ہمارا تجربہ یہ ہے رمضان میں ضروریات بڑھتی ہیں تو رشوت بھی بڑھ جاتی ہے؟ اب رمضان کی آمد آمد ہےاور صرف ہفتہ دس دن کی بات رہ گئی۔ بہت سے لوگ اس میں اپنے کھاتے بند کرتے ہیں تاکہ وہ زکات نکال سکیں کیونکہ اس ماہ میں دس گناہ سے لیکر سات سو اور بغیر ِحساب تک ثواب کی امید ہے۔ اچھی روایت ہے مگر اس پرعمل کم کرتے ہیں۔ جبکہ مسلمان ان تاجر ان کی اولاد ہیں جنہوں نے اپنے ابتدائی دور میں اسلام پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا؟ اسلام سے پہلے وہ بھی ویسے ہی تھے جیسے کہ ابو جہل والا واقعہ ہے کہ اس نے ایک شخص سے جو اجنبی تھاکوئی ایک چیز خریدی اور بعد میں قبضہ تمام مال پر بشمول اونٹ کرلیا۔ جب اس نے واپس آکر کسی کے بتانے کی وجہ سے حضورﷺ سے شکایت تو وہ (ص)اسےساتھ لیکراوبو جہل کے گھر تشریف لے گئے اور اس کا کل سامان واپس دلادیا۔ تاجر وہ بھی تھے زیادہ تر مصالحہ جات کے یہ بھی سبھی کچھ کرتے تھے مثلا ً کم تولنا جھوٹ بولناوغیرہ وغیرہ، لیکن جب ایمان لانے تو با لکل بدل گئے، وہاں کے لوگوں نے وجہ پوچھی کہ تم اتنے اچھے کیسے بن گئے؟ تو ان کا جواب تھا ہم میں ایک نبی ﷺ تشریف لا ئے اور ہم ان پر ایمان لے آئے انہوں نے ہمیں بتا یا کہ کسی قسم کی بھی کاروباری ہیر پھیر کرنے سے وہ کمائی حرام ہو جاتی ہے، اس لیئے ایسا مت کرو ورنہ جہنم میں جلا ئے جاؤ گے۔ جبکہ دین پر قائم رہے تو دائمی طور پر تمہارے لیئے جنت ہے؟ انہوں نے کہا کہ پھر ہمیں بھی کلمہ پڑھادو ہم تمہارے نبیﷺ پرایمان لاتے ہیں۔ اور انکی وجہ سے تمام مشرق بعید میں مسلمانوں کی اکثریت آج دکھا ئی دیتی ہے۔ وجہ کیا تھی کہ وہ حضور ﷺ سے صرف محبت کا دعویٰ ہی نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا اتبا ع بھی پوری طرح کر تے تھے۔ حضور ﷺکو ہدایات اللہ سبحانہ تعالیٰ سے بذریعہ وحی ملتی تھیں، چونکہ انہیں (ص) حکم تھا کہ لوگوں کو پہنچا دیجئے ؟ حضور ﷺ فوراً کاتبان وحی کو طلب کر کے لکھنے کا اور حفاظ کو یاد کرنے کا حکم صادر فرماتے تھے۔ اس طرح پورا قر آن نازل ہوا اور وہ آیت بھی نازل ہوگئی کہ“ ہم نے تمہارا دین مکمل کردیا ہے“ قرآن میں وہ سب کچھ ہے جو حضور ﷺ خود عمل کرکے ، ہمارےعمل کر نے کے لیئے چھوڑ گئے ہیں۔ اب میں قر آن کی کچھ آیات آپ کے سامنے پڑھنا چاہتا ہوں تاکہ یاد تازہ ہوجائے؟ کیونکہ اس مہینہ کو قرآن کا مہینہ کہا جاتا ہے۔ اورقر آن سننے ، سنانے،پڑھنے، اور پڑھانے کا مہینہ ہے۔ جبکہ نجات اس پر عمل کر نے میں ہے۔ اور ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے۔ جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور آخری عشرہ گذر گیا اور جہنم سے اپنی نجات نہ کرا سکا وہ ہلاک ہوا۔ وہی مہینہ ایسے میں آرہا ہے کہ پوری دنیا کی خوف سے بری حالت ہے، اس میں سپر پاور بھی شامل ہے۔ کوئی طاقت اس وبا سے خود کو نہیں بچا سکی ،امید تھی کہ رمضان میں لوگ اپنی غلطیوں کا ادراک کرکے اجتمائی تو بہ کر لیں گے اور مسجدیں بھر جا ئیں گی؟ مگراس سے پہلے جو نظارہ دیکھنے میں آیا اس سے ثابت ہوگیا کہ کسی نے کوئی سبق نہیں لیا؟ حتیٰ کہ انہو نے بھی نہیں جو خود کو مسلمان کہلاتے ہیں۔ مسجدوں کے دروازے تو ان پر پہلے ہی بند ہیں لہذا با جماعت نماز کے لا لے پڑے ہوئے ہیں ۔کیونکہ اس کے بھیجے ہوئےجر ثومہ کا خوف لا حق ہے۔ اس لیئے امید تو نہیں ہے کہ سارے پرو گرام اسی طرح چلیں گے جیسے چلا کرتے تھے۔لیکن لوگوں کی ابھی تک عادات وہی ہیں جو ہمیشہ ہوا کرتی تھیں؟ جن میں ذخیرہ اندوزی، گرانی اور ملاوٹ اسی طرح ہونے کی امید ہے جیسے ہمیشہ ہوا کرتی تھی۔ اس لیئے میں یہ آیتیں پیش کر رہا ہوں کہ اگر لوگ اپنی روش بدل لیں تو وہ بہت رحیم ہے اس کا غصہ شاید ٹھنڈا ہو جا ئے اور یہ بلا ٹل جا ئے۔
