پاناما لیکس مقدمہ، سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ

0
814

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما پیپرز میں غیر ملکی اثاثوں کے انکشافات کی بنیاد پر دائر درخواستوں کی سماعت بدھ کو سپریم کورٹ میں دوبارہ شروع ہوئی۔

عدالت کے پانچ رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی مبینہ غیر ملکی جائیداد سے متعلق مزید دستاویزات جمع کروائی ہیں جب کہ شریف خاندان کی طرف سے اپنے وکلا کی ٹیم تبدیل کر دی گئی ہے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اپنے عہدے کی میعاد ختم ہونے کے بعد گزشتہ ماہ سکبدوش ہو گئے تھے۔ ان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے ان درخواستوں پر آخری سماعت نو دسمبر کو کی تھی۔

اب یہ سماعت پانچ رکنی نیا بینچ کرے گا جس کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے جب کہ دیگر جج صاحبان میں جسٹس، اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس عظمت سعید شیخ شامل ہیں۔

نئے چیف جسٹس ثاقب نثار نے عہدہ سنبھالنے کے بعد 31 دسمبر کو یہ بینچ تشکیل دیا تھا۔

دریں اثناء وزیراعظم نواز شریف نے اس معاملے میں اپنے وکیل سلمان اسلم بٹ کی جگہ مخدوم علی خان کو مقرر کیا ہے جب کہ مریم نواز اور ان کے شوہر محمد صفدر کی وکالت اب شاہد حامد کریں گے۔ سلمان اکرم راجہ وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی طرف سے پیش ہوں گے۔

گزشتہ سال اپریل میں پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی فہرست میں غیر ملکی اثاثے اور آف شور کمپنیاں رکھنے والوں کے ناموں میں وزیراعظم کے تینوں بچوں کے نام بھی تھے جس پر حزب مخالف خصوصاً پاکستان تحریک انصاف وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی آرہی ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور ایک وکیل طارق اسد نے پاناما پیپرز کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

وزیراعظم اور ان کی حکومت میں شامل عہدیدار کسی بھی طرح کی بدعنوانی میں ملوث ہونے کے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY