک سمندر ہو اور اس پر ایک مچھر بیٹھ جائے اور اس مچھر کے پٙر کے اوپر ایک قطرہ پڑے تو یہ دونوں قطرہ ہیں اور حُسن سمندر ہے۔ انسان دونوں طرح کی صلاحیتوں کا محتاج ہیں یعنی کہ جو صلاحتیں مرد کے پاس ہیں عورت ان کی محتاج ہے اور جو صلاحیتیں عورت کے پاس ہیں مرد ان کا محتاج ہے۔ چنانچہ یہاں بھی مرد و عورت کو برابر قوت دے کر دونوں کا پلڑا بیلینس رکھا گیا ہے اور دونوں کے غلبے کی راہیں بند کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان کو ایک دوسرے کا محتاج اور نیاز مند بنایا گیا ہے۔ ان کو ایک جیسی صلاحیتیں نہ دینے کے پیچھے اور ایک دوسرے کا صلاحیتوں کے باب میں محتاج بنا دینے کے پیچھے کیا وجہ ہے یہ ہمارے موضوع سے خارج بات ہے۔ لیکن اس کا درست سوال یوں ہو گا کہ مرد و عورت کا ایک ہی طرح کا کیوں نہیں بنایا گیا۔
۔
۔
مرد و عورت سے متعلقہ کسی بھی فیصلے کے بارے میں ہمیں مندرجہ بالا حقائق کو مدِ نظر رکھنا ہو گا ، کیونکہ کسی بھی چیز کے بارے میں کوئی امر انجام دینے سے پہلے ہمیں پہلے اس چیز کو سمجھنا ہو گا کہ وہ کیق ہے۔ مثلاً اگر ہم یہ نہ جانتے ہوں کہ انسان کیا ہے ، اس کی فطرت کیا ہے ، اس کی فطرت کیا تقاضے پیدا کرتی ہے وغیرہ تو ہم اس جانکاری کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ انسان کا نقصان ہی کریں گے مثلاً کوئی انسان کے لیے گھر بنانا چاہے اور مرغیوں کا پنجرہ بنا کر کہے کہ یہ میں نے انسان کیلئے گھر بنایا ہے ، کوئی جب اسے دیکھے گا تو وہ اس بنانے والے سے پوچھے گا کہ کیا تم انسان کو جانتے بھی ہو ؟ کہ وہ کیا ہے کیسا ہے اس کا قد کاٹ کیا ہے اس کے جسم اور نفسیات اور دیگر ضروریات کیلئے کیسا گھر موزوں ہے ؟ یہی معاملہ مرد و عورت کے بار بھی پیش آئے گا ، انسان کے بعد ہمیں مرد اور عورت دونوں کو الگ الگ سمجھنا ہوگا کہ یہ کیا ہیں کیسے ہیں ان فطرت و نفسیات کیا ہیں ان میں تفریق کیا ہے ان کی طلب رحجانات اور دیگر ضروریات کیا ہیں وغیرہ۔ ورنہ کسی بھی جنس کے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے ہم ان کا نقصان ہی کریں گے۔
ہم عورت مارچ کے متعلق اسی حوالے سے مختصراً تذکرہ کرتے ہیں اور ایک مثال سے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کچھ عورتیں ایک بینر اُٹھا کر سڑک پر آتی ہیں جس پر لکھا ہے کہ ” میرا جسم میری مرضی “۔ پاکستانی سماج کی اکثریت نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ یہ عورتیں دراصل یہ چاہتی ہیں کہ ان کو ان کے جسمانی پلیژرز کی تکمیل کی مکمل آزادی دی جائے اور یہ جس کے ساتھ چاہیں اپنی مرضی سے تعلق قائم کریں اور جس کو چاہیں رد کر دیں ، یا مثلاً یہ عورتیں نکاح کے سوشل کانٹریکٹ اور سماجی ادارے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ بظاہر نعرے سے ایسا ہی لگتا ہے لیکن تقریباً سب ہی کو اندر سے یہ معلوم ہے کہ اس نعرے کا یہ مطلب و مفہوم نہیں ہے۔ عورت کو چھوڑئیے ، آپ اپنی ذات کی مثال لیجیے کیا آپ کسی بھی دوسرے انسان کو اپنے جسم یا وجود پر ” کُل اختیار ” دینا چاہیں گے ؟ اس کا سیدھا مطلب غلامی اور عبودیت ہو گا ، اور جس کو اختیار دیا ہے اس کو آپ نے آقا اور معبود تسلیم کر لیا ہے۔
ہم اس پر اسلامی نقطہ نظر دیکھتے ہیں۔ اسلام کا موقف یہ ہے کہ انسان ” عبد ” ہے۔ عبد غلام کو ہی کہتے ہیں لیکن یہ ایک اور طرح کا غلام ہے۔ عبد اس غلام کو کہتے ہیں جس کا اپنا جسم اپنا وجود حتیٰ کہ کوئی بھی شے اس سے متعلقہ یا اس سے غیر متعلقہ اس کی ملکیت نہ ہو۔ چنانچہ اسلام کے موقف کے مطابق انسان نے اپنا وجود بشمول جسم خریدا نہیں ہے ، نا ہی خود تخلیق کیا ہے کہ اس کا اِس پر حقِ ملکیت قرار پائے ، پس انسان مکمل طور پر خدا کی ملکیت ہے ، یہی وہ عِلت ہے جس کی بنیاد پر انسان عبد اور خدا معبود ہے۔ پس اب خدا نے انسان کو اس کا وجود بطورِ امانت استعمال کرنے کی اجازت دی ہے اور اس کیسے اور کتنا استعمال کرنا ہے اس کی بھی حدود مقرر کی۔
۔
یہاں تک ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عورت کے پاس اپنے جسم کا محدود اختیار بطورِ امانت موجود ہے۔ چنانچہ جیسا اس اعتبار سے اسلام اس نعرے کا حمایت کار ہے کہ عورت کا جسم اس ہی کی مرضی چلے گی ، لیکن اسلام ” مٙن مرضی ” کا حمایت کار نہیں ہے کیونکہ کُل حقِ ملکیت نہیں دی گئی بلکہ بطورِ امانت کچھ شرط و شرائط کے ساتھ دی گئی ہے۔ یہاں سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہو جاتی ہے کہ اسلام کسی بھی انسان کے جسم پر کسی اور انسان کا تسلط ، آقائی ، اور حقِ ملکیت کو تسلیم نہیں کرتا چنانچہ عورت اپنے جسم پر امانت کی نسبت سے حقِ ملکیت رکھتی ہے۔ یعنی کہ اگر عورت مارچ میں شریک خواتین اس پہلو سے میرا جسم میری مرضی کہتی ہیں تو خوب ہے وہ اپنے موقف میں اسلام کے معیار کے مطابق درست ہیں۔ لیکن اگر اس نعرے کا تعلق بلا شرط و شروط جسمانی آزادی ہے تو اسلام اس کی حمایت نہیں کرتا ، نہ خود عقل اس کا حمایت کار ہے۔
۔
۔
اس کے علاوہ اس نعرے کا مفہوم یہ ہے کہ عورت کے جسم سے متعلق جو فیصلے ہیں اس میں عورت کو اختیار ہونا چاہیے اور اس میں عورت پر مرد کا تسلط نہیں ہونا چاہیے جیسے کہ بہت سارے افراد نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مثلاً کتنے بچے ہونے چاہیں ، کب ہونے چاہیں ، ابارشن ہونا چاہیے یا نہیں ، نس بندی ہونی چاہیے یا نہیں ، عورت کا جسم موٹا ہونا چاہیے یا پتلا ، اس کا فِگر کیسا ہونا چاہیے ، اس نعرے کا پسِ منظر مسلسل ریپ کے واقعات کا بڑھنا بھی ہے ، ریپ کی بنیاد اسی پر قائم ہے کہ مرد شدید جنسی خواہش رکھتا ہے اور وہ کسی عورت کو دیکھتا ہے تو اس کے جسم کے حقِ ملکیت ، اس کی مرضی وغیرہ کو مکمل نظر انداز کر کے بزورِ قوت و قدرت گویا عورت کے جسم کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ کر اس سے لذت لیتا اور اس میں تصرف کرتا ہے۔
