پکڑے گئے لوگ پوچھ رہے ہیں کون کہہ رہا ہے کہ ہمیں جانے دو ؟ ہمارا خیال ہے کہ اگر کوئی یہ سہولت مانگ رہا ہے تو ہماری حکومت کو اب سب کو بتانا چاہئے کیونکہ ہم نے ماضی میں ان اہم باتون کو چھپا چھپا کر ہی بے ایمانوں کو اتنی ترقی کرنے اور طاقت پانے کا موقعہ دیا ہے ۔ہماری سوچ ہے کہ اگر اب جو بھی کوئی ایسی بات کرے اگر عوام کے سامنے رکھ دی جائے تو یہ لوگ اپنی باتوں میں خود ہی منکشف ہو جائینگے ۔ہم نے ان برائیوں پر پردہ ڈال ڈال کر ان سانپوں کی پرورش کی ہے اب انہیں دودھ پلانا چھوڑین اور نام لیں تاکہ اگے کسی کو ہمت نہ ہو کوئی بھی غیر قانونی کام کرنے کی ۔نہ جعلی اکا ئونٹ بنانے کی نہ جعلی بینک کھولنے کی ۔
آج کل ہر قسم کا سودا ملک میں بیچا جا رہا ہے ۔اکثر لگتا ہے کہ بہت کچھ ہو رہا ہے ،کچھ چینل جو عوام کی بات کرتے ہیں اور لگی لپٹی نہیں رکھتے وہ جہاں نئی حکومت کی کمزوریوں کو اُ جا گر کر رہے ہیں ۔اُن پر بات کر رہے ہیں ۔وہیں وہ اُن باتوں کا بھی زکر کر رہے ہیں جو حکومت ملک کے لئے بڑی تندہی سے کر رہی ہے ۔ملک کو آگے لے جانے کے لئے ملک میں ترقی اور تعمیری اصلا حات کے لئے ۔۔لیکن کچھ چینل اس معامے میں بالکل خاموش ہیں وہ صرف مخالف باتوں اور کمزوریوں کو اُچھالتے نظر آتے ہیں ۔ہمیں یہ سوچ کر دُکھ ہوتا ہے کہ ملک سب کا ہے چاہے وہ کسی کا مخالف ہو یا موافق ہمیں یہ یقین ہے کہ کہ ملک میں رہنے والا ہر شخص اپنے ملک کی ترقی اور تعمیر چاہتا ہے ۔لیکن کچھ لوگ مُخالفت کو ہر صورت روز مرہ کی باتوں کا حصہ سمجھتے ہیں بغیر یہ سوچے کہ ملک ہے تو ہم سب ہیں ۔ ملک میں اگر افرا تفری ہوئی تو کوئی بھی سکون سے نہیں ہوگا ۔
مشکل وقت ہے اور اس مشکل کو جتنا پچھلے اقتدار میں رہے لوگ جانتے ہیں اتنا شاید کوئی بھی نہ سمجھتا ہو ۔کیونکہ خرابی اُن سب کی ہی لگائی ہوئی ہے جو سالوں اس ملک کی تقدیر سے کھیلتے رہے اور اب بھی صرف اپنے بچاؤ کی بات کرتے ہیں ۔پیسہ ابھی تک کسی نے بھی نہ لو ٹایا ۔اور نہ ہی شاید کوئی پیسہ واپس کرے کیونکہ جب نیب کہے گو گل کر لو تو سب کچھ سمجھ میں آجاتا ہے ۔یہ کہنا کہ نیب اب ٹھیک ہے ہمیں اچھا لگتا ہے مگر یہ باتیں ہماری خود ہی نفی کرتی ہیں تو کسے دوش دیں ۔نیب میں قانون سازی یہ ہونی چاہئے کہ جتنی جلدی ممکن ہو مقدمات کو حل کیا جائے اور انصاف کے ساتھ سزا دی جائے ،کیونکہ جس طرح سات سات اآٹھ اآٹھ مہینوں تک لوگ نیب کے ملزم رہتے ہیں لیکن کوئی بھی ثبوت سامنے نہیں لایا جاتا یہ دلوں میں شک پیدا کرتا ہے ،ایک وقت مقرر کرنا چاہئے کہ کس قسم کے کیسوں میں کتنا وقت لگے گا تاکہ اداروں پر جو اُنگلیاں اُٹھتی ہیں وہ نہ اُٹھیں ۔کوشش ہونی چاہئے کہ حساس اور ایسے مقدمات جن کا تعلق ملک اور عوام سے ہے اُنہیں جتنی جلد سامنے لایا جائے اتنا ہی اس ماحول میں بہتر ہے ۔کیونکہ زیادہ تر سوچ یہ ہی ہے کہ اگر اب بھی کچھ نہ کر سکے تو پھر کبھی نہ کر پائینگے ۔
ہم تو کبھی کبھی اس قدر حیران ہوتے ہیں کہ کتنا امیر ملک تھا جسے ہم نے اپنی بے وقوفی اور اپنی ہوس کا شکار کر دیا، کہ ہمیں تو انکی دولت جو بتائی جاتی ہے گننے کی بھی مشکل ہوتی ہے ۔اور وہ حربے جو دولت حاصل کرنے کے لئے اختیار کئے گئے اُن پر تو کوئی پوچھ گچھ ہونی چاہئے۔ کہ وہ ادارے جس میں بینک بھی شامل ہیں اور باقی سب بھی کس طرح خاموش رہے ۔کیوں کسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی کہ کیا ہورہا ہے ۔کیوں ملک میں کوئی شفاف نظام نہ بن پایا کیونکہ اشرافیہ بہت مظبوظ تھی یا ادارے کمزور سے کمزور کر دئے گئے ۔
