وجہ یہ ہے کہ ہم نے حضورﷺکا اتباع کرنا چھوڑدیا ہے ان ﷺکی سیرت کو پڑھنا چھوڑدیا جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس اسلام کو اسلام فرمایا ہے اور اسے قابلِ قبول ہونے کی سند دی ہے جس میں حضور ﷺ کا پورا کا پورا اتباع ہو؟ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے ایران میں ایک ایساسانحہ ہوا جس کی تاریخ عالم میں کوئی مثال نہیں ملتی؟نہ حضورﷺ زمانے میں نہ کبھی ان بعد کے زمانے میں حضورﷺ کے زمانےمیں تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتاتھا کہ وہ تو رحمت اللعالمینﷺ تھے؟ انﷺ جیسا منصف نہ کوئی پیدا ہوا اور نہ ہی ہوگا؟ ان کے بعد ایسے حکمرا بھی آئے جن میں بہت سے عامر ِمطلق اورجلاد قسمکے لوگ تھے؟ لیکن انہوں نے بھی کبھی کسی خاتون کو ان کے معیار کے مطابق پردہ نہ کرنے پر کسی خاتون کو گولی نہیں ماری ؟اور اس ظلم کے خلاف احتجاج کر تے ہوئے ایک سو مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کیں ؟یہ کار نامہ پندرہویں صدی کے ایران کی اسلامی حکومت کے ایک سپائی نے انجام دیا جوکہ علما ئےکرام کےزیر ِنگرانی چل رہی ہے۔ یہ سانحہ جو کہ ایک خاتون پر ظلم کرنے سے شروع ہوا اور ایک سو ایک جانیں لیکر ٹلا؟ ایسا تھا نہ چنگیز کے زمانے ہوا نہ ہلاکو کے زمانے میں ہوا کہ کسی نے کسی خاتون کے ساتھ ایساکیا ہوا؟اس خبر کو پڑھنے کے بعد ان کی روحیں شرمندہ ہو گئی ہونگی کہ ہم نے اس میدان میں کمی کیوں چھوڑی؟ اور یہ سانحہ بھی اس اسلامی حکومت میں رونما ہوسکا؟ جس مذ ہب میں ایک انسان کی جان لینا تمام انسانوں کو قتل کر نے کے برابر ہے؟ اور کسی انسان کو قتل کر نے اجازت نہیں ہے۔ جب تک کہ اس نے کسی انسان کو قتل نہ کیا ہو؟ اس پر بھی آخری وقت تک اسلام یہ کوشش کرتا ہے، اگر مقتول کے ورثہ مان جا ئیں تو اس کو معاوضہ دے کر معاف کرالیا جائے یااللہ کے نام پر معاف کرادیں؟ یا پھر وہ شادی شدہ مرد یا عورت ہو اور وہ زنا کے مرتکب ہو ئے ہوں؟ان دو صورتوں کے علاوہ کسی حکومت کو جو کہ خود کو اسلامی بھی کہلاتی ہو اس کو یا اسکی کسی عدالت کو کوئی حق نہیں پہنچتا جو کہ کسی کوجان سے ماردے اور وہ بھی ایک خاتون کو جن کے بارے میں پیغمر َ اسلامﷺ نے اپنے الودائی خطبے میں امت کو ہدایت فر ما ئی ہو کہ یہ جنس سب سے کمزور ہے اس کا خیال رکھنا؟مجھے نہیں معلوم کہ اسلام کے کونسے مجموعہ تعزئرات میں اسے لکھا ہو ا ملا جس کی وجہ سے ایک سپاہی کو یہ حق مل گیا کہ وہ بغیر کسی عدالتی کاروائی کے کسی خاتون کو پردے کی خلاف وزی کرنے پر اپنی صوابدید پر گولی مار دے؟ جبکہ وہ سپا ہی جان کے بدلے جان کے قانون کے تحت کسی عدالت سے سزائے موت کا مستحق تھا اور ہے جو اپنے اختیارات سے تجاوز کر نے پر سزائے موت کا حقدار تھااورہے؟یہ کہیں اسلام کوبد نام کرنے کی کوئی سازش تو نہیں ہے؟ اس کے لیئے ایرانی حکومت کو ایک کمیشن بنا نا چا ہیئے جو تحقیقات کر ے کہ کہیں کوئی ذاتی دشمنی نہ ہو،یاکوئی اور وجہ نہ ہو؟جس پر سے ابھی تک کو ئی پر دہ نہ اٹھا سکا ہو؟ رہا پردے کا سوال اس کی سزا اسلامی تعزیرات کے کسی مجموع میں لکھی ہوئی کہیں موجود نہیں ہے۔جوپہلے تو قرآن میں ہونا چاہیئے تھی یا پھر صحاستہ میں ہونا چا ہیے تھی جو کہ حضورﷺ کا اختیار ہے کسی اور کو اس کی قانون سازی کر نے کانہ حق ہے نہ اجازت ہے کیونکہ یہ ایک انسانی جنان کا معاملہ ہے۔
