بھانڈے قلعی کرا لو ، پرانے نویں بنا لو ، ممکن ہے یہ آواز آج بھی آپ کے کانوں میں رس گھولتی ہو مگر میری بد نصیبی کہ میں اس دور کو کافی پیچھے چھوڑ کر دور جدید میں داخل ہو چکا ہوں جہاں اسکولوں، کالجوں میں داخلے کا موسم شروع ہوتے ہی میرے کانوں میں جو آواز تواتر کے ساتھ رس گھولنے لگتی ہے وہ ہے ” اپنے اپنے بچے پڑھا لو ، نالائق کو لائق بنا لو ” مصروف شاہراہوں پر بڑے بڑے بل بورڈ ، مقامی اور قومی اخبارات میں پرکشش اشتہارات ، کیبل اور الیکٹرانک میڈیا پر زبردست تشہیر حتی کہ بچوں کو لبھانے اور والدین کو رام کرنے کے لئے آپ کے گھر آمد ، کوئی ایسا طریقہ نہیں جس سے اجتناب برتا جاتا ہو –
بھانڈے قلعی کرا لو کی آواز لگانے والے تو پرانے برتن قلعی کر کے واقعی نئے بنا دیا کرتے تھے مگر نالائق کو لائق بنانے کا دعوی بس نرا دعوی ہی ہے اس لئے کہ ایک چھوٹا سا نجی تعلیمی ادارہ درویش بھی 1998 سے چلا رہا ہے اور تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بچہ نہ تو مار سے پڑھتا ہے اور نہ ہی پیار سے وہی بچہ پڑھتا ہے جس میں پڑھنے کی لگن ہوتی ہے نالائق کو آپ دنیا کی اعلی ترین تعلیمی درس گاہ آکسفورڈ میں بھی داخل کروا دیں تو بصد مشکل تھرڈ ڈویژن میں ہی ڈگری حاصل کر پائے گا –
1980 کہ دہائی میں خود رو جھاڑیوں کی مانند اگنے والے نجی تعلیمی اداروں نے جہاں کروڑوں بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے وہیں کچھ تعلیم فروش مافیا نے اس مقدس پیشے کو بدنام کرنے میں بھی انتہائی کلیدی کردار ادا کیا ہے اور تاحال کر رہے ہیں –
گلی محلے کے تین تین چار چار کمروں پر مشتمل یہ اسکول، کالج حتی کہ یونیورسٹیاں تک داخلوں کے موسم میں بلڈنگ کی لیپا پوتی کر کے پرنسپل کے دفتر کو چمکا کر ایسی دلفریب اور دلکش کڑکی لگا کر بیٹھتے ہیں کہ والدین بے چارے ان کے فریب میں آئے بغیر رہ نہیں سکتے معصوم والدین پرنسپل کے دفتر میں آویزاں علاقے ، ضلعے ، صوبے بلکہ ملکی سطح کی انتہائی اہم شخصیات کی پرنسپل کے ساتھ تصاویر کے سحر میں ایسے ڈوبتے ہیں کہ پھر جب تک بچے اس ادارے میں پڑھتے رہتے ہیں والدین غوطے ہی کھاتے رہتے ہیں –
دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ کسی بھی بچے کے والدین سے پوچھ لیں صاحب آپ نے ادارے کے سربراہ سے یہ پوچھا کہ کیا آپ کا ادارہ رجسٹرڈ ہے تو فورا جواب دیں گے ضرورت ہی محسوس نہیں کی ضلعی چیف ایجوکیشن آفیسر کی پرنسپل کے ساتھ تصاویر ان کے سر پر آویزاں تھی آپ ان کی سادگی پر قربان جاتے ہوئے مزید گستاخی کیجیئے اور پوچھیئے صاحب ادارہ ایجوکیشن بورڈ کے ساتھ الحاق شدہ تو ہے نا جھٹ سے جواب ملے گا بالکل ہو گا جی اس لئے کہ چئیرمین بورڈ کی پرنسپل کے ساتھ چائے پیتے ہوئے تصویر پرنسپل نے خود مجھے دکھائی تھی اب آپ ان کو چالاک اور اپنے آپ کو سادہ ظاہر کرتے ہوئے معصومیت سے پوچھیئے یقینا آپ نے رجسٹریشن اور الحاق کے سرٹیفیکیٹ تو ضرور دیکھے ہوں گے طنزیہ قہقہہ لگا کر بولیں گے آپ بھی بہت بھولے ہیں تصاویر زیادہ اہمیت رکھتی ہیں یا کاغذ کے پرزے ، اب کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا ؟ –