پس عورت یہاں کہتی ہے کہ یہ میرا جسم ہے اور اس پر میری مرضی ہونی چاہیے۔ چنانچہ میرا جسم میری مرضی کا تعلق مندرجہ بالا چیزوں سے ہے۔ لیکن اس نعرے کا ایک اور پہلو بھی نکل سکتا ہے جیسا کہ میرا جسم میری مرضی یعنی عورت جس کے ساتھ چاہے ، جسمانی تعلق قائم کرے ، جیسا لباس چاہے زیب تن کرے یا سرے سے ٹو پیس میں آئے ، شوہر کو جسمانی تعلق کیلئے منع کرے اور اس کو اپنا حق سمجھے اور شوہر کے منع نہ ہونے پر اس کو بھی مارٹیل ریپ سمجھے وغیرہ۔ اس اس نعرے سے عورت مارچ میں شریک خواتین کا مطلب یہ ہے تو اسلام اس کی حمایت نہیں کرتا۔ کیونکہ جیسا کہ تذکرہ ہوا اسلام نے انسان کو محدود اور شرائط کے ساتھ اپنے وجود کا مالک قرار دیا ہے چنانچہ اگر وہ اس کو کہیں استعمال کرنے کا کہے یا اس سے روکے تو یہ ایک منطقی بات ہے کیونکہ انسان اپنے وجود کا مالک نہیں ہے۔ پس اگر اسلام اسی حقِ ملکیت کا استعمال کرتے ہوئے عورت کو پابند کرے کہ وہ جسمانی ملاپ میں شوہر کو منع نہیں کر سکتی تو یہ عورت پر ظلم نہیں ہے کیونکہ بہرحال بنانے والا اپنی بنائی چیز کو سب سے بہتر جانتا ہے۔ یا عورت کا لباس و افعال وغیرہ میں پابند کیا جانا بھی اسلام کا ظلم نہیں قرار پائے گا ، یا جسمانی تعلق کی کُل آزادی وغیرہ۔ البتہ حقِ ملکیت والی دلیل فقط خدا پرستوں کیلئے ہے ، اس کی عقلی توجیح بھی ممکن ہے کہ کیوں عورت اپنے شوہر کو منع کرنے کا حق نہیں رکھتی یا لباس کا خیال رکھے گی یا جسم کو ایک سوشل کانٹریکٹ کے بعد ہی اپنے شوہر کے سپرد کرے گی۔باس کے جو عقلی دلائل ہیں ان کی بنیاد فطرت ، دونوں کی نفسیات اور سماج و معاشرے سے ہے۔ لیکن یہ ہمارے موضوع سے خارج ہے۔ اس نعرے کی طرح دہگر نعرے جو بظاہر قبیح ہیں ، اپنے اندر اسی قسم کے مفاہیم کے حامل ہیں۔
۔
لیکن ہمیں یہ بات قبول کرنی ہو گی کہ یہ نعرے پاکستانی سماج میں اخلاقً ناقابلِ قبول اور مشتعل کرنے والے ہیں ، اگرچے ان یا مفہوم بلکل درست ہی کیوں نہ ہو ، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ یہ نعرے اس سماج کا اصل چہرہ بھی ہیں چونکہ اکثریت کا ان نعروں سے جسمانی آزادی کا معنی لینا اس سماج اور معاشرے کی اجتماعی ذہنیت کا عکاس ہے اور یہ نعرے اسی قبیح اجتماعی ذہنیت پر ایک طنز ہے۔
عورت مارچ کی ایک نمائندہ خاتون اور حال ہی میں معروف ہوئے سکرِپٹ رائٹر کے درمیان اسی مارچ کے حوالے سے ایک انٹرویو ہوا۔ انٹرویو میں مصنف نے تحمل سے خاتون کی بات سُنی اور جب مصنف کی باری آئی تو لبرلزم کے گروہ سے متعلق ہونے کا دعویٰ کرنے والی خاتون نے لبرلزم کے نظریے کے مطابق ڈائیلاگ کے اصول و ضوابط کو روند دیا۔ ابتداء عورت کی جانب سے ہوئی۔
