عالمی یوم خواتین اور معاشرے میں عورت کا استحصال” شازیہ چودھری

0
1656

عالمی یوم خواتین اور ہمارے معاشرے میں عورت کا استحصال”

کالم نویس: شازیہ چودھری

کلر راجوری جموں و کشمیر بھارت

 آٹھ مارچ 2024 کو عالمی سطح پر یوم خواتین منایا جا رہا ہے۔ خواتین کا عالمی دن منانے کی روایت 1900ء کے اوائل میں پڑی۔ تب پہلی بار خواتین نے اپنے ساتھ برتی جانے والی زیادتیوں اور صنفی امتیازات کے خلا ف آواز بلند کی۔ پہلی بار امریکہ میں یہ دن 28 فروری کو منایاگیا، جو اُس وقت ایک قسم کی سیاسی تقریب تھی جسے امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی کی جانب سے منعقد کیاگیا تھا۔ تب سے یہ دن 1913ء تک ہر سال فروری میں منایا گیا۔ لیکن پھر انٹرنیشنل کانفرنس آف ورکنگ ویمن منعقد ہوئی جس میں ایک جرمن خاتون لیڈر (کلا را زیٹکن ) نے اِس دن کو عالمی سطح پر منانے کی تجویز پیش کی، جسے بے حد پزیرائی حاصل ہوئی اور تب سے عالمی یومِ خواتین 8 مارچ کو پوری دنیا میں منایا جانے لگا۔ اِس دن خواتین کو پوری دنیا میں اُن کی ہمت اور بلند حوصلے پر خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے۔

ہر سال یہ دن پوری دنیا میں بڑے جوش وخروش سے منایا جاتا رہا ہے جس کا اولین مقصدجنسی مساوات کو فروغ دینا ہے۔ اِس کے ساتھ ہی خواتین کی سماجی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی کامیابیوں کو سراہنا اور اُن کی حوصلہ افزائی کرنا بھی اُن مقاصد میں سے ایک ہے۔ خواتین کا عالمی دن منانے کا بنیادی مقصد اُن کو زندگی کے تمام حقوق اور تحفظ فراہم کرنا ہے جن کی بناء پر ہر عورت اپنی زندگی خود مختار ہوکر جی سکے۔

8 مارچ 1957ء ہی عالمی سطح پر وہ اہم تاریخی دن ہے، جب امریکہ کی ایک کپڑا مِل میں مزدور خواتین نے کام کے اوقات کو سولہ گھنٹے سے دس گھنٹے کرنے اور اجرت بڑھانے کے لئے پہلی بار صدائے احتجاج بلند کی تھی، اعتراض اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور آخر کار ان مزدور خواتین کو 1908ء میں جد و جہد کا صلہ ملا۔ 8 مارچ 1915ء کو اوسلو (ناروے) کی عورتوں نے پہلی عالمی جنگ میں انسانی تباہی و بربادی پر بھی سخت ردّ عمل کا اظہار کیا تھا۔ 8 مارچ 1917ء کو روسی خواتین نے امن اور بقائے باہمی کے لئے آواز اٹھائی۔ دھیرے دھیرے یہ 8 مارچ عالمی سطح پر خواتین کے لئے حق، خود اختیاری اور عزت و افتخار کے پیغام کا دن بن گیا اورمسلسل خواتین کے مطالبات نے اقوام متحدہ کو آخر کار مجبور کر دیا، چنانچہ اس نے خواتین کے حقوق اور انصاف کے لئے8 مارچ 1975ء سے 8 مارچ 1985ء تک عالمی خواتین دہائی کا اعلان کیا کہ اس دہائی میں عالمی سطح پر خواتین کے ساتھ ہو رہے ناروا سلوک، ظلم، تشدّد، بربریت، استحصال اور نا انصافی کو ختم کرکے حقوق انسانی کا تحفہ دینے کے ساتھ ساتھ قومی اوربین الاقوامی سطح کی ترقیٔ رفتار میں شامل کیا جائے۔