لو جی جب ہم ہی نے بتلانا ہے تو ہم ہی سے سن لیں اگر آپ نے صرف اور صرف اعلی حکام کی ادارے کے سربراہ کے ساتھ تصاویر سے متاثر ہو کر ادارے کی محمکہ تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن ، کسی تعلیمی بورڈ یا یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کی دستاویزات دیکھے بغیر اپنے بچے (خصوصا بچیاں ) داخل کروا دیں تو سمجھ لیں کہ آپ نے اپنے لئے ایک عذاب مسلسل کے معاہدے پر دستخط کر دیئے جوں جوں وقت گزرتا جائے گا پوشیدہ اخراجات آپ کے سامنے آنے لگیں گے خصوصا امتحانات کے نزدیک آتے ہی جب رجسٹریشن کا عمل آغاز ہو گا تو آپ کے علم میں یہ بات آئے گی کہ رجسٹرڈ تعلیمی اداروں کے مقابلے میں یہ غیر رجسٹرڈ شدہ ادارے آپ سے تین گنا زیادہ فیس چارج کر رہے ہیں اس لئے کہ ان تعلیم فروشوں نے آپ کے جگر کے ٹکڑوں کو آگے کسی اور ادارے کے پاس فروخت کر دینا ہے یعنی بچہ پڑھتا تو غیر رجسٹرڈ ادارے میں رہا مگر بورڈ یا یونیورسٹی کے امتحان کے لئے اس کا داخلہ کسی اور رجسٹرڈ ادارے کی طرف سے بھیجا جائے گا یوں دونوں مکروہ ادارے بچوں کی خرید و فروخت کا عمل کرتے ہوئے آپ کو نچوڑ کے رکھ دیں گے کہ خرچہ سارا آپ کو برداشت کرنا پڑے گا –
تعلیمی بورڈ اور یونیورسٹی کا واضح قانون ہے خصوصا بچیوں کے لئے کہ ان کا امتحانی سینٹر ان کی اپنی تحصیل میں یا زیادہ سے زیادہ 10 کلومیٹر کے فاصلے تک بنایا جا سکتا ہے مگر غیر رجسٹرڈ اور غیر الحاق شدہ ادارے ممکن ہے کہ آپ کے بچوں کو دوسری تحصیل کے کسی رجسٹرڈ ادارے کے پاس فروخت کر دیں اب ذرا فرض کریں کہ آپ کا تعلق تحصیل کلر سیداں سے ہے آپ کی ایک بچی کا امتحانی سینٹر کہوٹہ میں بن گیا اور دوسری کا گوجرخان یا راولپنڈی میں اور آپ اتفاق سے اکیلے ہیں تو کیسے دونوں بچیوں کو بروقت امتحانی سینٹر پہنچائیں گے تعلیم دوست کے روپ میں یہ تعلیم دشمن مافیا ابتداء ہی سے یہ گھناؤنا کھیل کھیلتا چلا آ رہا ہے مگر معصوم والدین اب بھی ان کے فریب میں پھنستے چلے جاتے ہیں –
گذشتہ دنوں ہمارے ایک جاننے والے اصلی اور سچے تعلیم دوست ادارے کے سربراہ سے ایک تعلیم دشمن مافیا کے رکن نے ملاقات کی اور انہیں اپنے جال میں پھنسانے کے لئے ترپ کا پتا پھینکا کہ صاحب دوستی کے ناطے آپ کے ادارے کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہوں خواہش ہے کہ آپ کے ادارے کا چہار سو ڈنکا بجتا سنائی دے میرے پاس آٹھ دس بہت ذہین بچیاں ہیں اگر آپ اپنے ادارے کی طرف سے ان کا داخلہ یونیورسٹی میں بھیج دیں گے تو یقین کریں وہ بچیاں پورے ضلع میں ٹاپ کر کے آپ کے ادارے کو چار چاند لگا دیں گی اس شریف آدمی نے پوچھا مگر اس کے عوض مجھے کرنا کیا ہو گا ؟ تو وہ شاطر شخص بولا کچھ زیادہ نہیں بس فی بچی پندرہ ہزار روپے مجھے دینے ہوں گے اور ان کی داخلہ فیس بھی آپ کو اپنے پلے سے ادا کرنا پڑے گی اس شریف شخص نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا میری توبہ نہ تو آج سے پہلے ایسا کام کیا اور نہ ہی آئیندہ ایسا کرنے کا ارادہ ہے ہم اللہ کے فضل سے اپنے بچوں پر محنت کرتے ہیں اور وہ ہمیں ہر سال بہترین رزلٹ دیتے ہیں-
توقع ہے کہ اس تحریر کے بعد محترم والدین بھی اپنی آنکھیں کھولیں گے اور محکمہ تعلیم کے افسران بھی ہر ایرے غیرے کے ساتھ تصاویر اور سیلفیوں سے پرہیز کرتے ہوئے تعلیم جیسے مقدس پیشے کو بدنام کرنے والے ان لٹیروں سے اس شعبے کو پاک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے ورنہ ہمارے طلباء اور طالبات اسی طرح ایک ادارے سے دوسرے ادارے کو فروخت ہوتے رہیں گے…













