میرا تو، بہت گہرا، تعلق تھا طارق عزیز سے ،جب دوشیزہ میں لکھنا، شروع کیا، اور، وھاں طارق روڈ پر دوشیزہ کا، آفس اور سہام مرزا، سے طارق، عزیز کی بہت دوستی تھی اور، اکثر طارق، عزیز سے دوشیزہ کے آفس میں ملاقات ھوتی
میں نے بشری انصاری ، شفیع محمد اور گلشن آرا سید کا انٹرویو بھی کیا تھا، اور 13 عدد افسانے بھی لکھے جو کالج کے میگزین خشت الاول اور نوائے وقت اور دوشیزہ
میں چھپے تھے
میں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ طارق عزیز صاحب سے لگانا سیکھا تھا
بہت بلند آواز میں شاید گلف میں مقیم میں پہلی خاتون تھی جو بلند آواز میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتی تھی
شاہین اشرف علی














ہمیشہ کے لیے دلوں میں امر کرگئے طارق عزیز
دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو اب طارق عزیز کا سلام نہیں پہنچے گا ایک پاکستان سے سچی محبت کرنے والے دل سے ہی پاکستان زندہ باد کی ایک گونج بن کر نکلتا ہے ایسے صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ایک خلا جو شاید کبھی نہ بھر سکے اللہ انہیں جوار رحمت میں جگہ دے آمین
دشت غربت میں جب ھم نے قدم رکھا تھا
بہت دور تلک آئ تھی یاد وطن سمجھانے کو
وطن کے دیوانے کو دور کے دیسوں میں اب پتا نہیں کیسے قرار آۓ گا۔۔۔۔