اس کے بعد مرد مصنف نے تلخ لہجے میں اس عورت کو منع کیا جس پر عورت نے میرا جسم میری مرضی کا نعرہ شروع کیا جو عورت کی دوسری غلطی تھی۔ یہاں تک غلطی عورت کی ہی تھی۔ واضح رہے کہ ہم اس پر بات نہیں کر رہے کہ نظریات میں ان دونوں میں سے کون درست ہے ، ہم ڈائیلاگ کے اصول و ضوابط کی بات کر رہے ہیں۔ عورت کے نعرے سے مرد مصنف میں اشتعال آیا اور اس نے کچھ جملے کہے جن کا مفہوم یہ تھا کہ مثلاً تمہارا جسم ایسا پُرکشِش نہیں ہے کہ کوئی مرد اس کی طرف مائل ہو یا مثلاً مرد اس پر تھوکتا بھی نہیں ہے وغیرہ۔ یہاں تک عورت دو غلطیاں کر چکی تھی اور منطقی طرزِ گفتگو کی دھجیاں اُڑا چکی تھیں ، البتہ ردِ عمل کے طور پر عورت کے جسم پر کامنٹ کر کے مرد مصنف نے عورت کی غلطیوں کے سامنے احتجاج کا جواز ہی کھو دیا ، بھلے ہی وہ عورت غلط ہی کیوں نہ تھی یا یہ مرد درست ہی کیوں نہیں تھا۔ اب وہ مصنف یہ حق کھو چکا تھا کہ یہ عورت فلاں بات کر رہی تھی یا فلاں کام کر رہی تھی یا اشتعال دلا رہی تھی ، بھلے ہی مصنف عورت مارچ کے متعلق اپنے نظریات میں مکمل درست ہی کیوں نہ تھا ، وہ اخلاقی طور پر خود کو تباہ کر چکا ، آپ گالی کے جواب میں گالی دیں گے تو دوسرے کی گالی کو غلط کہنے کا حق اور جواز کھو دیں گے۔ یہاں پر ایک اور پہلو بھی اہم ہے ، اس مصنف نے میرا جسم میری مرضی کے نعرے سے جو معنی و مفہوم اخذ کیا یعنی کہ یہ اپنے جسمانی خواہشات کی تکمیل میں تمام رکاوٹوں سے آزادی چاہتی ہے۔ وہ اس مصنف کے متعلق بہت کچھ بتاتا ہے ، اور اس مصنف کو بھی باقی معاشرے کی تاریک اور بےشعور ذہنیت کی صفوں میں کھڑا کر دیتا ہے۔ یہ عورت لبرلزم کی دنیا میں انتہا پسند اور یہ مرد سماجی پہلو سے انتہا پسند ہے۔ دونوں میں سے ایک بھی درست ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
۔
لیکن ایک اور اہم بات بلکہ سب سے اہم بات ، جب عورت اور مرد کی برابری کا نعرہ مغربی نظریاتی گروہوں کی طرف سے لگایا جاتا ہے تو یہ دراصل عورت کی سب سے بڑی توہین و تذلیل ہے ، عورت کو مرد کے برابر ہونا چاہیے ، گویا عورت کا معیار ” مرد ” ہے۔ یہ ایک تو بذاتِ خود عورت پر مرد کی فضیلت کو قبول کرنا ہے اور دوسرا عورت سے اس کی نسوانی شناخت کو مسخ اور فراموش کرنا ہے ،
عورت کو عورت کی طرح ہونا چاہیے نا کہ مرد کی طرح , عورتوں کے حقوق کا مطالبہ مرد کی برابری کی بنیاد پر نہیں بلکہ خود عورت کے جائز فطری مطالبات کی تکمیل کا ہونا چاہیے۔
آخر میں ایک اور وضاحت اہم ہے جب ایسا کوئی مطالبہ سامنے آتا ہے تو فوراً اسلام کو اس کے مقابل لا کر کھڑا کیا جاتا ہے ، ہمیں بہت سارے ممکنات کیلئے اپنے ذہن وسیع اور کُھلے رکھنے پڑیں گے ، عورت مارچ کا مطالبہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسلام نے جو حقوق عورت کو دئیے ہیں تو وہ حقوق عورت تک پہنچے کیوں نہیں ؟
کون رکاوٹ بنا ہوا ہے ؟ ریاست ؟ سماج ؟ مذہبی ٹھیکے دار ؟ یا کوئی اور حقیقی مسئلہ ہے ؟ ہم نہ عورت مارچ کی حمایت کرتے ہیں ، نہ اس کے مخالف گروہ کی ، بلکہ ہم انویٹیگیٹ کرتے ہیں اور درست بات کی حمایت کرتے ہیں چاہے وہ جس بھی گروہ کی جانب سے ہو
، یہ لازم نہیں ہے کہ کوئی گروہ مکمل طور پر غلط ہو یا مکمل طور پر درست ہو ، ہمیں مغربی اور دین دشمن نظریات کی یلغار کو بھی نظر میں رکھنا ہو گا اور خدا کے نام پر ابلیسیت کے تسلط کو بھی نگاہ میں رکھنا ہو گا۔
جسٹن سنو ۔ ۔ ۔













