کوئی بھی تخلیق اس وقت جنم لیتی ہے جب انسانی تخیلات، جذبات اور احساسات ؛ خیالات کی صورت اختیار کرتے ہیں، پھر اظہار کے لیے خیالات کو یا تو رنگ و تصویر کا لباس پہنایا جاتا ہے یا پھر ان کو الفاظ کا جامہ میسر آتا ہے۔ یہ اظہاریئے نت نئے روپ دھارتے ہیں۔۔ اور اپنے ہم خیال قاری، سامع یا ناظر کے دل میں اترتے چلے جاتے ہیں۔۔ پھر فنکار یا تخلیق کار چاہے کسی بھی صنف کو وسیلہ بناۓ ، تمثیلات کی مدد سے اپنے دل میں مقیم غم و اندوہ یا انبساط قلبی کو لطیف آہنگ میں ڈال کر دنیا کے سامنے لے آتا ہے۔۔۔ اور پھر تخلیق کار یا تو داد و تحسین سمیٹتا ہے یا پھر تنقید کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نئی روایت کو قائم کرتا ہے
شعراء و مصنفین کے اسی حلقے سے ہماری آج کی مہمان شخصیت ایک نوجوان مصنفہ، کہانی نویس ، ڈرامہ نگار و شاعرہ ہیں جن کا نام ہے سدرہ سحر عمران
سدرہ بنیادی طور پر نظم کی شاعرہ ہیں۔۔
نظمیں بھی وہ جو لوگوں کو داخلی قوت فراہم کرتی ہیں ۔۔۔
سدرہ کے لکھے کئی ڈرامے سیریلز بھی مختلف چینلز پر نشر ہوتے رہے ہیں اور ان دنوں بھی ایک سیریل عوام میں مقبول ہو رہا ہے۔۔۔تو ہم سدرہ سحر عمران صاحبہ کو عالمی اخبار کی طرف سے خوش آمدید کہتے ہیں ۔۔
سدرہ سحر عمران صاحبہ۔۔ آپ نے چھوٹی عمر میں اتنا کچھ کر لیا۔ کچھ اپنے بارے میں بتائیں۔ کہاں پیدا ہوئی کہا تعلیم حاصل کی اور لکھنے پڑھنے کی طرف کیسے آئیں؟
جواب : میں 8 اگست 1986 کو کراچی میں ایک روایتی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی ۔۔ اور کراچی یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹرز کیا۔۔ بچپن سے ہی کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔۔ وہی شوق مجھےپڑھنے کے ساتھ ساتھ لکھنے کی طرف بھی لے آیا۔۔
سوال : آپ ادیب ہیں شاعرہ ہیں یہ بتائیں کہ آپ نے کس کس صنف میں طبع آزمائی کی اور کس میں سب سے ذیادہ پزیرائی ملی؟
جواب : میں نے کہانی، افسانہ، ناول ، شاعری ، کالمز اور ٹی وی چینلزز کے لیے ڈرامے لکھے۔ میری نظم کو بہت زیادہ پذیرائی ملی۔ اور مجھے خود بھی نظم زیادہ پسند ہے۔
سوال : آپ کو نظم پسند ہے تو نظم سے شروع کرتے ہیں آپ کیا سمجھتی ہیں آپ کی نظم میں کیا خاص بات ہے جس کی وجہ وہ آپ کی پہچان بنی؟
جواب: اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ میرا انداز بیان ، میرے الفاظ کا چناؤ، اور جن سماجی اور معاشرتی مسائل کو میں نے اپنی نظموں اجاگر کیا ہے ان کی وجہ سے میری نظم کو پسند بھی کیا گیا اور کچھ حلقوں میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔۔
سوال: لڑکیاں تو بہت نازک احساسات اور خیالات کی مالک ہوتی ہیں ۔ پھولوں ،تتلیوں اور خوشبوؤں کی باتیں کرتی ہیں۔ جبکہ آپ کا ہاں معاملہ الٹ ہے۔
آپ کی نظموں میں تلخی کا عنصر غالب ہے اسکی کوئی وجہ ؟؟
