ترک عوام نے ریفرنڈم میں صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دے دیا

0
183

ترکی کے عوام نے ریفرنڈم میں صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دے دیا۔51.3 فی صد نے ہاں اور 48.7 فی صد نے مخالفت کی۔ ترک صدر کے 2029 تک اقتدار میں رہنے کی راہ ہموار ہو گئی۔

ترک صدر طیب اردوان نے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امور سیاست میں فوجی مداخلت کا دروازہ بند کردیا ہے۔ انہوں نے مغربی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ عوام کے فیصلے کا احترام کریں۔

ادھر ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہ ترکی جمہوری تاریخ کے نئے دور میں داخل ہورہا ہے۔

استنبول میں اپنی رہائش گاہ پر حامیوں سے خطاب میں صدر اردوان نے صدارتی نظام کے حق میں ووٹ دینے پرعوام کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہاکہ ترکی کے ڈھائی کروڑ عوام نے ایک تاریخی فیصلہ دیا ہے۔ عوام نے تاریخ کی سب سے اہم اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ آج ہم نے سرکاری امور میں فوجی مداخلت کی طویل تاریخ کا دروازہ بند کردیا ہے۔

طیب اردوان نے امید ظاہر کی کہ ریفرنڈم سے ترکی کو فائدہ پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ اس اہم تبدیلی کے لیے ترک عوام نے پارلیمنٹ اور عوام کی خواہش کا ساتھ دیا ہے۔ اور ہماری تاریخ میں پہلی بار ایسا ہورہا ہے کہ ہم نظام حکومت سیاست کے ذریعے تبدیل کررہے ہیں۔

انہوں نے مغربی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ ترک قوم کی جانب سے ریفرنڈم میں دیئے گئے فیصلے اور اس کے نتائج کا احترام کریں۔

ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ اب ہمارا اگلا ہدف 2019 کے انتخابات ہیں۔ اس ریفرنڈم کی کامیابی کے بعد ترکی اپنی جمہوری تاریخ کے نئے دور میں داخل ہورہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY