مودی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف یورپین دارالحکومت برسلز میں مختلف کشمیری تنظیموں کا احتجاج جاری ہے۔
جمعرات کو جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ یورپ اور بیلجئیم زون کے زیر اہتمام یورپین پارلیمنٹ کے سامنے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ جبکہ کشمیر کونسل ای یو نے یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے دفتر کے باہر اپنا دوسرا احتجاجی کیمپ لگایا۔
جے کے ایل ایف کے احتجاجی کیمپ کی قیادت مشتاق دیوان، سردار نسیم اقبال اور سردار ظہیر زاہد نے کی۔
کیمپ کے شرکاء نے اس موقع پر یاسین ملک کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں، جن پر ان کی رہائی کے مطالبات درج تھے۔
رہنماؤں کے مطابق یاسین ملک کی جانب سے تہاڑ جیل میں بھوک ہڑتال کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہم نے بھی یہ علامتی بھوک ہڑتال کی ہے۔
اسی طرح کشمیر کونسل ای یو کی جانب سے بھی مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس کے مرکزی دفتر کے ساتھ آج دوسرا احتجاجی کیمپ لگایا گیا۔
اس موقع پر دفتر میں آنے جانے والے اور شومین کے بڑے چوراہے سے گزرنے والے افراد میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے اور انہیں مودی حکومت کے خطرناک اقدام کے مضمرات سے آگاہ کیا گیا۔
اس موقع پر چئرمین کشمیر کونسل علی رضا سید فرنچ اور انگلش زبانوں میں لوگوں کو اس مسئلے پر کشمیریوں کے خیالات اور خطے میں ایٹمی جنگ کے خطرات سے آگاہ کرتے رہے۔
اس موقع پر ورلڈ ڈائس پورہ الائنس یورپ کے چئر مین خالد جوشی، عمران ثاقب، خادم حسین، رضا، ہادی اور دیگر نے ان کی معاونت کی۔
دونوں تنظیموں کے اراکین نے یورپین قیادت سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے مودی حکومت کو اس کے غلط اقدامات سے روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، تاکہ خطے پر منڈلاتے ہوئے جنگ کے بادلوں کو ٹالا جا سکے۔