جواب : میں نے ہمیشہ نا انصافی، ظلم ، عدم برداشت، اور معاشرتی اور سماجی بے راہ روی کے خلاف لکھا۔ اس لیے میری نظموں میں تلخی ہے۔۔ بس یہ سمجھ لیجئے عام شاعرات کی طرح میرے دکھ اور مسائل ذاتی نہیں ہیں بلکہ میں ہر ظلم، نعرے، خواب،احتجاج میں پھینکے ہوئے پتھر ، درد سے نکلی ہوئی چیخ،جہاں گولی کا جواب گالی ہو وہیں خود کو رکھ کر نظم کردیتی ہوں
سوال : شاید اسی تلخی کی وجہ سے آپ کی نظم پر کچھ حلقوں کی طرف سے تنقید بھی ہوئی؟
جواب : جیسا کہ میں آپ بتا چکی ہوں اس جارحیت اور تلخ نوائی کی وجہ یہی ہے کہ میں سچائی لکھتی ہوں۔ گردوپیش میں جو کچھ بھی ہورہا ہے ۔ وہ میرے تخلیقی وفور پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ میں زمین پر رہ کر خلائی قصے، مصنوعی باتیں اور آسمانی کہانیاں نہیں لکھ سکتی۔ زمین کے دکھ بیان کرتی ہوں اور میرا خیال ہے ہر وہ شاعر اور ادیب جو نظریاتی بنیادوں پر لکھتا ہے اس کی تخلیق میں غم و غصہ ، بغاوت، سرکشی، احتجاج اور تلخی نمایاں ہوتی ہے۔اس وجہ سے آپ کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے
سوال : آپکا نام ایک روشن خیال بلکہ کچھ حلقوں میں اپنی منفرد سوچ کے باعث الگ شناخت رکھتا ہے ۔۔
ایسا کیوں کر ہے ۔۔آپ نے وہ روش کیوں نہ اختیار کی جو عام لکھنے والوں کی ہے؟؟
جواب: میں نے اگر ادب کا راستہ اختیار کیا تھا تو مجھے وہ سب نہیں لکھنا تھا یا دہرانا تھا جو سبھی کررہے ہیں۔ شاعرانہ جگالی، مکھی پر مکھی مارنا، ایک ہی جیسے مضامین، سطحی پن کی عشقیہ باتیں، محبوب کی شان میں زمین آسمان ایک کرنا۔ میرا وژن یہ قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔ تخلیق کار کو انقلابی اور نظریاتی ہونا چاہئے۔ واہ واہ کی لت اسے نرگسی شخصیت بنا دیتی ہے۔ وہ کنویں کا مینڈک بن جاتا ہے ۔ اور میں نے وہی لکھا جو میں لکھنا چاہتی تھی-
سوال : آپ کی نظمیں بہت ساری زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں ۔ کسی بھی شاعر کے لیے یقینا یہ بڑےاعزاز کی بات ہے۔۔ آپ کیسا محسوس کرتی ہیں اور ابھی تک کون کون سی زبانوں میں آپ کی نظموں کا ترجمہ کیا جاچکا ہے؟
جواب : یقینا میرے لیے یہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہے کہ میری نظمیں ایک ہی جگہ ٹھہری ہوئی نہیں ہیں بلکہ وہ مختلف زبانوں کے ذریعے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تخلیق جب سفر کرتی ہے تو اس کا دائرہ کار وسیع تر ہوتا جاتا ہے وہ ہر زبان کے ساتھ ایک بار پھر دہرائی جاتی ہے۔
میری نظمیں انگریزی ،ہندی، پشتو،سندھی، بلوچی ، اور دیوناگری زبان میں ترجمہ ہوچکی ہیں ۔
سوال : کیا آپ اپنے اب تک کے کام سے مطمئن ہیں؟ کون سی صنف آپ کے لئے اطمینان بخش ہے؟ یہ بھی بتائیں اپنی کس تحریر کو ماسٹر پیس سمجھتی ہیں؟؟
جواب :جس دن مطمئن ہوگئی اس دن کے بعد تو ویسے ہی تخلیقی صلاحیت مرجائے گی۔ اطمینان تخلیق کی موت ہے۔ آگے کا سفر رک جاتا ہے۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا کہ نظم ایسی صنف ہے جہاں میں پورے قد سے کھڑی ہوتی ہوں ۔ مجھے اپنی نظم کبھی کبھی تو خوف زدہ کردیتی ہے۔میں سوچ میں پڑجاتی ہوں کیا یہ میں نے لکھا ہے؟
تو نظم ایسا میڈیم ہے جہاں میں خود کو سو میں سے سو نمبر دے سکتی ہوں-
میری بہت سی نظمیں میرے لیے ماسٹرز پیسز ہیں–

سوال : وہ کون سے محرکات تھے جنہوں نے اپ کو شاعر و ادیب بنایا ؟ اس بات کا احساس کب ہوا کہ آپ میں مصنفہ بننے کی صلاحیت موجو د ہے؟ پہلی تحریر کیا تھی؟
جواب : میں سمجھتی ہوں کہ ہر جینیوئن تخلیق کار کے اندر اس کا تخلیقی وفور اسے اس وقت تک مضطرب و بے چین رکھتا ہے جب تک باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ تخلیق اندر کروٹیں بدلتی ہے۔ جب میں نے لکھنا لکھانا شروع کیا اس وقت ذہن میں یہی بات ہوتی تھی کہ جو سوچتی ہوں وہ لکھوں بھی۔پہلے پہل بچوں کی کہانیاں اور مراسلات وغیرہ لکھے۔ شروع سے ہی اصلاحی پہلو کی طرف رجحان زیادہ تھا ۔پہلا افسانہ بھی اصلاحی پہلو لئے ہوئے تھا۔
سوال : آپ کی اب تک کتنی کتابیں شائع ہو چکی ؟
جواب : پانچ کتابیں ہیں ۔جن میں سے دو نظم کی ہیں “ ہم گناہ کا استعارہ ہیں” اور “ موت کی ریہرسل” ۔ یہی زندگی کا حاصل ہیں۔ ایک کتاب “ نقش قلم “ کے نام سے آئی تھی اس میں کافی تعداد میں اصلاحی ، سماجی، تحقیقی اور علمی مضامین شامل ہیں۔باقی دو ناول اور افسانوں کی ہیں۔ یعنی بچپنے کے خواب ہیں ۔
سوال : آپ نے شاعری کے علاوہ نثری حوالوں سے بھی شناخت قائم کی اس کی تفصیلات کیا ہیں؟
جواب: جی میں نے افسانے ، ناول ، مضامین، خاکے، فکاہی تحریریں، انشائیے، کالم، فیچرز ، ڈرامہ رائٹنگ یا یوں کہئے جس میڈیم میں بھی مجھے لکھنے کا موقع ملا، میں نے لکھا، اور ہمیشہ لکھا۔
سوال : آپ ادب برائے ادب کی قائل ہیں یا ادب برائے زندگی کی؟
جواب: میں ادب برائے زندگی کی قائل ہوں میرے نزدیک قلم محض رومانوی، تفریحی مواد لکھنے یا محظوظ کرنے کے لئے نہیں ہے ۔ تخلیق کو بامقصد ہونا چاہیے۔ ادیب کا ہر لفظ اس کی شناخت اور حوالہ ہے۔ وہ اس کے لیے جواب دہ ہے۔میں نے بہت کچھ ایسا بھی لکھا ہے جو محض تفریح یا اینٹرٹینمنٹ کے لیے ہے لیکن میں اسے سب سے آخرمیں شمار کرتی ہوں ۔
سوال : قارئین اور ناقدین کی رائے کو اہمیت دیتی ہیں؟ اب تک جو بھی لکھا ہے اس پر کیسا رسپانس ملا؟
جواب : میں جتنی زیادہ حساس ہوں اتنی ہی بے نیاز بھی۔ میں نے لوگوں کی رائے کو اہمیت دی مگر لکھا وہی جو دل سے نکلا۔ کوئی کچھ بھی کہتا رہے ، اپنی ڈگر قائم رکھی ہاں جہاں غلطی ہوئی اسے درست کیا۔ جب میں نے نظم لکھنے کا آغاز کیا تب سے تنقید کا سامنا کررہی ہوں ۔ یہاں جو بھی عام طرز سے ہٹ کر چلنے لگے وہ بھیڑ میں نمایا ں ہوجا تا ہے ۔ میں بھی نمایاں رہی ہوں ۔
سوال: آپکے پسندیدہ لکھنے والے جنہوں نے آپ کو متاثر کیا؟
جواب :وقت سب سے بڑا استاد ہوتا ہے۔ شوق ، لگن ، اور سیکھنے کا جنون ہو تو انسان ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔عذرا عباس، فرحت عباس شاہ، ڈاکٹر ابرار عمر اور امین شیخ صاحب سے شروع شروع میں بہت رہنمائی ملی۔۔
سوال : اب آتے ہیں ڈرامے کی طرف۔۔ یہ بتائیں ڈرامے کی طرف کب اور کیسی آئیں؟ اب تک کتنے ڈرامے لکھ چکی ہیں؟ اور کس کس چینل کے لیے لکھ چکی ہیں؟
جواب: 2017 میں عمیرہ احمد کے ادارے”الف” کے ساتھ پہلا ڈرامہ” امرت اور مایا” لکھا ۔ اس کے بعد پھر بول میڈیا سے وابستہ ہوگئی ۔ پہلے نیوز ڈپارٹمنٹ میں تھی پھر اینٹرٹینمنٹ میں ڈرامہ انڈسٹری کے معتبر حوالے نور الہدی شاہ اور عامرہ شاہد کے ساتھ بحیثت اسکرپٹ رائٹر کام کا موقع ملا۔ یہی وہ وقت تھا جب ڈرامہ نگاری کو باقاعدہ سیکھا اور سمجھا۔ بول چینل کے لئے ایک سیریل لکھتے ہوئے زنجبیل عاصم شاہ سے “جلن”کے حوالے سے بات ہوئی اور گذشتہ سال یہ سیریل مکمل ہوا جو اب اے آر وائی ڈیجیٹل سے ہر بدھ کی رات آٹھ بجے آن ایر ہوتا ہے۔
سوال : آج کل آپ کا ڈرامہ جلن آن ایر ہے۔ اس پر موضوع کے حوالے سے بہت تنقید ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ اس تنقید کو کیسے دیکھ رہی ہیں؟
جواب: بات وہی ہے جب بھی سچائی کا آئینہ دکھانے کی کوشش کی جائے گی شور و غل ہوگا۔سماج اس طرح کے موضوعات پر بریکنگ نیوز توسن لیتا ہے لیکن اسے ڈراموں کی شکل میں قبول نہیں کرتا ۔ اینٹرٹینمنٹ کے نام پر انہیں فینٹسی ہی چاہیے۔ اس ڈرامے میں بھی میں نے ایک سماجی برائی کو موضوع بنایا ہے شاید اسی وجہ تنقید ہو رہی ہے۔
سوال : ڈرامے میں پروڈیوسرز اور ڈاریکٹرز اپنی مرضی سے حالات کے مطابق لائنز چینج کرواتے ہیں۔۔ کیا آپ ان کی مرضی سے اسکرپٹ میں تبدیلی کر دیتی ہیں؟ اور اپ اس رویے کو کیسے دیکھتی ہیں؟
جواب : ڈرامہ ایک ٹیم ورک ہوتا ہے ۔ بنیادی کردار چینل اور پروڈکشن ہاؤس ادا کرتا ہے۔ چینل کوآئیڈیا ہوتا ہے کہ اس کے ناظرین کس قسم کا مواد دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں وہ اسی حساب سے کانٹینٹ اور پروڈکشن فائنل ہوتی ہے۔۔
سوال: کیا لکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے پاس بہت ساری ڈگریاں ہوں؟
جواب: ڈگریاں تو اچھی نوکریوں کی لیے ہوتی ہیں جب کہ لکھنے کے لیے اپنے اطراف سے علم حاصل کرنا ضروری ہے۔
سوال : آپ کے نزدیک ادب کا کیا مستقبل کیا ہے ؟
جواب : ادب اپنا مستقبل خود بناتا ہے۔ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اصناف بدل رہی ہیں۔ مائیکرو فکشن اور پچاس سو لفظوں کی کہانیاں مقبول اور رہی ہیں۔ وقت کی قلت اور بھاگتی زندگی ہے۔ پہلے صرف کتابیں ہوتی تھی اب ڈیجیٹل دور ہے جس نے سب کچھ سمیٹ دیا ہے۔۔ مگر اچھے، باشعور، تخلیقی ذہن ہمیشہ سے تھے اور ہمیشہ رہے گے اور ادب بھی زندہ رہے گا۔ انشاءاللہ
سوال : لکھنے کے علاوہ آپ کے کیا کیا مشاغل ہیں؟
جواب : شاید میں لکھنے کے علاوہ کچھ کر سکتی نہ کر سکتی ہوں نا کوئی ایسا شوق پال سکتی ہوں۔۔ شاید ہی کوئی ایسا دن ہو گا جب میں کچھ نا لکھا ہو۔۔ کبھی کبھار کھانا پکانے کا شوق بھی جاگ اٹھتا ہے۔ بس یہی زندگی ہے۔
سوال : آخر میں عالمی اخبار کے قارئین کے لیے کوئی خاص پیغام جو آپ دینا چاہتی ہیں۔۔
جواب : علم حاصل کرنا جاری رکھیں؛ یعنی اسرار کائنات کو جاننے کا شوق، خود کو پہچاننے کا شوق، سوچنے اور سوال کرنے کا شوق، اور سوال کرنے کی لگن۔ یہی علم اور تعلیم ہے۔
روما رضوی














wonderful insight and literary approach