اسماعیلی کمیونٹی کے پیشوا پرنس رحیم آغا خان نے لندن میراتھون میں شرکت کی۔
پرنس رحیم آغا خان نے لندن میراتھون میں 4 گھنٹے 31 منٹ میں دوڑ مکمل کرکے اپنا پرسنل بیسٹ بھی حاصل کیا۔
لندن میراتھون میں 42 عشاریہ 195 کلومیٹر کی دوڑ میں پرنس رحیم آغا خان کی اوسط پیس 06:39 رہی۔
خیال رہے کہ پرنس رحیم آغا خان اس سے قبل شکاگو میراتھون 2025 اور برلن میراتھون 2024 میں بھی شرکت کر چکے ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
پرنس رحیم آغا خان اسماعیلی کمیونٹی کے 50 ویں امام ہیں۔ پرنس کریم آغا خان نے اپنی وصیت میں پرنس رحیم آغا خان کو اسماعیلی کمیونٹی کا 50 واں امام نامزد کیا تھا۔
اس بات کا اعلان امام کی فیملی اور جماعت کے سینئر ممبرز کے سامنے پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں کیا گیا۔
خیال رہےکہ پرنس رحیم آغا خان کے والد پرنس کریم آغا خان گزشتہ روزپرتگال کے دارالحکومت لزبن میں انتقال کرگئے تھے، ان کی عمر 88 برس تھی۔
پرنس رحیم آغاخان کے علاوہ پرنس کریم آغا خان کے مزید 2 بیٹے علی محمد آغا خان اور حسین آغا خان ہیں جب کہ ایک بیٹی زہرا آغا خان ہیں۔
پرنس کریم آغا خان کو 11 جولائی1957 میں امام بنایا گیا تھا ۔ اس وقت ان کی عمر 20 برس تھی۔ پرنس کریم کے دادا سر سلطان محمد شاہ آغا خان اسماعیلی تھے۔
پرنس کریم آغا خان نے اپنی زندگی پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانے میں صرف کی۔ وہ اس بات پر زور دیتے رہے تھے کہ اسلام ایک دوسرے سے ہمدردی، برداشت اور انسانی عظمت کا مذہب ہے۔
آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے ذریعے انہوں نے دنیا کے مختلف خطوں خصوصاً ایشیا اور افریقا میں فلاحی اقدامات کیے۔ یہ اقدامات زیادہ تر تعلیم، صحت، معیشت اور ثقافت کے شعبوں میں تھے۔
پرنس کریم کو مختلف ممالک اوریونیورسٹیوں کی جانب سے اعلیٰ ترین اعزازات اور اعزازی ڈگریوں سے نوازا گیا تھا۔
پرنس کریم نے پاکستان کی ترقی کےلیے مثالی خدمات انجام دیں۔ مثالی خدمات پر پرنس کریم آغا خان کو نشان پاکستان اور نشان امتیاز سے نوازا گیا تھا۔













