آج کل سوشل میڈیا پر سیاسی ہواؤں کا زور کُچھ ایسا
ہے کہ ہر کوئ اسی میں گُم ہے . اپنے مُلک کے سیاسی حالات سے باخبر رہنا اچھی بات ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ آپ ساری حدیں ہی پار کر جائیں دوستو انسانی رویوں اور اخلاقی قدروں کی ایسی گھناؤنی شکلیں نظر سے گُزری ہیں کہ حیرتوں کے سمندر میں ڈوبتے اُبھرتے رہے .
سوچ ایک ہی نُقطے پر آ کر دم توڑتی رہی کہ ایسا ممکن ہی نہیں یہ ہماری قدریں نہیں ہم تو عزت تحریم لحاظ اور ادبُ احترام کو ماننے والے ہیں لیکن یہ سب بھی حقیقت ہی ہے کہ یہ سب ناپید ہی نظر آیا
اسی گہما گہمی میں ایک ویڈیو بھی نظر سے گُزری جس میں ایک ٹی وی چینل 7 کے جرنلسٹ محمد جاوید کی موت اُس کے کو لیگ کے ہاتھوں میں واقع ہوئ جس کو وہ بہت دُکھ اور کرب کے ساتھ بیان کرتے ہوۓ کہتا ہے کہ اُس کا ساتھی ہاسپٹل میں ڈاکٹر کے اٹینڈ نہ کرنے پر موت کی گود میں سو گیا . موٹر سائیکل سے گرنے کے بعد وہ خود اُسے مقامی لوگوں کی مدد سے ہاسپٹل لے کر گیا لیکن وہاں موجود ڈاکٹر نے اپنی ڈیوٹی ختم ہو جانے کی بِناء پر اُس کو نہیں دیکھا اس ویڈیو کا ذکر اس لیۓ بھی ضروری ہے دوستو کہ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ہم لوگ دماغی طور پر اس قدر اپاہج ہو چُکے ہیں کہ ہمیں اپنے حق کی لڑائ کا بھی سلیقہ نہیں .
ہم بہت سوچتے ہیں کہ پاکستان میں کیوں لوگوں کی سوچ نہیں بدل رہی آخر کب تک اس بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح ہر ایک ہانکنے والے کے آگے گردن جُھکاۓ چلتے رہیں گے پلٹ کر کیوں نہیں پوچھتے کہ ہم انسان ہیں پھر ہم سے یہ جانوروں والا سلوک کیوں؟ ہر سال رمضان کے مہینے میں دیکھتے ہیں ہر ٹی وی چینل چیرٹی کر رہا ہوتا ہے ہر ایک ویلفیئر کا کام مانگ کر کیا جاتا ہے عوام کی بھوک مٹانے سے لے کر اُن کے لیۓ علاج معالجہ مُہیا کرنے تک کیا کسی بھی حکومت وقت کی یہ ذمے داری نہیں بنتی کہ وہ عوام کو کُچھ ریلیف دے پانی بجلی گیس غریب کو کُچھ بھی میسر نہیں سرکاری ہاسپٹل میں جاؤ تو بے رحمی کی داستانیں در و دیوار پر لکھی ہوتی ہیں نا بستر نہ دوائیاں اور نہ معالج
کس دُنیا کے باسی ہیں ہم اور کب تک ہم ایسے لوگوں کو اپنا لیڈر مان کر اُن کو سر پر بٹھاتے رہیں گے اور کیوں . دوستو آئیے دُعا کرتے ہیں کہ رَبِ کریم ہمارے شعور کو بیدار کرے اور ہمیں درست لیڈر چُننے کی توفیق دے ہمارے لیڈران کے دلوں میں اپنی قوم کے لیۓ رحم کے جذبے کو پروان چڑ ھاۓ…… اِلٰہی آمین
نوشی قیصر













