نجف اشرف میں وافعے حضر ت علی علیہ السلام کی قبر مطھر کو کافی عرصہ تک پوشیدہ رکھا گیا اس کی وجہ مخالف حکومتیں تھیں اس وجہ سے مخفی رکھا گیا کے کھیں بے ادبی نا کرے کوئی خلیفہ جو بغض علی ، ع س میں غرق تھے مولا ع ۔ س کے مزار کی نشان دھی امام جعفر صادق نے کی تھی

najaf
حضرت علیؑ کو مخفی دفن کرنے کے اسباب
اسلام کے دفاع اور اسلام کے ارکان کو مضبوط کرنے کے لیے حضرت علی علیہ السلام نے کفر کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں میں قریش اور کافر قبائل کے بیشمار سرداروں اور شہرہ آفاق بہادروں کو واصل جہنم کیا اور کفر و اسلام کے درمیان ہونے والی جنگوں میں سے ہر ایک میں شجاعت و بہادری کے وہ جوہر دکھائے کہ جو رہتی دنیا تک کے لیے شجاعت کی علامت اور اعلی نمونہ بن گئے۔

لیکن جہاں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شجاعت نے اسلام کو کافروں اور مشرکوں کی سازشوں سے محفوظ کیا وہاں دوسری طرف کافروں اور منافقین کے دلوں کو حقد اور بغض و حسد سے بھی بھر دیا اور اسی حقد اور بغض و عناد کی وجہ سے مقتولین کے ورثاء ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حضرت علی علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور دل میں بھڑکنے والی انتقام کی آگ کو بجھانے کے لیے موقع کی تلاش میں رہنے لگے۔

بنو امیہ اور بنو عباس کی جانب سے حضرت علی علیہ السلام سے بغض رکھنے اور اس بغض کی وجہ سے اہل بیت رسول اور حضرت علی علیہ السلام کی اولاد پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے واقعات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہیں اور اسی سبب سے حضرت علی علیہ السلام نے اپنی قبر کو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے کا حکم دیا تھا کیونکہ حضرت علی علیہ السلام جانتے تھے کہ ان کی زندگی کے بعد حکومت جگر خور کے بیٹے اور بنی امیہ کے ہاتھوں میں چلی جائے گی اور بنو امیہ کے لوگ اپنے دلوں میں بھڑکتی ہوئی انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے حضرت علی علیہ السلام کی میت کو قبر سے نکال کر لاشے کی بے حرمتی کریں گے لہذا حضرت علی علیہ السلام نے بنو امیہ، اس کے اعوان و انصار، خوارج اور ان کے ہم مثل لوگوں کے شر سے بچنے کے لیے اپنی قبر کو پوشیدہ رکھنے کا حکم دیا- (کتاب فرحة الغری ص25)

najaf-map

سید ابن طاؤس کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی قبر اقدس کے پوشیدہ رکھنے میں بہت سے فوائد تھے کہ جن کی تفاصیل سے ہم آگاہ نہیں ہیں۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:

اے علی! کوفہ کا شرف تیری قبر کی بدولت سے ہے …

تو حضرت علی(ع) نے فرمایا: اے اللہ کے رسول(ص): کیا میں عراق کے شہر کوفہ میں دفن ہوں گا؟

تو رسول خدا(ص) نے فرمایا: ہاں تم اس کے پشت میں دفن ہو گے(فرحة الغری ص37/38)

حجاج بن یوسف جب بنو امیہ کی طرف سے گورنر بنا تو اس نے حضرت علی علیہ السلام کے لاشہ کی بے حرمتی کرنے کے لیے کوفہ، نجف اور اس کے گردو نواح میں موجود تین ہزار قبروں کو کھدوایا لیکن اسے حضرت علی علیہ السلام کی میت نہ ملی۔

(کتاب منتخب التواریخ)

رافیعہ گیلانی۔ راجن پور

SHARE

LEAVE A REPLY