اقوام متحدہ کی ایسی کوششوں کا ترقی یافتہ ممالک میں مثبت نتائج دیکھنے کو ملا، لیکن دوسرے بہت سارے ممالک بشمول ہمارے ملک بھارت میں عالمی خواتین دہائی بس ایک رسم ادائیگی تک ہی محدود رہی۔ 1967ء کے بعد 1980ء میں کوپن ہینگن میں دوسری بین الاقوامی خواتین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور 1985ء میں نیروبی میں خواتین کی ترقی کے لئے بہت ساری پالیسی اور حکمت عملی تیار کی گئیں۔ 1992ء میں خواتین اور ماحولیات کا جائزہ لینے کے لئے اس بات کو بطور خاص نشان زد کیا گیا کہ خواتین اور ماحولیات، ان دونوں پر تباہی کے اثرات نمایاں ہیں۔ لہٰذا موحولیات کے تحفظ میں خواتین کی حصّہ داری کی اہمیت کو بطور خاص سمجھا جائے۔

1993ء میں یوم خواتین کے موقع پر انسانی حقوق پر منعقدہ، ویئنا عالمی کانفرنس میں حقوق نسواں کے مُدّعے کو حقوق انسانی کی فہرست میں شامل کیا گیا اور خواتین پر ہو رہے تشدّد اور استحصال کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کا اعلان کیا گیا۔ 1995ء میں منعقد چوتھی عالمی خواتین کا نفرنس میں خواتین کے وجود اور ترقی میں سدّ راہ بن رہے نکات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اور ان کے سد باب کے لئے ’’ پلیٹ فارم برائے ایکشن ‘‘ اپنایا گیا۔ جس پر پوری دنیا میں بہت سنجیدگی سے غور و فکر کیا گیا۔

ایسی تمام کوششوں سے بہت سارے ممالک میں بہتر نتائج سامنے آئے، لیکن افسوس کہ ہمارے ملک بھارت سمیت بہت سے ایسے ممالک ہیں، جہاں ان مساعی کوششوں کی روشنی، خواتین کے تئیں سطحی ذہنیت کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ خواتین کے جنسی استحصال کیخلاف سخت سے سخت قوانین بنتے رہے ہیں، لیکن ان پر سنجیدگی سے کبھی بھی عمل در آمد نہیں ہو پاتا، جس کی بناء پر خوفِ قوانین ختم ہو چکا ہے۔ ہماری حکومت اُس وقت جاگتی ہے، جب جلسے، جلوس، احتجاج اور مظاہرے زور پکڑتے ہیں۔ 1980ء میں آزاد بھارت میں پہلی بار خواتین نے متحّد ہو کر متھرا عصمت دری کے خلاف اپنی زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا تھا، جس سے حکومت اور انتظامیہ کو مجبور ہو کر متھرا جنسی زیادتی معاملہ پر دوبارہ غور کرتے ہوئے سنوائی کرنا پڑی تھی، ساتھ ہی ساتھ عصمت دری سے متعلق قوانین میں ترمیم کے لئے بھی مجبور ہونا پڑا تھا۔ یہ یقیناََ بھارت کی خواتین کے اتحاد اور جد و جہد کی بڑی کامیابی تھی۔

