بلوچستان بھر میں ٹڈی دل نے تباہی مچا دی، ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے مختلف اضلاع میں آپریشن جاری ہے، زیادہ متاثر پانچ اضلاع میں ہوائی اسپرے کیلئے صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے جہاز مانگ لیا۔
ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت و زرعی ریسرچ آفیسر عارف شاہ نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹڈی دل کے ژوب میں پہنچنے کے بعد اب پورا بلوچستان ٹڈی دل کی لپیٹ میں آگیا ہے، تاہم ٹڈی دل سے صوبے کے 10 سے زائد اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے وفاقی حکومت صوبے کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔ سبی، خاران اور ڈیرہ بگٹی میں اسپرے کرنے والا طیارہ دیا گیا تھا، اب محکمہ زراعت اور این ڈی ایم اے کی زمینی ٹیمیں خضدار سمیت دیگر دس متاثرہ اضلاع میں ٹڈی دل کو تلف کرنے کیلئے اسپرے کررہی ہیں، ادویات کی خریداری کیلئے دس کروڑ روپے بھی دیئے ہیں۔
عارف شاہ کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل سے متاثرہ اضلاع میں فصلوں کے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔ پندرہ جون کے بعد مسقط سے بڑی تعداد میں ٹڈی دل کے بلوچستان پہنچنے کا خطرہ ہے جس سے صوبائی اور وفاقی حکومت کو آگاہ کردیا گیا ہے۔
………………
این ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کے 50 اضلاع میں ٹڈی دل موجود ہے۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان میں 31، خیبر پختونخوا میں 8، پنجاب میں 9 اور سندھ میں 2 اضلاع متاثر ہیں، ٹڈی دل کے حملہ زدہ علاقوں کا سروے اور کنٹرول آپریشن جاری ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ24 گھنٹوں میں بلوچستان میں 2200 ہیکٹر رقبے پراسپرے کیا گیا، پنجاب میں 1000، خیبرپختونخوا میں 200 ہیکٹر اور سندھ میں 30 ہیکٹر رقبہ ٹریٹمنٹ کیا گیا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ ٹڈی دل کے حالیہ حملوں کے باعث پاکستان میں بڑے پیمانے پر خوراک کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔












