ممتاز سماجی کارکن سبین محمود کی جان لینے والے مجرم، صفورا گوٹھ میں45 معصوم شہریوں کو مارنے والے قاتل اور سیکیو رٹی اہلکاروں کے گلے کاٹنے والے قانون سے بچ نہیں پائے، دہشت گرد اب اپنے انجام کو پہنچیں گے، گھناؤنے جرائم میں ملوث 8دہشت گردوں کو سزائے موت دی جائے گی، فوجی عدالت کے فیصلے کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے توثیق کردی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجودہ نے دہشت گردی کی سنگین وارداتوں میں ملوث8دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے فیصلے کی توثیق کر دی، انہوں نے 3 دہشت گردوں کو عمر قید کی سزا کی بھی توثیق کی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے مطابق یہ دہشت گرد صفورا گوٹھ سبین محمود اور چینی انجینئرز کے قتل میں ملوث تھے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگوں کو بھی گلے کاٹ کر قتل کیا، ان میں کراچی کی صفورا چورنگی پر اسماعیلی برادری کے 45 افراد کو بس میں گھس کر قتل کرنے والے دہشت گرد بھی شامل ہیں۔

دہشت گرد حافظ محمد عمر، علی رحمان، عبدالسلام اور خرم شفیق سماجی کارکن سبین محمود کے قتل اور چینی انجینئرز کو اغواء کے بعد قتل کرنے میں بھی ملوث ہیں۔

ٹرائل کورٹ میں ان چاروں دہشت گردوں نے اعتراف جرم بھی کیا جس کے بعد انہیں سزائے موت سنائی گئی، دہشت گرد مسلم خان نے چار سیکیورٹی اہلکاروں کے گلے کاٹے یہ ایک کالعدم تنظیم کا ترجمان بھی تھا، مسلم خان چینی انجینئرز کے اغواء برائے تاوان سویلین اور قانون نافذ کرنے والے 31 افرادکے قتل میں بھی ملوث رہا۔

سزائے موت پانے والوں میں دہشت گرد محمد یوسف قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے جبکہ دہشت گرد سیف اللہ شہریوں اور پولیس اہلکاروں کےقتل میں ملوث رہا۔

سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے میں ملوث بلال محمود کو بھی سزائے موت سنائی گئی،دہشت گردوں کی مالی معاونت پر سرتاج علی کو عمر قید کی سزا ہوئی، 20 سال قید بامشقت پانے والا محمود خان چینی انجینئرز کے اغوا میں ملوث ہے، ایف سی اہلکاروں پر حملے میں ملوث فضل غفار کو بھی فوجی عدالت سے 20سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔

سبین محمود کو پچھلے سال 24اپریل کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا، وہ کراچی میں ’دا سیکنڈ فلور‘ کے نام سے ایک کیفے اور لائبریری چلاتی تھیں جو کراچی میں ثقافتی تقریبات کے حوالے سے جانی جاتی ہے

SHARE

LEAVE A REPLY