لیکن ان تمام کوششوں اور قوانین کے باوجود عصمت دری کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ خاص کر اجتماعی عصمت دری عام ہو چکی ہے ہمارے ملک میں گزشتہ کچھ ہی سالوں میں اجتماعی عصمت ریزی کے کتنے واقعے سامنے آۓ ہیں اور صرف عصمت دری ہی نہیں بلکہ عصمت دری کر کے موت کے گھاٹ بھی اتار دیا جاتا ہے دامنی، نربھیا، آصفہ، اناؤ، حیدرآباد وغیرہ ایسے واقعے ہیں جنہوں نے کسی بھی ذی شعور اور درد دل رکھنے والے انسان کو دہلا کر رکھ دیا اوپر سے المیہ یہ ہے کہ مجرمان کی پھانسی کی سزا کو بھی دن بدن ٹالا جا رہا ہے۔ آصفہ جو کہ صرف آٹھ سال کی نابالغ بچی تھی جسکو نشہ آور دوائیاں کھلا کھلا کر کئی دن تک اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری ہوتی رہی اور آخر میں سر پھوڑ کر زندگی سے ہی محروم کر دیا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ آصفہ کے مجرمان کو صرف کچھ ہزار کے جرمانے اور سات آٹھ سال کی سزا سنا کر ہمارا قانون بری ہو چکا ہے۔ نربھیا کے ساتھ بھی وہی ہوا اس کے مجرمان کی پھانسی کو ہر 15 دن کے بعد ٹالا جا رہا ہے۔اناؤ کی بیٹی بھی انصاف کے لئے لڑتے لڑتے اس دنیا سے چلی گئی اور اس کا مجرم کھلی فضاؤں میں سانس لے رہا ہے۔ حیدرآباد کی ڈاکٹر کے ساتھ انصاف بھی غیر قانونی طریقے سے انکاؤنٹر کر کے کر دیا کیونکہ قانون کے رکھوالوں کو خود بھی قانون پہ بھروسہ نہیں رہا ہے۔ خواتین پر تشدد کے خاتمہ کے عالمی دن کے حوالے سے جاری کردہ ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں کشمیر میں جنوری 1989ء سے اب تک ایک ہزارسے زائد خواتین سمیت 95459 افراد شہید ہوۓ ہیں۔ جنوری 2001ء سے اب تک کم سےکم 670 خواتین شہید ہوئی ہیں۔ کشمیری خواتین دنیا میں بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 1989ء سے اب تک 22,905 خواتین بیوہ ہوئی ہیں۔ جبکہ 11,140خواتین کی بے حرمتی ہوئی ہے۔ جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والے خواتین اور کٹھوعہ کی معصوم بھی شامل ہیں۔ جنسی زیادتی کی شکار عورتوں اور بچّیوں کا مستقبل کس قدر تاریک ہو جاتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایسی لڑکیا ں موت کو گلے لگانے کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں اور جو کسی وجہ کر خودکشی نہیں کر پاتی ہیں ، وہ زندگی بھر، بے حِس سماج میں بے وقعت اور ذلّت بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

پاکستان کی مختارن مائی بھی ایک ایسی ہی خاتون تھیں جنہوں نے کئی بار خود کشی کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار وہ بچ جاتیں، دراصل مختارن مائی کے بھائی پہ عصمت دری کا الزام لگا اور جرگے میں اس کو سزا سنائی گئی اس پہ بہت زیادہ تشدد ہو رہا تھا مختارن مائی یہ سب برداشت نہ کر سکی اور اپنے بھائی کی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے میدان میں اتر آئی لیکن جرگے میں مختارن مائی کو ہی اس کے بھائی کے ناکردہ گناہ کی پاداش میں عصمت ریز کیا گیا، جرگے نے فیصلہ سنایا کہ عصمت کے بدلے عصمت اور بے حرمتی کے بدلے بے حرمتی اسطرح مختارن مائی کی اجتماعی عصمت ریزی کی گئی ۔ مختارن مائی نے زندگی سے چھٹکارا پانے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی اور پھر اس نے ہمت کر کے قانون سے انصاف مانگنا شروع کیا عدالتوں کے چکر کاٹےلیکن اس کو انصاف نہ ملا لاہور ہائی کورٹ نے تو یہ تک کہہ دیا کہ کوئی بھی دو گواہ ایسے نہیں جنہوں نے یہ اجتماعی عصمت ریزی ہوتی ہوئی دیکھی ہو۔