ووٹ واقعئی عزت دئے جانے کے لئے ہے ۔لیکن کاش ہمارے بڑوں نے اسے عزت دی ہوتی ،اپنے عمل سے اپنے روئیے سے اپنی باتوں سے اپنے کردار سے ۔کیونکہ ووٹ وہ ڈالتا ہے جو ان پر یقین رکھتا ہے کہ یہ اقتدار میں آکر اُس کے مسائل کا حل نکالینگے ۔اُس کی زندگی میں آسانیاں پیدا کریں گے ۔لیکن وہ معصوم طبقہ جسے عوام کہتے ہیں اپنے ووٹ کو بے توقیر ہوتے دیکھتا بھی ہے اور برداشت بھی کرتا ہے ۔جب اُس کے قیمتی ووٹ کی قیمت ردی کے برابر بھی نہیں رہ جاتی ۔جب بڑوں کی چالاکیاں اُسے بے توقیر کرتی ہیں اور بے خوف ہو کر خود عوام ہی سے اُس پرچی کی عزت کی بات کرتے ہیں جو اُس نے اپنی عزت کے لئے انہیں دی ہوتی ہے ۔
آج کل بھی ہر طرف سے عجیب و غریب وا ویلا سنائی دے رہا ہے کوئی کہتا ہے مجھے اسپتال نہیں جانا مجھے جیل واپس بھیجو یہاں تک تو ہم بھی حق میں ہیں کہ اگر کوئی خطرناک تکلیف نہیں ہے تو علاج جیل میں بھی ممکن ہے ۔ہم سب کی صحت کے لئے دعا کرتے ہیں لیکن یہ کھلواڑ کیسا ہے کہ جیسے ہی بڑے پکڑ میں آتے ہیں اُن کی وہ بیماریاں جو کہیں سوئی ہوتی ہیں ایک دم جاگ جاتی ہیں اور پورا کا پورا ملک اُں کی بیماری کے نرغے میں پھنس جاتا ہے ۔جیسا کہ اُنکی سیکیورٹی کی وجہ سے اسپتالوں میں عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے ۔راستے بند کئے جاتے ہیں ،یہ خرچہ کس کے کھاتے میں جاتا ہے یہ بھی تو عوام ہی کا پیسہ خرچ ہوتا ہے ۔
ہم سب کو ہی سوچنا چاہئے کہ جو لوگ اقتدار میں رہ کر ہمیں کھوکھلا کر گئے وہ جیل میں رہ کر بھی ہمارے اوپر ہی بوجھ ہیں ۔کہتے ہیں پیسہ شاید ہی نکلوایا جا سکے؟ تو پھر یہ سارا ڈرامہ کس کھاتے میں جائے گا ۔ یہ ہمارے ملک کی روایت ہی نہیں رہی کہ کوئی بڑا پکڑا جائے اور اگر پکڑا بھی جائے تو اپنے شواہد خود سوئس سے بھی نکلوا لے اور بینکوں سے بھی سرے محل بھی بچا لے اور لندن کے اپارٹمنٹ بھی ۔ہم کتنے بے بس ہیں یہ سوچ کر ہمیں افسوس ہوتا ہے ۔کس طرح ہم صبر اور شکر کے ساتھ اب بھی ان تمام کے سامنے ہاتھ لپیٹے کھڑے ہیں کہ اآپ جس طرح چاہے بچ جائیں ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ہم شاید یہ مکڑی کا جال بھی نہیں توڑ سکتے جس کے سارے ثبوت عدلیہ سے باہر تو موجود ہیں لیکن عدلیہ میں نہیں ہیں ۔اُن کے سامنے کوئی یہ ثبوت لے ہی نہیں جاتا بلکہ ایسے کمزور دلائل دئے جاتے ہیں کہ بس !!!!!
وہ بیرونی طاقتیں جنہوں نے این اآر اِو دئے اآج کہتی ہیں ہم نے برا کیا ۔بھائی یہ اسلامی ملک اآپ سب کے لئے بھی اتنا ہی اہم ہونا چاہئے جتنے اآپ کے اپنے ملک کیونکہ اسلام زندہ ہی ہمارے ملکوں میں ہے اور یہیں سے پھیل بھی رہا ہے اپنی طاقت بنو سب اسلامی ممالک کو ایک ہونا چاہئے کرپٹ لوگوں اور اسلام اور اسکی اقدار کو نقصآن پہنچانے والوں کے خلاف ۔،ہم سب کو ہی اس سحر سے نکلنا چاہئے کہ شخصیات اہم نہیں ہیں ملک اہم ہیں، عوام اہم ہیں ،اُن کے مسائل اہم ہیں ۔اُنکی زندگی ۔اُن کی صحت اُنکی تعلیم اہم ہے ۔اُن کے لئے گھروں کی چھتیں اہم ہیں ۔کاش ہم اپنے غریب عوام کے لئے کچھ کر جائیں تو سب سے بڑی کامیابی ہوگی ۔کیونکہ یہ وہ طبقہ ہے جس نے ملک کےلئے جان بھی دی مال بھی دیا اپنی توانائیاں بھی دیں اور اس سے عشق بھی رکھتے ہیں ۔
اللہ مکیرے ملک کی حٍفظت فرمائے اآمین

SHARE

LEAVE A REPLY