ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 42

1
1508

ایمیلیا ناشتے کے لئے گرینی فلیٹ‌ سے منیب اور جیسیکا کے ساتھ آ گئی تھی ۔۔ دروازہ کھولنے کی آواز نے مجھے چونکا دیا ۔
میری شہزادی میرے سامنے تھے ۔۔ منیب کی گود میں بیٹھے بیٹھے میرے سامنے اپنا سر جھکا دیا تاکہ اسے پیار کروں‌ ۔۔ صدقے میں واری ۔۔ میں نے تینوں‌ کوباری باری پیار کیا ۔۔ میرے گھر کی رونقیں اور خوشیاں سدا ایسے ہی رہیں ۔ دل ہی دل میں نظر اتارتی میری دعائیں جاری تھیں۔

میں نے ایمیلیا کے ساتھ ناشتہ کیا ۔۔ خوشی کے مارے ہم دونوں کی آنکھوں میں نمی تھی ۔۔ مجھے بے زبانی سے عشق تھا ۔۔مجھے معلوم تھا کہ ایملیا کی روح مجھ سے ہمکلام تھی ۔۔ میری سہیلی تھی ۔۔ایکبار تو مجھے یوں لگا جیسے وہ کوئی بزرگ روح تھی ۔۔اس کی آنکھوں‌اور ہونٹو‌ں‌ پر بکھری طمانیت مجھے کسی اور جہاں‌میں لیئے جا رہی تھی ۔۔ جہاں‌صرف سکھ ہی سکھ تھا۔ ناشتے کے بعد وہ تھوڑا سا کھیل کر پھر تھوڑی دیر آرام کرنے کے لئے منیب اور جیسکا اسے لئے گرینی فلیٹ‌ میں چلے گئے ۔۔۔

کوئی آٹھ سال پہلے گرینی فلیٹ‌ ہم نے نجیب کے لئے بنوایا تھاتاکہ وہ سکون سے پڑھ سکے ۔۔ تین سال پہلے جب اسے سڈنی شہر میں جاب ملی تو وقت بچانے کی خاطر وہ وہیں نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے قریب اپنے دوست کے ساتھ نیو ٹاؤن میں‌ ٹاون ہاوس کرائے پر لے کر رہنے لگا ۔۔ تب سے اس کا ایک کمرہ میرا این این سی کا اسٹوڈیو بن گیا اور ماسٹر بیڈ‌روم مہمانوں‌کے لئے رکھ دیا جو ایمیلیا کی پیدائیش کے بعد ایمیلیا کا گھر ہو گیا۔ اب گرینی فلیٹ ‌میں صرف ایمیلیا کی چیزیں تھیں ۔۔ کا‌ٹ ، پرام ۔۔کپڑے ۔۔کھلونے ۔۔کتابیں ۔۔سب ایمیلیا کی تھیں ۔

صبح کے دس بجنے والے تھے اور بچے ابھی تک سوئے ہوئے تھے ۔ سب تھکے ہوئے تھے ۔۔ رات دیر سے گھر پہنچے تھے اور دیر ہی سے سوئے تھے ۔۔ اب تو لگتا ہے لنچ ہی ساتھ میں ہوگا ۔
آج جانے کیوں صبح اٹھتے ہی اپنی دوست شیلی کور یاد آ رہی تھی ۔۔ میرا دل کہہ رہا تھاکہ مجھے اسے ضرور بتانا چاہیئے کہ مجھے یوٹیرائن کینسر ہو گیا ہے ۔۔شیلی کینیڈا میں‌رہتی تھی ۔ میری اس سے ابھی تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔ میں اسے صرف ٹک ٹاک اور فیس بک سے ہی جانتی تھی ۔ ۔۔ پر شیلی کور کے کئی ایسے رنگ تھے جومجھ سے ملتے تھے ۔۔ وہ بیک وقت بہت سارے محاذوں‌ پر ایک ہی ہنر مسیحائی بانٹتی تھی ۔۔ اپنی زندگی کے رنگوں ‌کی پہچان کا سفر ہمارا سانجھا تھا ۔۔ اس کی پہچان بھی اسی کی طرح حسین تھی ۔

Sensory energy healing practitioner , Certified Hypnotherapist , Past life regressionist RJ &TV anchor

میں نے اپنے یوٹیوب چینل (‌ این این سی ) پر اسے انوایئٹ کیا تھا جو میرے ناظرین اور خود میرے لئے بہت ہی نایاب اور بہترین انٹرویوز میں‌ سے ایک نایاب گفتگو تھی۔
شیلی کو فون کیا تو اس نے بڑی گرمجوشی اور محبت سے کہا وہ مجھے ہی سوچ رہی تھی ۔۔ ہم دونوں اس روحانی رابطوں پر ‌ہنس پڑے ۔۔ یعنی یونیورس کا وائی فائی کام کررہا تھا ۔۔ اسے کچھ معلوم نہ تھا کہ میں کس چیلنج سے نمٹ‌ رہی ہوں ۔۔