میں یہاں سورہ البقرہ کی تین آیات پیش کر رہا ہوں جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ ہے کہ اگراپنی مالی عبادت کی قبولیت چاہتے ہو تو اس کے دربار میں مال کیسا مال پیش کرنا ہے ؟ مجبوری یہ ہے کہ دینے والوں کو پتہ ہے حلال مال پہلے ہی عنقا ہے لا ئیں گے کہاں سے؟ کیونکہ اکثر مفتی عظام کو ٹی وی پر یہ فرما تے ہوئے سنا ہے کہ حلال مال تو اب ملتا ہی نہیں ہے لہذا جس کے مال میں حلال کا غلبہ ہو وہ بھی چلے گا اور وہ مسجد وں میں لگایا جا سکتا ہے؟ لیکن قر آن کوئی اور ہی تقاضہ کر رہا ہے۔ اسے واضح کرنے کے لیئے میں سورہ البقرہ کی آیت 267 سے لیکر 269 تک کا اردو ترجمہ پیش کرہا ہوں۔ جو میں نے تفسیرِابن ِ کثیر (رح) سے لیا ہے۔
“ ایمان والو اپنی پاکیزہ کمائی اور ہماری زمین میں سے تمہارے لیئے نکالی ہوئی اور دی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو ان میں بری چیزوں کے خرچ کا قصد بھی نہ کرنا جسے تم خود لینے والے نہیں ہو، ہاں اگر آنکھیں بند کرلو تو،جان لوکے اللہ بے پرواہ اور خوبیوں والا ہے(267)شیطان تمہیں فقیری سے دھمکاتا ہے،اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور بخشش کا وعدہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ وسعت والا اور علم والا ہے(268) جسے چاہے حکمت اور دانائی دیتا ہے جو حکمت اور سمجھ دیا جا ئے وہ بہت ساری بھلائی دیا گیا، نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں (269)
ان آیات کی تفسیر میں علامہ ابن ِ کثیر ؒ نے چار پانچ صفحات لکھے ہیں اگر اسے وہاں جاکر پڑھ لیں توبہت کچھ آپ کے علم میں اضافے کا باعث ہو گا۔ اس کا میں مختصر خلاصہ آپ کے سامنے پیش کردیتا ہوں کیونکہ ان اوراق میں اتنی گنجا ئش نہیں ہے۔ پہلی آیت میں ان تمام چیزوں کا احاطہ کر لیا گیا ہے جو کہ کوئی اللہ راہ میں خرچ کرنا چا ہے کہ وہ چیز کیسی ہونا چاہیئے جس کے بدلے میں اتنا ثواب ملنا ہے؟ پہلی شرط تو یہ ہے کہ وہ چونکہ خود پاک ہے صرف پاکیزہ چیزوں کو قبول فرماتا ہے۔ اس کے لیئے یہاں اس نے لفظ “ حلال اور طیب “ استعمال کیا ہے چا ہیں تمہاری اپنی کمائی ہوئی ، یا اللہ کی عطا کر کردہ زمین سے کوئی چیز آئی ہو یا زمین پرپلنے والی کوئی چیز ہو اسے حلال اور طیب ہونا چا ہیئے اور اس کی کوالٹی بھی بڑھیا سے بڑھیا ہو۔ ورنہ اللہ قبول نہیں کریگا۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ“ وہ دینے والے کے منہ پر مار دی جا ئے گی۔ وہ اس کی راہ میں دیکر آپ امید کریں کہ اس کا کوئی ثواب بھی ملے گا یہ ناممکن ہے کیونکہ وہ کوئی چیز تمہاری دی ہوئی قبول کرنے کے لیئے مجبور نہیں ہے اور وہ بھی ایسی چیزیں جو تمہیں دی جا ئیں تو تم خود نہ استعمال نہ کرو؟ انہیں اللہ کیسے قبول کرے گا۔ تو جو کچھ دینا ہے بہتر سےہونا چاہیئے۔ میری نگاہ میں اس کا حل اورکوئی نہیں ہےسوائے توبہ کرنے کے۔ مگر اس میں بھی قباحت یہ ہے کہ پہلے ان سے معافی مانگنا ہوگی اور انہیں ادا ئیگی کرنا ہوگی جنکا حق مارا ہے؟ اگر لوٹا ہوا مال واپس کردیا تو بچے گا کیا؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں توبہ کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے ۔(آمین)













