نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا جکہ حملہ آوروں کا مقصد مجھے لوٹنا نہیں بلکہ تشدد کا نشانہ بنانا تھا۔ دو افراد اچانک پیچھے سے حملہ آور ہوئے اور تشدد شروع کر دیا۔
ڈاکٹر عدنان نے بتایا کہ شام کو چہل قدمی کیلئے ایک ہی راستہ استعمال کرتا ہوں۔ حملہ چونکہ پیچھے سے ہوا اور میں گر گیا، اس لئے حملہ آوروں کی شکل نہ دیکھ سکا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے پولیس کو قطعاً یہ نہیں کہا کہ میرا پرس چھینا گیا ہے۔ میرے پاس نقد رقم کے علاوہ دو موبائل فون بھی تھے۔ علم نہیں کہ پولیس کو “ڈکیتی” کی خبر کہاں سے ملی؟ پولیس پر واضح کر دیا ہے کہ حملہ آوروں کا مقصد مجھے لوٹنا نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے مجھے ہدف بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس سے درخواست کی ہے کہ علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹج حاصل کرکے تحقیقات کرے۔
نواز شریف کے ذاتی معالج نے کہا کہ حملہ آور تقریباً دو منٹ تک مجھے تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ ایک حملہ آور کے پاس چھتری تھی جو مجھے مارتے مارتے ٹوٹ گئی، جسے چھوڑ کر وہ فرار ہوگیا۔ راہ گیر شور نہ مچاتے تو حملہ آور مجھ پر تشدد کرتے رہتے۔











