ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ محفوظ، 18 جون کو سنایا جائے گا

0
937

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا ٹرائل 5 سال بعد مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کی اور فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا جو 18 جون کو سنایا جائے گا۔

دوران سماعت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے پراسیکیوٹر خواجہ امتیاز نے موقف اپناتے ہوئے کہا کہ اشتہاری ملزمان متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین اور انور حسین کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: قتل کیس: عمران فاروق کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ, پوسٹ مارٹم رپورٹ بطور شواہد پیش

انہوں نے کہاکہ ملزمان جرم کے مرتکب ہوئے لہذا قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے، ملزمان کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے تھا۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ الطاف حسین کی پاکستان میں منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا جائے۔

جس پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے کہا کہ عدالت یہ حکم پہلے ہی دے چکی ہے آپ ضبط کرنے کی کارروائی شروع کریں۔

خواجہ امتیاز کا کہنا تھاکہ قانون کے مطابق پاکستان میں کیس چلانے کی اجازت ہے، ملزمان کو سہولیات پاکستان سے ہی فراہم کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران فاروق قتل کیس: ‘ملزم معظم علی سے نائن زیرو ملنے گیا تو خوف طاری ہوگیا’

انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت کو ہمارے شواہد پر صرف سزائے موت پر اعتراض تھا، پاکستان نے برطانوی حکومت کو یقین دلایا کہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزمان کو سزائے موت نہیں دی جائے گی۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ برطانوی گواہوں کے بیان قابل قبول شہادت ہیں۔

بعدازاں عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کہ 18جون کو سنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں ملزمان سے متعلق اہم شواہد جبکہ ڈاکٹر عمران فاروق کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی پیش کیے گئے تھے۔

عدالت میں ملزمان کی سفری تاریخ بطور شواہد پیش کی گئی جبکہ ملزمان کے فنگر پرنٹس کو بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیاتھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY