وفاقی حکومت کی جانب سے تاحال فوجی عدالتوں کے مستقل کے فیصلے کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے باعث سندھ ایپکش کمیٹی وزارت داخلہ کو دہشتگردی کے 9 مقدمات کو بھیجنے میں تذبذب کا شکار ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے ڈان کو بتایا کہ فوجی عدالتوں کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے صوبائی ایپکس کمیٹی نے 9 مقدمات ان عدالتوں میں بھیجنے کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ میں 21ویں آئینی ترمیم کے ذریعے جنوری 2015 میں فوجی عدالتیں قائم کی گئیں تھی اور اس ترمیم کے تحت فوجی عدالتیں دو سال کے لیے قائم کی گئیں، جن کی مدت 7 جنوری 2017 کو ختم ہورہی ہے، یہ قانون سازی ملک میں دہشتگردی کے خلاف جاری نیشنل ایکشن پلان کا حصہ تھی۔
سندھ کے ہوم سیکریٹری شکیل مانگنیجو نے گذشتہ روز ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بتایا کہ سندھ اپیکس کمیٹی کی ذیلی قانونی کمیٹی نے دہشت گردی کے 9 مزید کیسز فوجی عدالتوں میں بھیجنے کیلئے ان کی اسکروٹنی مکمل کرلی ہے۔
مذکورہ قانونی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت ہوم سیکریٹری نے کی تھی جس میں وزارت قانون کے سیکریٹری کے علاوہ پولیس، رینجرز، اور انٹیلیجنس بیورو کے عہدیداران شامل تھے۔
وفاقی وزارت داخلہ کو دہشت گردی کے مقدمات بھیجنے اور وزیراعلیٰ کی منظوری سے قبل مذکورہ باڈی ان مقدمات کی فہرست کا بغور جائزہ لیتی ہے جبکہ بعد ازاں وزارت داخلہ بھی ان مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھیجنے سے قبل ان کی مکمل اسکروٹنی کرتی ہے۔
یاد رہے کہ پیر کے روز منعقد ہونے والے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ کررہے تھے جس میں صوبے کی اعلیٰ فوجی قیادت بھی موجود تھی۔
ہوم سیکریٹری نے اجلاس کو بتایا کہ گذشتہ دو سال کے دوران سندھ حکومت نے 105 مقدمات فوجی عدالتوں کو بھجوانے کی تجاویز دی تاہم بعد ازاں صرف 29 مقدمات ہی مذکورہ عدالتوں کو بھجوائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فوجی عدالتوں میں 19 مقدمات کی سماعت جاری ہے۔












