بےنامی اکاؤنٹس، بےنامی جائیدادوں اور بےنامی اثاثوں کے بعد اب ’بے نامی چینی کاروبار‘ کا معاملہ سامنے آ گیا ہے ۔
چینی بحران پر کی جانے والی تحقیقات کےدوران اربوں روپوں کا ’بےنامی چینی کاروبار‘ بھی نکل آیا ہے جس کے مطابق ٹرک ڈرائیورز، سیکیورٹی گارڈز، ذاتی ملازموں کے ناموں پر اربوں روپوں کی چینی کی خرید و فرخت کی گئی ہے۔
انکوائری کمیشن کی جانب سے 192 لوگوں کےشناختی کارڈز کا ڈیٹا اسٹیٹ بینک کوبھجوا دیا گیا ہے جس کے بعد تحقیقات ہوں گی کہ کس کس بینک میں بےنامی اکاؤنٹس ہیں۔
اس انکشاف کے بعد تحقیقات ہوں گی کہ پیسہ کہاں سےآیا اور اکاؤنٹس کے پیچھےکون ہیں جبکہ رواں ماہ 25 تاریخ کو چینی کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔
تحقیقات کے دوران مزید انکشاف ہوا ہے کہ چینی بے نامی اکاؤنٹ کے ذریعہ بھی خریدی گئی ہے جبکہ 192 ایسے لوگ ہیں جو ٹرک ڈرائیور، نائب قاصد اور سیکیورٹی گارڈز کے نام پر چینی کا کاروبار کر رہے ہیں ۔
تحقیقات کے مطابق جن کے نام پر چینی خریدی جاتی رہی ہے وہ لوگ بے روزگار ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو گن مین کے طور پر کام کر رہے تھے، ان کے شناختی کارڈ استعمال کیے گئے۔
چینی بحران پر کی جانے والی تحقیقات کے نتیجے میں اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چینی خریدنے کے کاروبار میں 192 سے زیادہ لوگ ہوسکتے ہیں ۔