جب اسے پتہ چلا تو اس نے مجھے نیگیٹو انرجی کی فلاسفی سمجھائی ۔ وہ کہہ رہی تھی ۔۔ ہمارے پرانے صدمات ۔۔ پرانی یادیں ۔۔ پرانے دکھ ۔۔ پرانے احساس جرم ۔۔ پرانے گناہ جو روگ کی طرح ہم پال لیتے ہیں وہ ایک وقت میں آکر ایسی کسی بیماری کاروپ دھار لیتے ہیں جوبہت ہی دقت طلب اور دہلا دینے والی ہوتی ہے ۔۔

مجھے ایسا کچھ یاد نہیں تھا جو مجھے اس نہج تک لے آتا ۔۔ہاں‌میں سقوط ڈھاکہ کو نہیں‌بھول پائی تھی ۔۔ میں جہاں‌جنگ دیکھتی مجھے وہ سب کچھ یاد آجاتا۔۔ امی جی کا چٹاگانگ کے بازار ریاض‌الدین میں ہمیں‌ لے کر بھاگنا۔۔ دونوں‌طرف آگ لگی ہوئی تھی ۔۔ پھر گولیاں چلنے لگیں ۔۔ ہمارے گھر کہیں مکتی باہنی پہنچ نہ جائیں۔۔ ‌ابا جی کا ہم سب کو اپنے دیرینہ ساتھی ڈاکٹر کے گھر پناہ کے لئے سترہ دن رکھنا ۔۔ اور ہر آواز پر دوڑ‌کر میز اور بیڈ کے نیچے چھپ جانا ۔۔ پھربحری جہاز کا ڈراؤنا سفر ایک ایسا خواب ہے کہ جو مجھے جاگتے میں بھی ‌ڈرا دیتا ہے ۔۔ مجھے یاد ہے شیلی ۔۔ ابا جی کوبنگلہ دیش میں چھوڑ‌کر ہم سب مغربی پاکستان آگئے تھے ۔۔ تب کراچی ہم سب کے لئے اجنبی تھا ۔۔ سمجھتے سمجھتے وقت لگا۔۔ جب تک ابا جی واپس ہم میں نہ آئے تھے ہر پل جیسے بری خبر تھا ۔۔۔ میں‌نہیں‌بھول پائی کچھ بھی پر کسی سے کہہ بھی نہیں پائی ۔۔۔میرے ہوسپٹل والے جانتے ہیں کہ میرے دل میں رفیوجیز کے لئے خاص‌ گوشہ تھا ۔۔ جب میں سائیکاٹری کی
 STARTTS (Service for the Treatment and Rehabilitation of Torture and Trauma Survivors (Australia)

کی ٹرم کر رہی تھی جہاں‌ دوسرے ملکوں‌سے آئے ہوئے رفیوجیز آتے تھے ۔۔ ان کے منظروں سے میرے کئی منظر مل جاتےتھے ۔۔ ڈاکٹر سوہن کتنی دیر تک مجھےسمجھاتے تھے ۔۔ ٹراما کی ہسٹری ۔۔ ٹراماکے اثرات نسلوں‌میں منتقل ہوتے تھے ۔

شیلی دیکھو نا اس کے بعد کتنی جنگیں ہوئیں ۔۔ اور اب تک ہو رہی رہیں ۔۔ انسان کیوں نہیں سمجھتے کہ دوسرے انسانوں کی زندگی ختم ہو جاتی ہے ۔۔ جنگیں ہم انسانوں کوہی نہیں ہماری زمینوں کو بھی بیمار کردیتی ۔۔ بنجر بنا جاتی ہیں ۔

مٹھی بھر زندگی کے لئے پورے جسم کوکیوں دان دینا پڑتا ہے ۔۔ ایک ملک پر قبضہ کرنے کے لئے پوری دنیا رہن میں چلی جاتی ہے ۔
لیکن پھر سوچتی ہوں شیلی ۔۔ دکھ کبھی دامن سے بڑے نہیں ہو سکتے ۔۔ میں کینسر جیسے چیلنج سے گزر سکتی ہوں
نگہت تم بہت اچھی ہو ۔۔ مثبت ہو ۔۔ اسی لیئے بیماری کا جلد پتہ چل گیا ۔۔ علاج میں بھی دیر نہیں ہو رہی ۔۔ جسٹ‌کاؤنٹ‌ یور بلیسنگز
( Count Your Blessings)
آیی ایم مائی ڈیئر ۔۔ بہت خوش نصیب ہوں ۔۔ میرے پاس تم جیسے پرخلوص‌ ۔۔ پیارکرنے والے دوست ہیں ۔۔جو دعاؤں کے تحفے بھیجتے رہتے ہیں۔

اچھا یوں کرو ۔۔ شیلی نے مجھے نیچرل ہیلر ہونے کے ناطے ایک مشورہ دیا ۔۔۔

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

1 COMMENT

  1. KHER O AAFIYUT HO NIGHAT BETA. KHUSHYAAN TUMHARA DAMUN BHER DEIN. ALLAH PAK KI KHAAS REHMAT O KARAM HO . AMEEN

LEAVE A REPLY