سر تاج الاولیا ء مجدد ِ اعظم محی الدین حضرت عبد القادر جیلانی علیہ رحمہ۔۔۔شمس جیلانی

0
2251

قارئین گرامی! جس طر ح عوام النا س نے ربیع الاول کو حضورﷺکا مہینہ قرار دے رکھا ہے، با لکل اسی طر ح ربیع الثا نی کو حضرت عبد القاد رجیلا نی علیہ رحمہ کا مہینہ قرار دے رکھا ہے اور ا ُس کو با رہ وفات اگر عوامی زبا ن میں کہتے ہیں تو اِس کو گیار ہویں شریف کا مہینہ یعنی انکی ولادت کی کا مہینہ۔اور اس طر ح فا ئدہ یہ ہوا کہ ایک کے بجا ئے امت کو دو مہینے مل گئے۔یہ دونو ں مہینے ہی ذکر اور فکر میں گزر نے چا ہیئے تھے۔مگر ظلم یہ ہے کہ ا س میں بھی سوا ئے ان کی کرا ما ت کے ذکر کے اور کچھ نہیں ہو تا۔ جس کا انہو ں ؒنے کبھی اپنے خطبا ت میں سوا ئے اپنی مخصوص محفلو ں کے ذکر نہیں فر مایا۔وجہ یہ تھی کہ انؒ کی زندگی کہ کئی پہلو تھے ایک عوام النا س اور علماء کے لیئے، تو دوسرا طا لبان ِ معرفت کے لیئے۔ لہذا انہو ں ؒنے دو نوں کو کبھی گڈ مڈ نہیں ہونے دیا۔لیکن ان کے بر عکس واعظین کاسا را زور کرامات پر ہی رہتا ہے۔جس سے عوام الناس کو کو ئی فا ئدہ نہیں پہنچتا۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ وہ صا حب ِ کشف و کرا ما ت تھے اور اس کا سب سے بڑا ثبو ت جو ملتا ہے وہ ابن ِ کثیر کے یہا ں بھی ہے کہ وہ تحریر فر ما تے ہیں کہ“ عبد القادر جیلا نی کی کرا ما ت اس کثر ت اور تواتر کے سا تھ ملتی ہیں کہ ان کی تر دید نہیں کی جاسکتی اور انہو ں نے سیرت النبی (البدایہ النہایہ) میں بھی ان کوصاحب ِکشف بزرگ لکھا ہے، ًنیز یہ کہ لوگوں نے ان سے بڑا فا ئدہ اٹھا یا ً
مگر جیسا کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ عوا می مجا لس میں انہو ں ؒ نے اس کو کبھی مو ضو ع نہیں بنا یا،عوامی مجا لس میں ان کو مو ضو ع بنا نا با لکل ایسا ہے جیسا کہ کسی پہلے درجہ کے طا لب علم کے سا منے پی ایچ ڈی کا مقا لہ پڑھنا جائے۔اس کو علامہ اقبا ل ؒ نے بڑی خو بصو رتی سے اپنے ایک شعر میں سمویا ہے“ اقبا لؔ یہا ں ذکر نہ کر لفظ ِ خو دی کا مو زوں نہیں مکتب کے لیئے ایسے مقا لا ت“ ہما رے ایک دو ست نے اس کو ایک مر تبہ مقامی حلقہ تفسیرمیں،قرآن سے ہی ثا بت کیا کہ یہ عوامی مضمو ن نہیں ہے۔؟اس لیئے کہ جو اسے نہیں سمجھتے ہیں نہ انہیں منہ کھولنے کی اجازت ہے!اور نہ عوام الناس کو سمجھنے کی تکلیف دی جا ئے، ورنہ وہ را ستہ سے بھٹک جا ئنگے۔ اور اس کی مثا ل انہو ں نے حضرت مو سٰی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے قصے سے دی۔ ان کا استد لا ل وہی تھا جو حضرت خضر ؑ نے حضرت مو سٰی ؑ سے فر ما یا کہ“ آپ چپ کیسے رہ سکتے تھے۔جب جا نتے ہی نہیں تھے کہ میں نے یہ تمام افعال اللہ کی مر ضی کے مطا بق ہی انجام دیئے ہیں“تو یہا ں بھی صورت حا ل یہ ہی ہے کہ جو منکر ہیں۔ ان کی سمجھ میں ہی نہیں آسکتا،اور جو عوام ہیں، یہ مسا ئل ان کی سمجھ سے یو نہی با ہر ہیں۔ اور وہ مو جو دہ دور کے سجا دہ نشینو ں کو ان پر قیا س کر کے ان کو بھی کو ئی گو شہ نشین اور مر یدو ں کے نذرا نو ں پر گزارا کر نے والا سجا دہ نشینوں جیساقیا س کر لیتے ہیں۔اور اس کا م پر پر دہ پڑجا تا ہے، جس کی بنا پر وہ محی الدین کہلا ئے یعنی“ دین کو زند ہ کر نے والے“اور یہ مہینہ بھی اسی کشمکش کا شکا ر ہو جا تا ہے۔ بجا ئے کوئی استفا دہ حاصل کر نے کے۔
جو منکر ہیں اتنا حد سے تجا وز کر جا تے ہیں کہ اسے شرک کہتے ہیں اور دوسروں کااس مہینہ میں سا را زور اسی پر ہو تا ہے کہ ان کی کرا ما ت کیا تھیں؟ جبکہ وہؒ خود اپنی کتاب غنی الطا لبین میں اس کو پا نچو یں در جہ کی چیز فر ما تے ہیں۔اورً یہ کہ یہ اللہ اور بندے کے در میا ن پردے کا دور ہو تا ہے، جب وہ اس سے بھی گزر جا تا ہے تب اسے عرفا ن حا صل ہو تا ہے ً جبکہ دوسرا گروہ اس کو منا نے ان کے نام پر نذرونیا ز اور جا نور پا لنے اور ذبح کر نے کو شرک قرار دیتا ہے اور بہ زعم ِخود تقویٰ کی بنا پر ایسی با توں پر لب کشا ئی کر تا ہے،جن کا اس کو علم ہی نہیں ہے اور ان تما م غلط کا ریو ں کا جو عوام ان کے نا م پر کر تے ہیں ذمہ دا ر قرار دے کر اپنے آپ پرتہمت لگانے کا مر تکب ہوتا ہے۔اور اس پر ظلم یہ کہ استدلال کے لیئے سورہ بقر کی وہ آیت جس میں۔۔ مااحل بہ لغیر اللہ۔۔ کا ذکر آیا ہے پیش کرتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر حضرت عبدا للہ ابن ِ مسعودؓ نے فرمائی ہے ما ذبح للطوا غیت۔۔۔ یعنی جو جانور طاغو توں کے نام پر ذبح کیا جا ئے وہ حرام ہے۔اس تفسیر کی روشنی میں کو ئی کہہ سکتا ہے کہ کو ئی مسلمان کسی طا غوت (کسی شیطا نی طا قت)یعنی دیوی دیو تا وغیرہ کے نام پر ذبح کریگا؟ با لا خر جانور اگر پا لے ان ؒکے نام پر گئے تھے تو بھی ان کو یہ مقام اسلام کے اتبا عِ رسول ﷺ اور وحدانیت ماننے کی بنا پر انہیں ملا نہ کہ(نعوذباللہ) طاغوت کی پیرو ی کی بناپر۔اورنہ ہی ان کے ما ننے والے ایسے سمجھے جاسکتے ہیں! لہذا یہ اللہ ہی کی محبت میں پا لے جا تے ہیں اور اللہ ہی کے نا م پر ذبح کیئے جا تے ہیں۔ اور پھر اگر بیچ میں یہ لغزش مان بھی لی جا ئے، تو اس حدیث کی بنا پرجو اہل ِ دوزخ اور جنت کے بار ے میں ہے۔۔۔۔وانماالاعما ل بخواتیمھا۔ (کہ ثواب کا دارومدار عمل کے مرتبہ نتا ئج پر ہے) اگر ان ؒکے نا م پر جانور پالا بھی تھا تو بھی آخری نتیجہ یہ ہے کہ وہ ذبح اللہ ہی کہ نام پر ہوا۔ اور یہ دو نوں طرف کی لا علمی ہے۔جو ایسا کرا تی ہے اگر دو نوں عقیدت یا تعصب کی عینک اتا ر کر دیکھیں، تو انؒ کا نو را نی چہرہ نظر آ جائیگا۔جنہوں نے بگڑی ہو ئی امت کو سنبھا لنے کی کو شش کی اور آج تک ان کا صحیح اتبا ع کر نے والے سا ت سو سال سے فیض پاتے آرہے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ محی الدین کہلا نے کے مستحق بنے۔ہم آپ کو وہ روا یتی با تیں سنا نے کے بجا ئے جو آپ پہلے ہی بہت سن چکے ہیں، ہم ان کی زند گی کی اصل شبیہ پیش کر رہے ہیں۔جس کے لیئے اللہ تعا لیٰ سبحانہ تعالیٰ نے انہیں اسوقت بھیجا تھا۔پہلے تو ہم آپ کو اس دور کے با رے میں بتا نا چا ہیں گے کہ جب انہو ں ؒنے آنکھ کھو لی تو وہ دو ر تھا جس میں سلجو قیوں نے ابو بہ کو شکست دے کر عبا سی سلطنت دو با رہ قا ئم کر لی تھی۔مگر پور اعا لم ِ اسلام آج کی طر ح سیکڑوں با د شا ہتو ں میں بٹا ہوا تھا اور سب ایک دو سرے سے جو ع الا رض میں مبتلا ہو نے کی سبب دست بہ گر یبا ں تھے۔
جبکہ خلیفہ کا کا م اتنا رہ گیا تھا کہ جو جیت جا ئے اس کو سند ِ با د شا ہی عطا کر دے۔گو اس وقت جو خلیفہ تھا وہ دیندا ر تھا اور جو علما ء اور صو فیا ء دو نوں کا احترام کر تاتھا۔ اور سا تھ لے کر چلنے کی کو شش بھی کر تا تھا، مگر عوام اور روسا ء گمرا ہ ہو چکے تھے لہذا وہ ہر ایک کے کنٹرول سے با ہر اور سا زشو ں میں مصروف تھے۔ اور آج کی طرح ہر ایک باد شا ہ ان کو را ضی رکھنے اور اپنے تخت کو بچا نے میں مصروف رہتا۔ ایک طر ف شا م پر عیسا ئی حملہ آور تھے تو دوسری طر ف با طنی فر قہ کے سر برا ہ حسن بن صبا ح کے معتقدین تبا ہی مچا ئے ہو تھے۔ جو منہ کھو لتا، چا ہے وہ عا لم ہو یا با د شاہ اور سردار، ؑوہ اپنے فدا ئین سے اسے قتل کروا دیتے۔ اسی دوران انہوں ؒ نے ظلم یہ کیا کہ نظا م الملک طو سی کو جو کہ بہت بڑا صا حب علم اور بہترین منتظم تھا قتل کروا دیا۔ اس طر ح سلجو قی سلطنت بھی انتشار کا شکا ر ہو گئی۔ایسے میں حضرت عبد القادر جیلا نی ؒکی پیدا ئش ایک انتہا ئی بزرگ گھرا نے میں ہو ئی اور بچپن سے ہی ان کے جو ہر کھلنے لگے۔دنیا میں کوئی کام اللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف نہیں ہوتا اس نے انہیں اس راہ پر لگادیاتو وہ حصو ل علم کے لیئے بغداد تشریف لے گئے اور راستہ میں اپنی سچا ئی کی بنا پر ڈا کو ؤ ں کو مطیع کر تے ہو ئے بغداد اس طر ح پہنچے کہ اس واقع کےشاہدین اور شہرت ان سے پہلے بغداد پہنچ چکی تھی۔ یہاں آنے کے بعد انہوں ؒ نے پہلے تو حضرت حماد ؒ بن مسلم دبا س جو کہ اس دور کے نامور عارف تھے، انکی خدمت میں حا ضر دی، جنہو ں ؒنے انہیں ہا تھو ں ہا تھ لیا۔مگر تھو ڑے دنو ں بعد انہیں یہ محسوس ہوا کہ انکے لیئے صرف علم با طنی ہی کا فی نہیں ہے، لہذا اس وقت کے عظیم فقیہ حضرت قاضی ابو سعید المبا رک ؒکی خدمت میں حا ضرہو ئے اور ان سے علم القر آن حدیث اور فقہ وغیرہ حا صل کیئے اور جب انہو ں نے یہ فرما کر ان کو فا رغ کر دیا کہ“ اے عبد القادر ہم تو تم کو الفا ظ ِ حدیث کی سند دے رہے ہیں ورنہ حدیث کے معنی میں تو ہم تم سے استفا دہ کر تے ہیں ًکیو نکہ بعض احا دیث کے معنی جو تم نے بیا ن کیئے ہیں ان تک ہما ری فہم کی رسا ئی نہیں تھی“ اس کے بعد بھی ان کا ابھی شا ید علم و عرفا ن تشنہ تھا،جس لیئے وہ تخلیق کیئے گئے تھے۔ لہذا وہ صحرا نوردی کر تے رہے اور جب عر فا ن حا صل ہو گیا تو انؒ کو تبلیغ کا حکم مل گیا اور وہ اسی مدرسہ با ب الازج میں درس دینے لگے۔وہا ں عالم یہ ہو گیا کہ رضا کا ر اور مخیر حضرات دن را ت اس کے حدود بڑھا تے رہے پھر بھی یہ مد رسہ شا ئقین علم کی کثرت کی بنا پر با زار اور سڑکو ں کو بندکر نے لگا۔ تو آپ نے عید گا ہ میں درس دینا شروع کر دیا جس میں بہ یک وقت ستر ہزا ر سا معین تک درس میں شامل ہو تے تھے اور چا ر سو دوا تیں اور قلم، اس کو قلمبند کر نے کے لیئےوہاں رکھی گئیں۔مگر کما ل یہ تھا کہ آپؒ کی آواز بغیر کسی مکبّر کے ہر کو نے میں پہونچتی تھی اور سیکڑوں آدمی روزانہ مسلمان ہوتےاور بقیہ اپنے دین کو درست کر نے کی کو شش کر تے۔اپنی تقا ریر میں آپ مسلما نو ں کے ہر طبقے کو بری طر ح لتاڑتے جس میں امرا ء علما ء اور گدی نشین سبھی شا مل تھے۔ گو کہ آپ نے کئی خلفاء کا دور دیکھا مگر نہ تو کسی خلیفہ کی ہا تھ ڈا لنے کی جرا ء ت ہو ئی نہ کسی اور کی جبکہ فدا ئین ہی با ت با ت پر علما ء کو قتل کر رہے تھے۔یہ بھی ایک زندہ کرا مت تھی۔ جبکہ آپ کبھی نہ در با ر میں تشریف لے گئے نہ اپنے یہا ں امرا ء اورخلیفہ کا آنا پسند فر ما تے۔یاد رہے ان سے پہلے لا تعداد علما ء انہیں جا بر خلفاء کے ظلم کا شکا ر ہو ئے جن میں فقہ حنبلی کے با نی حضرت امام احمد حنبل ؒبھی تھے جن کے فقہ کو انہو ں نے دو با رہ زندہ کیا۔ جس کی وجہ سے انکا لقب محی الدین پڑا، جبکہ حضرت امام حنبلؒ بے انتہا مظا لم کا شکا ر ہو ئے اور اپنی جا ن اللہ کے سپر د کی۔
لیکن اس کے با وجود بھی کہ حضرت عبد القادر جیلانی ؒاپنی تقاریر میں انہیں بری طر ح مخا طب فر ما تے تھے،اس کے چند نمو نے ہم آگے پیش کر رہے ہیں۔ آپ کا زمانہ“ عذاب ِ تا تا ر“مسلما نوں پر نا زل ہو نے سے پہلے کا تھا۔ چو نکہ اللہ تعا لیٰ کی سنت رہی ہے کہ وہ ہر عذا ب سے پہلے کو ئی نبی ضرورمبعوث فر ما تا ہے۔مگر حضو ر ﷺکے بعد کو ئی نبی نہیں آنا تھا۔لہذا یہ مجدد تھے چھٹی صدی ہجری میں اتما م حجت کے لیئے ان کوبنا کر بھیجا اور جب وہ کسی کو کہیں بھیجتا ہے تو اسے کرا ما ت سے بھی مسلح فرما دیتا ہے اور علم سے بھی نوازتا ہے، نیز اس کی حفا ظت بھی خو د فر ما تا ہے۔ اس تمہید سے جو بڑی طویل ہے آپ نے اندا زہ لگا لیا ہو گا کہ وہ کس معیا ر کے بزرگ تھے اور ان کا مشن کیا تھا، جس میں انہیں تا ئید غیبی حا صل رہی،تو تعجب کی با ت کیا تھی؟ لہذا انہیں ما ننے والوں کے غلو کوبنیا دبناکر ان کومطعون کر نا خو د ہی اپنی عاقبت خراب کر نا ہے۔ اب ہم چند خطبا ت کے مختصر اقتبا سات پیش کر کے اس مضمو ن کو ختم کر رہے ہیں۔ با شند گا ن بغداد سے خطاب۔“ اے بغداد کے رہنے والو! تمہا رے اندر نفاق زیا دہ اور اخلا ص کم ہو گیا ہے اور اقوال بلا اعما ل بڑھ گئے ہیں اور عمل کے بغیر قول کسی کا م کا نہیں،تمہا رے اعما ل کا بڑا حصہ جسم ِ بے روح ہے؟کیو نکہ روح ِاخلا ص تو حید و سنت ِ رسول ﷺاللہ پر قا ئم رہناہے، غفلت مت کرو،اپنی حا لت کوپلٹوتا کہ تمہیں راہ ملے۔ جاگ اٹھو،اے سو نے والو! اے غفلت شعارو بیدار ہو جا ؤ۔اے سو نے والو!جاگ اٹھو(اس با طل نظریہ سے با ز آؤ)کہ جس پر ابھی تم نے اعتما د کیا ہے (عقیدہ بنا رکھا ہے)وہ تمہارا معبود ہے اور اس سے توقع کرو کے اس کے ہا تھ میں حق تعا لیٰ نے تمہا را نفع نقصان دے رکھا ہے۔؟جبکہ نفع اور نقصان پہنچا نے وا لا تمہارا معبو د اللہ ہے۔ (اے غافلوں)عنقریب تمہیں تمہارا انجا م نظر آجا ئے گا (نوٹ۔ بعد میں وہ ڈراوا، یا پیشنگو ئی پو ری ہو کر رہی کہ اؒ کے وصال فر مانے کے تھو ڑے ہی عرصہ بعد، تا تا ریوں نے، بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔شمس)
در با ری علما ء زہا د، ء فقیہوں، صوفیوں، اور سلا طین سے خطا ب ً“اے علم و عمل میں خیا نت کر نے والو!تم کو ان سے کیا نسبت،اے اللہ اور اس کے رسول ﷺکے دشمنو! اے اللہ کے بندوں (انکے حقوق) پر ڈا کہ ڈا لنے والو!تم کھلے ظلم،کھلے نفا ق میں مبتلا ہو،یہ نفا ق کب تک؟ عا لمو ں اور زاہدو! با دشا ہوں اور سلطا نوں کے لیئے تم کب تک منا فق بنے رہو گے؟ کہ تم ان سے زر و ما ل شہوات (خو اہشا ت)و لذات حا صل کر تے ہو۔تم اور اکثر با د شا ہا ن وقت اللہ کے ما ل اور اس کے بندوں کے با رے میں ظا لم،اور خیا نت کر نے والے ہو! اے اللہ الٰہی، منا فقوں کی شو کت کو تو ڑ دے اور ان کو ذلیل فر ما، ان کو توبہ کی تو فیق عطا فر ما اور ظلم کا قلع قمع فر ما دے، زمین کو طالموں سے پا ک فر ما دے یا ان کی اصلا ح فر ما دے (آمین)“ تم رمضان میں اپنے نفسوں کو پا نی سے رو کتے ہو اور جب افطار کا وقت آتا ہے تو مسلما نوں کے خون سے افطار کرتے ہو، ان پر ظلم کر کے جو مال حا صل کیا گیا ہے اس کو نگلتے ہو،اے لو گوں تم سیر ہو کر کھا تے ہو اور تمہا رے پڑوسی بھو کوں مر تے ہیں۔پھر دعویٰ کر تے ہو ہم مو من ہیں۔تمہارا ایمان صحیح نہیں ہے۔ دیکھو!ہما رے نبی ﷺاصلواۃ والسلام اپنے ہا تھ سے سا ئل کو دیا کرتے تھے،اپنی اونٹنی کو چا رہ ڈا لتے تھے،اس کا دودھ دو ہتے۔اپنا کرتا سیا کر تے تھے۔تم ان کی متا بعت کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہو جبکہ افعال میں ان کی مخا لفت کر تے ہو،تم میں کو ئی بھی نہیں ہے جس پر توبہ واجب نہ ہو۔ (حضرت عبد القادر جیلانی کی کتاب فتوح الغیب سے اقتبا سات)اب فیصلہ میں آپ پر چھو ڑتا ہو ں۔کہ ان میں سے کو نسا پیغام خلا ف شرع ہے؟یا یہ بزرگؒ آیت نمبر 181 سورہ سورہ 7کی تفسیر ہیں۔ جس کا تر جمہ درج ِ ذیل ہے“ جنہیں ہم نے پیداکیا ہماری ج مخلوق میں ایسے لوگ بھی ہیں جو دین حق کی ہدایت کرتے ہیں اور اسی پر انصاف کرتے ہیں ہ

SHARE

LEAVE A REPLY