آخر میں جب کچھ تنظیمیں بھی مختارن مائی کی اس لڑائی میں شامل ہو گئیں اور معاملے نے طول پکڑ لیا اور معاملہ ملکی اور غیر ملکی سطح پر اچھلنے لگا تو حکومت نے مختارن مائی کو معاوضے کے طور پر رقم دی جس سے انہوں نے بے سہارا اور حالات کے ستاۓ ہوۓ بچوں کیلئے اسکول اور خواتین کے لئے شیلٹر ہوم بنایا جس میں شروع شروع میں بے شک کم تعداد تھی لیکن آہستہ آہستہ تعداد بڑھنے لگی اور اب بھی یہ اسکول اورشیلٹر ہوم بدستور چل رہے ہیں۔

2003ء میں منعقد ہونے والی جنیوا کانفرنس برائے حقوق انسانی نےاور دیگر کئی تنظیموں نے مختارن مائی کو اور مختلف اوقات میں ایسی عظیم خواتین کو ان کی منزل تک پہنچنے کی روداد سننے اور ان کے تجربات سے دوسری ایسی خواتین کو حوصلہ، ہمّت اور جرأت و جد و جہد کے ساتھ نبرد آزما ہونے کی تلقین کرنے کے لئے بلایا۔ ‘جد و جہد برائے انصاف ‘ اور ’ ظلم کو علم سے ختم کرو ‘ کا نعرہ دینے والی ایسی علامتی خواتین کو سامنے رکھ کر عالمی یوم خواتین کے موقع پر بہت سنجیدگی سے لائحہ عمل تیار کیا جائے اور قانون کی بالا دستی قائم رہے تو یقینا خواتین کے ساتھ آئے دن ہونے والے ظلم و زیادتی، استحصال اوربربریت سے نجات ملنے کے ساتھ ساتھ خواندہ سماج کی تشکیل ہوگی، جس سے بہت سارے مسائل خود بخود ختم ہو جائینگے۔ بس شرط یہ ہے کہ عالمی یوم خواتین کی اہمیت کو سمجھا جائے اور مرد بھی اس میں بے لوث تعاون کریں۔

اس سال یعنی 2020ء میں ہمارے وزیر اعظم جناب نریندر مودی صاحب نے بھی 8 مارچ کو یوم خواتین کے موقعے پر اپنے سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایسی ہی با ہمت با حوصلہ اور زندگی کی تلخیوں سے جدو جہد کر کے ابھرنے والی خواتین کے نام کرنے کے لئے فیصلہ کیا ہے۔ بے شک یہ ایک سراہنیہ کام ہے اور ہم ان کے اس فیصلے کی قدر بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس فیصلے کے بجاۓ مودی جی خواتین کی فلاح و بہبود ان کی حفاظت کے لئے اور انصاف کے انتظار میں جھلس رہی خواتین کے لئے اس سے بھی بہتر فیصلہ لے سکتے تھے تا کہ پھر کوئی نربھیا اکیلی گاڑی میں بیٹھنے کی وجہ سے نہ لُٹتی، پھر کوئی آصفہ جنگل میں جانوروں کے ساتھ بربریت کا شکار نہ ہوتى اور اناؤ کی اور کوئی بیٹی ذات پات کے نام پر نہ نوچی جاتی اور کوئی بھی ڈاکٹر، استانی یا کسی اور پیشے سے تعلق رکھنے والی خاتون اپنے فرائض انجام دیتے ہوۓ درندگی کا شکار نہ ہوتی کاش وزیر اعظم مودی صاحب تاریخ پہ تاریخ جیسے نظام کو ختم کر کے ایسا قانون تیار کرتے جو خواتین کے استحصال کرنے والوں کے لئے عبرت ناک ہوتا تو یہی ان کی طرف سے یوم خواتین پہ خواتین کے لئے ان کی طرف سے بیش بہا تحفہ ہوتا۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر بار بڑے جذبے کے ساتھ 8 مارچ کا یہ دن مناتے ہیں لیکن افسوس کہ اِس دن کے اختتام پر وہ سارے جذبے ملکی حالات کے پیشِ نظر دم توڑ جاتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آتے ہی ہم خود سے اور اُن مظلوم خواتین سے کئے ہوئے عہد و پیماں بھو ل جاتے ہیں۔ بہت تعجب کی بات ہے کہ ہم اُن مجبور خواتین سے کئے ہوئے وعدے تو بھول جاتے ہیں لیکن فرسودہ رسم و رواج نبھاناکبھی نہیں بھولتے۔ ہمیشہ کی طرح اِ س بار بھی خواتین کے اعزاز میں مختلف پروگرامز منعقد کئے جائیں گے، مشہور شخصیات کو میڈیا کے مختلف چینلز پر بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا جائے گا اور اُن سے خواتین کے حقوق کے متعلق ہمدردی وصول کی جائے گی، اُن بے بس و لاچار خواتین سے کبھی نہ پورے ہونے والے وعدے کئے جائیں گے، سیاسی ٹاک شوز ، اور ادبی محفلیں سجائی جائیں گی، نئے عزم کے ساتھ ایک بار پھر حکومتِ ہند کی طرف سے کچھ نئے قوانین اور احکامات کو متعارف کروایا جائے گا، نئے سرے سے پالیسی پلاننگ کی بات کی جائے گی، تنظیمی ادارے ایک بار پھر سے اپنا آپ منوانے کے لئے فلاحی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے لگیں گے لیکن افسوس کہ یہ محض وقتی کاوش ہوگی اور ہر بار کی طرح اِس بار بھی نامور شخصیتوں کو خوب مقبولیت حاصل ہوگی سیلفیاں لی جائیں گی اور ملکی صورتِ حال جوں کی توں رہے گی۔

وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں یہ دن اپنی ایک خاص اہمیت بناتا رہا ہے جس میں خواتین پر ظلم و تشدد کے خلاف آواز اُٹھائی جاتی ہے، اُن میں زندگی کے بنیادی حقوق سے متعلق شعور و آگاہی بیدار کرنے کے لئے مختلف سیشنز منعقد کئے جاتے ہیں، نت نئے انداز میں خواتین کی بہتر کار کردگی پر اُن کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو اُن کو با اختیار شخصیت بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اِس ضمن میں ہمارے فلاحی اداروں کا خصوصی تعاون رہا ہے جوکسی حد تک وقتی طور پرمعاشرے میں مثبت ارتعاش کو جنم دیتا ہے لیکن کچھ وقت بعد یہی مثبت تبدیلی نئے سرے سے منفی صورت اختیار کر جاتی ہے اور نتیجے میں صنفی امتیازات کی شدت بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور پھر ہر آئے دن خواتین ظلم کی چکی میں پِس رہی ہوتی ہیں ۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے کا نصف حصہ خواتین کی اکثریت ہے جو شعور و آگاہی کے باوجود آج بھی اپنے حقوق سے محروم ہے۔ اِن تمام حا لات کے پیش نظر ضرورت اِس امر کی ہے کہ اِن تمام تر کوششوں کے ساتھ ساتھ کچھ عملی اقدامات بھی کئے جائیں جو سماج میں پھیلی ہوئی نا انصافیوں کا جڑ سے خاتمہ کر سکیں ۔ حکمرانوں کو چاہیئے کہ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے آئے دن نئی پالیسیز اور احکامات کی آڑ میں کئے گئے دعوے پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہوں تاکہ ہر عورت عزت اور تحفظ کے ساتھ اپنی زندگی جی سکے۔ یہ ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا پہلی شرط ہے۔