اب رہاجہاں تک پردے کا سوال وہ کبھی پوری طرح نافذنہیں ہو سکا ا سکی وجہ یہ تھی کہ پردے کاحکم سب سے پہلے سورہ نور کی آیت نمبر30کے ذریعہ بطورحکم ۤآیا وہ مردوں کے لیئے تھاکہ” مسلمان مردوں سے کہیں کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکریں یہ ہی ان کے لئیے پاکیزگی ہے۔ جو وہ کر رہے ہیں اللہ اس سے واقف ہے؟ اور جس کوحضور ﷺ نے عمل کر کے بھی دکھایا ان کی سیرت کوپڑھ لیجئے کہ انہوں نے اپنی نگا ہیں ہمیشہ نیچی رکھیں؟جبکہ ان کے وصال کے وقت تک اور بعد میں بھی چو نکہ اضطراری حیثیت میں خواتین کواستثنیٰ حاصل تھا لہذا کبھی یہ پوری طرح نافذ نہیں ہو سکا جبکہ آیت نمبر55 سورہ احزاب بھی نازل ہوگئی جس میں پردےکے آداب اورعام مسلم خواتین کے لئے قرآن میں حکم آگیا کہ وہ بھی اپنی نگا ہیں نمگر انہوں نے اپنی نگاہیں نیچی کھی نہیں رکھیں جن کو پہلے حکم ملاتھا؟ جس کی پوری تفسیر کسی پرانی تفسیرَ پڑھ لیں جوکہ بہت ہی طویل ہے؟ مگرآجکے علماء کا زور خواتین کے پردے پر تو رہا اور ان کی ان کی وجہ سے خواتین کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی گئی نگاہیں نیچی رکھنے حکم کبھی پوری طرح نافذ نہیں ہوا؟ یہ اگر نا فذ ہوا تو صرف حضور ﷺ کے گھرانے پر چونکہ یہ ان کے احترام کاتقاضہ تھا؟ جسے ہر موقعہ پر پر ملحو ظ خاطر رکھا گیا؟ جبکہ یہ پوری دنیا میں تو کیا پورے عرب میں بھی نافذ نہ ہوسکا کیونکہ عرب میں؟ اس کے ہر قبیلے کے اپنے قوانین تھے۔ پردے کے سلسلہ میں پہلا قتل بھی مدینہ منورہ کے یہودی علاقے میں ہوا کہ بنی قنیقاع کے علاقے میں ایک خاتون کچھ اس طرح چادر میں لپٹی ہوئی مدینے منورہ کے صرافہ بازار میں آئیں جن کی وضع قطع اجنبیت ظاہر کر رہی تھی، مدینہ منورہ کے رواج اور اس کی وضع قطع سے قطعی میل نہیں کھا رہی تھی جواس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس علاقے لفگوں نے انہیں تماشہ بنا لیااور جب ایک مسلمان نےغنڈوں کو ایسا کرنے سے منع کیا تواس کے قتل کر دیاگیا؟ اس قتل کے جواب میں اس کے ورثہ نے ان کے ایک آدمی کو قتل کردیا؟چونکہ حضور ﷺ مدینہ منورہ میں اس وقت موجود نہیں تھے۔ لہذا مسلمان ان کے انتظار میں خاموش رہے جب حضورﷺ واپس تشریف لا ئے تو سب سے پہلے وہ اردات کی جگہ پر تشریف لے گئے؟ مگر انہوں نے ان کیﷺ بات بھی سننے انکار کردیا؟ جسکے نتیجہ میں انہیں مدینہ بدرہونا پڑا؟اس کے بعد کافی عرصہ تک حضور ﷺ ہم میں تشریف فرما رہے اور انہوں نے سوائے اس کے کوئی عملی قدم پردے کے سلسلہ میں نہں اٹھایا کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوگئی کہ مسلمان خواتین جب باہر نکلیں تو ایک ایسی نشانی ڈال لیا کریں تاکہ غنڈے یہ نہ کہہ سکیں ہم سمجھے کہ یہ نیک خاتون نہیں ہیں؟ ان کے وصال بعد پر دہ صرف معزز خاندانو ں میں رائج رہا وہ عام نہیں ہو سکا اس لئیے کے مدینہ منورہ کا علاقہ سر سبز تھا اور خواتین باغوں اور کھیتوں کام کر تی تھی اور اس سلسلہ میں درختوں کے اوپر بھی چڑھ جا تی تھیں؟ اپنے گھروں کے چھتوں پر کھڑے ہو کر بچیوں کا مشہور نشید ” طلع البدرعلینا” حضورﷺ کےاستقبال کے موقعہ پر پڑھنابہت مشہور مثال ہے۔ مگراس پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ابتدائی دور تھا؟ اس وقت تک پر دے کا حکم نہیں آیا تھاوہ بعد میں آیا؟ لیکن اس کے بعد مساجد میں خواتین کا نماز میں آنے کا سلسلہ جاری رہا وہ برابر آتی رہیں مگر مردوں سے خلط ملط نہیں ہو تی تھی ۔مردوں کے پیچھے صف بناکرکھڑی ہو جاتی تھیں اور نماز ادا کر کے وہیں سے واپس چلی جاتی تھیں؟جبکہ حرم شریف میں صفیں عرب کے سعودی عرب بن جانے کے بعد بھی بہت عرصے تک مخلوط رہیں؟ اس فقیر نے اپنی آنکھوں سے اب سے پندرہ بیس سال پہلے تک یہ ہی رواج حرم شریف مکہ معطمہ اور مسجد ِ نبویﷺ میں دیکھا جو اب موجود نہں ہے ۔ اس تمام بحث کا مقصد یہ ہے کہ پوری طرح خواتین کا پردہ کبھی نہیں رہا جیسی ضرورت ہوئی جسطرح کی ہوئی ویسا ہی پر دہ رہا؟
آج کا اسلام حضورﷺ کےدور سے مختلف کیوں؟ شمس جیلانی
1199
0












