قومی ایئرلائن پی آئی اے کا کراچی میں طیارہ گرنے کے چھ دن بعد کاک پٹ وائس ریکارڈر ایئربس کمپنی کی تحقیقاتی ٹیم کی مدد سے ملبے سے تلاش کر لیا گیا ہے۔

دو روز قبل ائربس کی کراچی آنے والی ٹیکنیکل ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا تھا۔ ٹیم کو کچھ مطلوبہ چیزیں نہیں مل سکی تھیں جس پر بھاری ملبہ اٹھانے کا کہا گیا۔

پی آئی اے ترجمان کے مطابق تحقیقاتی ٹیموں کی موجودگی میں آج صبح سویرے یہ کام نئے سرے سے شروع کیا گیا تو ملبے کے نیچے دبا ہوا کاک پٹ وائس ریکارڈر مل گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق کاک پٹ وائس ریکارڈر ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کے حوالے کردیا گیا ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان نے اس کاک پٹ وائس ریکارڈر کی تصویر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کی ٹیم میں بہت سرکردگی سے اس اہم پرزے کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔

واضح رہے کہ 22 مئی کی دوپہر لاہور سے کراچی پہنچنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 ماڈل کالونی میں آبادی پر گر کر تباہ ہوگئی تھی۔ اس المناک حادثے کے نتیجے میں 97 افراد جاں بحق ہوئے۔

حکومتی سطح پر تشکیل دی گئی مختلف ٹیمیں اس کی تحقیقات کر رہی ہیں تاہم ایئربس کی فرانس سے 26 مئی کو آنے والی ٹیکنیکل ٹیم بھی اس سلسلے میں کھوج لگا رہی ہے۔

شیڈول کے مطابق ٹیم کو ایک روز بعد وطن واپس جانا تھا مگر تحقیقات میں مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر تین مزید کچھ دن کے لیے کراچی میں ہی رک گئی ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے کہا ہے کہ کراچی حادثے کے شکار طیارے کا کاکپٹ وائس ریکارڈ تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

واضح رہے کہ سول ایوی ایشن ذرائع نے کاک پٹ وائس ریکارڈر کے غائب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ اب اس حوالے سے قومی ایئرلائنز کی جانب سے وضاحت سامنے آگئی ہے۔

ترجمان پی آئی اے عبداللّٰہ حفیظ کا کہنا ہے کہ طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر تلاش کرنے کی بھر پور کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیال ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر کسی کے گھر میں نہ گرا ہو۔

ترجمان پی آئی اے عبداللّٰہ حفیظ نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی کے گھر میں طیارے کا کوئی پرزہ موجود ہے تو فوراً حکام کے حوالے کر دیں۔

عبداللّٰہ حفیظ نے کہا کہ طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے ہر پرزہ اہم ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام تباہ شدہ طیارے کا کوئی ٹکڑا گھر میں یادگار کے طور پر نہ رکھیں، یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY