جس کی بھینس اُسی کی لاٹھی۔۔ محمدثقلین رضا

0
95

ایک تو اس ملک کے لوگ ہیں ناں، بس کیا کہیں، ہربات کو سیریس ہی لے لیتے ہیں، بندہ اب مذاق بھی نہ کرے،ان لوگوں کو لگتا ہے کہ مذاق ہی مذاق میں نہ جانے کیا کچھ ہوجائے حالانکہ مذاق تو صرف اتنا ہوا ہے کہ ”نہال ہاشمی” صرف چند لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں مزاحیہ گفتگو سنارہے تھے اور پورا پاکستان ہی سیریس ہوگیا، یہ بھی کوئی بات ہوئی، آخر عوام نے مینڈیٹ دیا ہی کس لئے ہے، زیادہ دور نہیں جانا بس 2013کو انتخابات میں عوام نے کس کو ووٹ دیا؟ کیوں دیا؟؟ وہی کچھ کرنے کیلئے ناں جو کچھ اب کررہی ہے ؟ اگر حکومت وہی کچھ کررہی ہے جو عوام چاہتے ہیں، جس سے اداروں کا وقار ”بلند” ہورہاہے تو بھلا کسی کوبھی شکایت کاحق حاصل ہوناچاہئے؟؟ کچھ بھلے لوکی کہتے ہیں کہ پہلے سپریم کورٹ پر حملہ کیا اوراب دوسرے راستے سے حملہ کیا؟؟ سنو جی یہ بھی کوئی بات ہوئی، وہ تو جب سپریم کورٹ پر حملہ ہوا تھا اس وقت کہانی کچھ اور تھی، وہ تو میاں جی اپنے سجن بیلیوں کے ساتھ چیف جسٹس کو سمجھانے جارہے تھے بس دو ایک افراد کے ہاتھ میں ”ڈنڈے” دیکھ کر وہ بھاگ نکلے اور پھر اسی بھاگم دوڑی میں کسی دروازے کا شیشہ ٹوٹ گیاتو میاں جی قصوروار کیسے ہوگئے؟

لوگ کہتے ہیں نہال ہاشمی خود نہیں بولا بلکہ اسے ”بولنے ” کو کہاگیا بلکہ باقاعدہ ڈائریکشن دی گئی کہ کیا کیاجملے کس کس انداز میں بولنے ہیں، یہ کیا بات ہوئی، آخر لیڈر ہیں الٹی سیدھی بات پر سمجھا اور ڈانٹ بھی سکتے ہیں ،ا ب میاں جی براہ راست یہ کام کیوں کرنے لگے؟ اگر کسی ”اور ” نے ہاشمی کے کان میں کھسر پھسر کرکے کہہ بھی دیا کہ ”تم نے فلاں فلاں کو چتائونی دینی ہے ” تو پھر اس میں میاں جی کا کیاقصور یا باقی جماعت کیسے ذمہ دار ہوگئی؟؟ کیا کہا ، کیا کہا؟؟ پھر سے کہنا؟؟ ”’اچھا ڈان لیکس کا معاملہ ” وہ بھی ایسے ہی تھا کہ اس کہانی کو لکھنے کامقصد کچھ اور تھا اور سمجھنے والے کسی اور راستے پر لے گئے ، اس میں بھی نام آیاتو کس کا ؟؟ اس کاجس کے نام سے بہت سے لوگوں کی زبانیں جل جاتی ہیں، اب بھلا وزیراعظم کی صاحبزادی کو کیاپڑی ہے کہ وہ ایسے معاملات میں ٹانگ اڑاتی پھریں یہ کام اگر ”کسی ” اورکے اشارے پر ”کسی ” اور نے کردیا اور ذمہ دار بزرگ وزیر قرار پائے اور ان کی چھٹی ہوگئی تو معاملہ ختم سمجھاجانا چاہئے تھا کیونکہ حکومت تو اپنے حصے کی ”بزرگ قربانی” دان کرچکی ہے۔ پھر بولو کیا کہہ رہے ہو، میں سن نہیں پایا؟؟؟ یار کھل کے بتائو کیا کہہ رہے ہو”اچھا اچھا وہ چوہدری نثار کی کچھ دن پہلے کی واہ فیکٹری والی بات ، اچھا وہ خواجہ آصف کی تقریریں؟؟؟ چھوڑو یار تم بھی بے وقت کی راگنی گانے کی کوشش کررہے ہو، بھلاان باتوں سے کیسے انداز ہوتا ہے کہ یہ سب میاں جی کہنے پر ہورہا ہے؟؟ اگر وزیرشزیز خود سے بیان دے ہی دیتے ہیں تو ”بچوں ” کی غلطی سمجھ کے معاف کردینا چاہئے۔ اچھا اچھا تم جو کہہ رہے ہو سمجھ آرہی ہے کہ میاں جی کی ٹیم تو بڑی تجربہ کار ہے؟؟ یار تجربہ تو ہے مگرکچھ عرصہ ایوان اقتدار سے باہر رہنے کی وجہ سے صلاحیتوں کو زنگ لگ گیا تھا ،جیسے چھری پڑی پڑی کند ہوجاتی ہے اسے باقاعدہ رگڑائی سے تیز کیاجاتاہے ، تو یوں سمجھ لو یہ چار سال تو ”رگڑائی ” میں ہی گز ر گئے ہیں اب اگراس ”رگڑائی”کی زد میں ادارے آرہے ہیں تو انہیں بھی صبر کرنا چاہئے کیونکہ صبر کاپھل میٹھا ہوتا ہے، مزید ایک سال باقی ہے اسی دوران تو تجربہ کی زبان بولیں گے ، فی الحال تو وہ ”کھنڈی چھریاں” تیز ہورہی تھیں اورلوگ انہیں ”اداروں سے سینگ پھنسانا” سمجھ رہے تھے

صاحب پہلے بھی کہہ دیا ہے کہ آخر حکومت کا ڈنڈا ہاتھ میں ہوتو سارے معاملات اپنے ہی ہوتے ہیں یہ ملک ،یہ عوام ،یہ ادارے ، یہ اوپر،نیچے دائیں بائیں بسنے والے لوگ ، اشیا سبھی کچھ ڈنڈے کی زد میں ہوتا ہے کیا قوم اتنی بھولی ہے کہ اسے پتہ نہیں کہ بیس کروڑ عوام کے ووٹوں سے ملنے والا ڈنڈا کتنامضبوط اور طاقتور ہوتا ہے ظاہرہے کہ یہ اپنی لمبائی چوڑائی کے حساب سے جب حرکت میں آتا ہے تو پھر کئی پائوں تلے آکر اگر کچلے بھی گئے تو بھلا حکمرانوں کیا قصور ہوتاہے؟؟

کچھ لوگ ہیں کہ آج بھی ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس ”کامقولہ ذہن میں نقش کئے دوسرے لوگوں کے کانوں میں انڈیلنے کی کوشش کررہے ہیں، ارے صاحب وہ زمانہ گیا جب لاٹھی کے ذریعے بھینس ہانکی جاتی تھی اب بھلا بھینس کیسے برداشت کرسکتی ہے کہ اتنے بڑے وجود کو چھوٹی سی لاٹھی کے ذریعے ہانکاجائے ، یاتو لاٹھی بھی اس کے جسمانی ہیئت کے مطابق ہونی چاہئے یا پھر لاٹھی کو بھینس کے تابع ہوناچاہئے کہ ”جس کی بھینس اسی کی لاٹھی” یار ایک تو آپ لوگ ناں؟؟؟؟ بس کیا کہیں اب بھلا بھینس کا حکومت یاحکمرانوں سے کیا تعلق؟ آپ لو گ بھی خواہ مخواہ ہی بات کا بتنگڑبنالیتے ہو ،اگر عوام نے اقتدار کی بھینس مسلم لیگ والوں کے سپرد کرہی دی ہے اور پھر ہمارے کہے ہوئے محاورے ”جس کی بھینس اسی کی لاٹھی ” کے مصداق ڈنڈا بھی اب حکومت کے ہاتھ آگیا ہے ۔سو ڈنڈا بھی ہے اوربھینس بھی، تو فکر کس بات کی، اب حکومت یا حکومت والے چاہے مغرب کی طرف چلائیں یامشرق کی طرف، شمال کو جائیں یاجنوب کو ،سڑکیں بنائیں یا پل یا پھر ٹرینیں چلائیں یابسیں،آپ کو کیا؟؟ آخر عوام کا دیاہوا مینڈیٹ ہے، چپ چپ چپ ۔ مزید نہ بولنا کیونکہ تمہارے اس طرح سے بولنے پر ”جمہوریت کو خطرہ لاحق ہونے لگتا ہے” کیا کہا ”کہاں ہے جمہوریت ؟اوہ میرے خدا کیا کہہ رہے ہو ،آمریت ،وراثت؟؟ یار عجیب ڈھونگی آدمی ہو، یہی تو جمہوریت ہے اسی کو تو جمہوریت ہی کہتے ہیں ہاں اگر میاں جی کی بیماری میں ان کی بیٹی نے ایک دواجلاسوں کی صدارت کرہی لی اور اباجی کی کرسی پر بیٹھ ہی گئی تو پھر ”رولا” کیوں ڈالتے ہو، کم ازکم باپ کے عہدے اور کرسی پر اولادکاکچھ نہ کچھ حق تو ہوتاہے، ایویں ای خواہ مخواہ رولا نہ ڈالاکرو،اس میں بھلا جمہوریت کو کیاتکلیف؟؟؟؟کیا کہا کیا کہا؟؟؟؟؟حکومت پر الزام نہ لگائو تمہیں پتہ نہیں کہ پارلیمنٹ کاوجود خطرے میں پڑجاتاہے، جمہوریت کی جان کانپنے لگتی ہے اورتم لوگ ہو کہ ہربار فوج کو ”زندہ باد ” کہہ کر کانپتی جمہوریت کوقبرتک پہنچاناچاہتے ہو، کیوں جمہوریت کو نقصان پہنچاناچاہتے ہو پارلیمنٹ سب سے بڑا ادارہ ہے ، کیا کہا؟؟ میاں جی نہیں جاتے پارلیمنٹ؟؟ ارے واہ ان کی مرضی، جب جی چاہے گا پارلیمنٹ جائیں گے آخر بالادست پارلیمنٹ ان کی بالادستی میں جو ہے، ابھی کہاہے ناں جس کی بھینس اسی کی لاٹھی۔ سو چپ کرکے سوجائو اگلے سال اٹھ کر ووٹ دینے جانا اور پھر نعرہ لگانا”اک واری فیر……………….”

SHARE

LEAVE A REPLY