میک اپ کا ہینگ اپ,سید عارف مصطفیٰ

0
1249

1- بیشک دنیا کے بیشتر مغالطے بیوٹی پالروں کی بدولت جنم لیتے ہیں –
2- بیوٹی پالرز نے اس مرتی ہوئی تفریح کو زندہ کردیا ہے کہ پہلے جسے پتلی تماشا کہا جاتا تھا
3- جسے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کا محاورہ سمجھ میں نہ آئے وہ کسی پست قامت دوشیزہ کو کسی تقریب میں دیکھ لے
4- کبھی گالوں کی لالی کا سبب حیا ہوتی تھی اب یہ زیادہ تر غازے کی مرہون منت ہے
5- بعد از میک اپ ، تقریبات میں اکثر خواتین آسانی س پہچانی نہیں جاتیں اس سے اور تو کچھ نہں بس بڑی بد احتیاطیوں کا خدشہ سا رہتا ہے
6- محفلوں میں کھل کے قہقہ نہ لگانے والی خواتین ضروری نہیں واقعی باوقار ہوں یا بدذوق ہوں ، ڈھائی انچ لمبی مصنوعی پلکوں کو گرنے سے بچانے کی مجبوری بھی آخر کوئی چیز ہے
7- کسی کی رضامندی سے اس کی شکل بگاڑ دینے کا عمل میک اپ کہلاتا ہے کمال فن یہ ہے کہ اس کام کی بھی اجرت لے لی جائے ۔۔ یہ معجزہ صرف بیوٹی پارکرز ہی میں ممکن ہے
8- اکثر مرد عموما رسک لینے سے نہیں چوکتے کسی تقریب میں کسی میک اپ زدہ لڑکی کو پسند کرلینے سےبڑا رسک بھلا اور کیا ہوسکتا ہے
9- “پردہ تو آنکھوں کا ہوتا ہے ” اسی فلسفے کے بل پہ آنکھوں پہ لینز لگانے کا رجحان فروغ پایا ہے
10- کون کہتا ہے خواتین بوجھ اٹھانے سے گریزاں رہتی ہیں ۔۔۔ پاؤ بھر کے منہ پہ تین پاؤ کا جوڑا لیئے پھرنا کیا کم مشقت ہے۔۔
11- فریب کاری کو کسی معاشرے میں قانونی تحفظ میسر نہیں ، البتہ بیوٹی پارلرز اس سے مستثنیٰ ہیں
12- آنکھوں کے میخانے ہوا کرتے تھے کبھی اب تو لینز کی بدولت بصارت کے تہ خانے ہیں
13- مردوں کو مسکا لگانے کے ایک ہتھیار کا معروف نام مسکارا ہے
سید عارف مصطفیٰ

SHARE

LEAVE A REPLY