نسوانی آزادی کے نام پہ آجکل مختلف مہمیں چلائی جا رہی ہیں ہمارے ملک میں “می ٹو” نام کی تحریک بڑے زور و شور سے چلی لیکن کیا اس تحریک کا عملی زندگی میں کچھ فائدہ ہوا ہے؟ یہ بات جاننا بھی اشد ضروری ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک پاکستان میں آج کل خواتین مارچ کی تحریک چل رہی ہے اس مارچ نے خواتین کی نسوانیت پہ چوٹ شروع کر دی ہے اس مارچ نے ماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمر جیسے کرداروں کو دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے یہ دونوں فریق اپنی اپنی بات کو درست ثابت کرنے پہ تلے ہوۓ ہیں سڑکوں پر پلے کارڈ لے کر نکلنے سے “میرا جسم میری مرضی” جیسے اشتہار لگانے سے خواتین کو حقوق نہیں ملیں گے اس طرح کی بے حیائی سے خواتین پہ تشدد کم نہیں ہوگا بلکہ بیشتر خواتین کو اس کی وجہ سے ذہنی تشدد سہنا پڑے گا۔ اس مارچ کا اثر ہمارے ملک میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے چونکہ ان دونوں ملکوں کی تہذیب ثقافت اور مسائل یکساں ہیں۔

پاکستان کی سڑکوں پر خواتین کے حق میں نکالی جانے والی ریلی اگر واقعی عورتوں کے حق میں ہوتی تو اس میں آویزاں کئے گئے پلے کارڈ جس پر لکھا ہے “””میرا جسم میری مرضی””””” میں آزاد ہوں”””” کے بجائے ان پلے کارڈز پر اگر یہ نعرے تحریر ہوتے تو نہ صرف معاشرہ انکے اس عمل کو سراہے گا بلکہ قوم اور ملک کی عزت میں بھی اضافے کا سبب بنیں گی۔

1۔”مُجھے والدین کی وراثت میں حصہ چاہیئے۔”

2۔ “تعلیم حاصل کرنا میرا بنیادی حق ہے۔”

3۔ “گھر کے کاموں میں عورتوں کا ہاتھ بٹانا چاہئے” یہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے۔

4۔ “بہترین انسان اور خاص کر بہترین مسلمان وہ ہوتا ہے جو عورتوں کیساتھ اچھائی سے پیش آتا ہے۔ “

5۔” مومن مردو اپنی آنکھیں نیچی رکھو۔ “

6۔ “عورت نہ صرف مرد کی بلکہ ملک کی بھی ذمّہ داری ہے۔ “

7۔”باعزت روزگار ہر عورت کا بُنیادی حق ہے۔ “

8۔”ماں کے قدموں تلے جنّت ہے۔ “

9۔”بیٹیوں کو اچھی تعلیم اور تربیت دینے والا مرد جنّت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کا ساتھی ہے۔ “

10۔ “قیامت کے دِن تُم سے عورتوں کے حقوق بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔”

11۔ “بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں۔ “

12۔ ہمارا احترام سوسائٹی پر فرض ہے۔”

13۔”لڑکیوں کی اچھی تربیت جنت کی ضمانت ہے۔”

14۔ “ہم مائیں، بہنیں، بیٹیاں، ہیں قوموں کی عزت ہم سے ہے۔”

15۔ “ہم شو کیس میں رکھے کھلونے یا بازار میں بکنے والی کوئی چیز یا ٹی وی پر چلنے والا اشتہار نہیں بلکہ اک قابل عزت زندہ جیتی جاگتی حقیقت ہیں۔”

عالمی یوم خواتین 2019 ء کے موقع پراقوام متحدہ نے 2030ء تک خواتین کو برابری کا حق دیئے جانے، انھیں شانہ بہ شانہ نئی راہ دکھاتے ہوئے دنیا کے سامنے بہترین بنانے میں تعاون دیئے جانے کا ہدف رکھا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ اس ہدف کو پورا کرنے میں سماج کے ہر طبقہ کا تعاون ملے گا اور ہندوستان کی خواتین بھی بے خوف ہو کر جیئے گی، بربریت اور جنسی تشدد کا گراف کم ہوگا اور عورت کو اپنا وجود منوانے اور بچانے کے لئے “می ٹو”اور عورت مارچ جیسی بیساکھیوں کا سہارا نہیں لینا پڑے گا۔ “شاید کہ تیرے دل میں اُتر جاۓ میری بات

SHARE

LEAVE A REPLY