تجزیاتی کالم: ظہران ممدانی کی فتح، صفدر ھمدانی

0
1157

عصرِ حاضر کی سیاست میں کسی بھی انتخابی کامیابی کو محض ووٹ کی جیت نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ ایک بیانیے کی قبولیت اور معاشرتی رویّوں کے بدلنے کا اشارہ بھی ہوتی ہے۔ ممدانی کی فتح ایسی ہی تبدیلی کی علامت ہے—ایک ایسی کامیابی جو روایتی سیاست کے شور سے بلند ہو کر ایک اجتماعی شعور کی بیداری کی گواہی دیتی ہے۔

ممدانی نے انتخابی مہم میں محض وعدے نہیں کیے بلکہ ایک فکری رخ متعین کیا۔ ان کا بیانیہ طاقت کے مراکز سے زیادہ عام شہری کی آواز پر قائم تھا۔ انہوں نے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ جب سیاست عوام کی ضرورتوں اور ان کے مسائل کا عکس بن جائے، تب ہی نظام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممدانی کی کامیابی صرف کسی جماعت کی جیت نہیں، بلکہ ایک جماعتی سوچ کی شکست ہے جو طویل عرصے سے سیاست کو چند مخصوص طبقات کی میراث سمجھتی آئی تھی۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ ممدانی نے اپنی سیاست کو تضادات کی جنگ کے بجائے مفاہمت اور مکالمے کی روشنی میں آگے بڑھایا۔ ان کے بیانات میں جارحیت کے بجائے عقل، انصاف اور معاشرتی توازن کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہی اس بیانیے کی قوت ہے جس نے عوام کو متاثر کیا۔

اس فتح کا مستقبل کیا ہوگا؟ یہ سوال اہم ہے۔ کیونکہ انتخاب جیتنا ایک مرحلہ ہے، جبکہ اصلاحات کا سفر ایک مسلسل جدوجہد۔ اگر ممدانی اپنے وعدوں کو عملی قدموں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو یہ فتح یقیناً نظام کی فکری تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ بھی محض ایک سیاسی واقعہ بن کر رہ جائے گی۔

تاہم فی الحال، یہ کامیابی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ عوام نے تبدیلی کا راستہ چن لیا ہے۔ اور یہی کسی بھی سیاسی سفر کی پہلی اور سب سے بڑی جیت ہوتی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY