سپریم کورٹ آف پاکستان نے امریکی صحافی ڈینئل پرل کیس کے ملزمان کی جانب سے سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں علاج اور دیگر سہولیات کی عدم فراہمی کی شکایات پر سندھ حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

ملزمان کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کو اپارٹمنٹ میں طبی و دیگر سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کے وکیل کا کہنا تھا کہ احمد عمر شیخ کو فلیٹ میں نقل و حرکت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی جس پر حکومتی وکیل نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ کمروں میں نقل وحرکت نہیں کرنے دی جاتی، حقیقت یہ ہے کہ صرف فلیٹس کو لاک کردیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 28 جنوری کو ڈینئل پرل قتل کیس میں تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے اگلے ہی روز سندھ حکومت نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی اپیل دائر کی تھی۔

وفاقی حکومت نے بھی ان ملزمان کی عدم رہائی کے لیے استدعا کی تھی جس پر عدالت نے ملزمان کو جیل کے احاطے ہی میں رہائشی ماحول فراہم کرنے کی مشروط اجازت دی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY