میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو۔۔ڈاکٹر نگہت نسیم

0
1383

میرے کالم کے عنوان کا مکمل شعر ہے

میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں

لیکن سوچتی ہوں کہ یہ طوائف کی تضحیک ہے طوائف تو اپنے پیشے سے مکمل انصاف کرتی ہے اور سیاست تو طوائف سے بدرجہا بدتر ہے۔ طوائف صرف جسم بیچتی ہے لیکن ہمارے سیاست دان قوم بیچتے ہیں عوام بیچتے ہیں انکی آنکھوں کے خواب بیچتے ہیں

اپنے اقتدار کی خاطر۸ فروری کے انتخابات کے بعد آج ان سب نے ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈال کر معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے اور سڑکوں پر احتجاج شروع کر کے ملکی عدالتوں کی توہین کی ہے

آئیے ذرا پیچھے مُڑ کے دیکھیں

اپریل2022ء میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے پر حکومت وجود میں آئی وہ اپنی پیشرو حکومت کی طرح سیاسی، علاقائی اور قوم پرست جماعتوں کے اتحاد کا نتیجہ تھی۔ ان میں سے کئی سیاسی جماعتیں تو وہ تھیں جو2018ء کے عام انتخابات سے ہی عمران خان کی حکومت سے براہ راست برسر پیکار تھیں، جیسے مسلم لیگ (ن)، جمعیت العلماء اسلام (ف)، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور کسی حد تک پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی اور کچھ ایسی جنہوں نے تقریباً چار برس عمران خان کی اسی حکومت کا حصہ بن کر گزارے تھے جس کو نئی حکومت کے ارکان پاکستان کی تاریخ کی بدترین اور سب سے ناکام ترین حکومت قرار دیتے تھے اور قرار دیتے ہیں، جیسے اہم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی اور مسلم لیگ (ق) اس حقیقت سے قطع نظر کہ ان جماعتوں کا پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان سے تعلق اس تمام عرصے میں ’’کبھی خوشی کبھی غم‘‘ کا تاثر دیتا رہا، یہ بہرطور سچ ہے کہ ان میں سے کئی اس دوان وزاتوں کے لائو لشکر سمیت ایوان ہائے اقدار کی تمام تر مراعات سے لطف اندوز ہوتے رہے اور عمران حکومت کے ہر فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کرتے رہ۔ کبھی کبھار کسی نے حرف حق کہنے کا ارادہ بھی کیا تو ایسے لگا کہ کسی بھاری بھر کم ہاتھ نے ان کی پشت سہلاتے ہوئے انہیں پھر اسی خمار میں مبتلا کردیا۔ اسلام آباد میں ایوان ہائے اقتدار کے در پردہ معاملات سے آگہی رکھنے والے افراد بارہا اس سلسلے میں ایک باوردی اہلکار کا نام لیتے تو سنائی دیے جنہیں عمران کے اقتدار کے نصف النہار پر پارلیمان میں ایک باقاعدہ دفتر بھی دے گیا تھا

اس پس منظر کے ایک پیرا گراف میں ساری کہانی مضمر ہے کہ کیسے اس ملک کے سیاستدان عوام کی قسمت سے کھیلتے ہیں اور حیرت ان عوام پر ہے جو ہر عہد میں دھوکہ کھانے کے باوجود ہر بار ان کے ہی آوے ای آوے کے نعرے لگاتے ہیں، ان عوام کو بتایا ہی نہیں گیا کہ یہ عوام ہیں جو حکومتوں اور سیاست دانوں کا احتساب کرتے ہیں

پاکستان آج کل اپنی سیاسی تاریخ کے ایک اہم موڑ سے گزر رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کے سیاسی منظر نامے کے حوالے سے اگلے چند دن بہت اہمیت کے حامل ہیں اور صورتحال کے واضح ہونے میں اب زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

پاکستانی سیاست میں سچ، اصول اور کردار کی بہت کمی ہے۔سیاست کا جب نام لیا جاتا ہے تو دماغ میں فوری طور پر ایک منفی تاثر ابھرتا ہے۔ اکثر جب کسی کو جھوٹ نہیں بلکہ سیدھی اور صحیح بات کرنےکیلئے کہنا مقصد ہوتا ہے تو اُسے کہا جاتا ہے کہ ’’مجھ سے سیاست نہ کرو، سیدھی اور سچی بات کرو‘‘۔ ہمارے ہاں سیاست بہت بدنام ہو چکی اور اس میں سیاستدانوں کا اپنا بہت بڑا کردار ہے۔

ایک دن حلف دے کر جو بات کی جاتی ہے، دوسرے دن اُس سے کھلے عام مکر کر بالکل الٹ بات کر دی جاتی ہے۔ اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کیلئے اپنی ہی کی گئی باتوں ، وعدوں اور اصولوں سے پھرنا سیاستدانوں کیلئے بہت عام ہے۔ گزشتہ چند سال سے اس سیاست کو نفرت اور گالم گلوچ نے مزید خراب کر دیا اور سیاسی اختلاف کو دشمنی میں بدل کے رکھ دیا۔

ہم ماضی میں کئی ناکام تجربے کر چکے ہیں اب مقتدرہ کے پاس مزید ناکامیوں کی گنجائش نہیں ہے۔ اسلئے آئین پاکستان کے تحت مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کو اپنا اپنا کردار ادا کرنے دیا جائے، اگر مقتدرہ نے اپنا کردار اس قدر بڑھا دیااور کل کو پاکستان ڈیفالٹ ہوگیا یا کسی اور بحران کا شکار ہو گیاتو موردالزام مقتدرہ ٹھہرے گی ۔بہتر ہے کہ حکمرانی کا کام اہل سیاست کو کرنے دیا جائے اور مقتدرہ پس منظر میں رہ کر ساری دنیا کی طرح انکی مدد و حمایت کرے۔ صدیوں کے تجربات سے دنیا نے یہی سیکھا ہے ہمیں بھی اسی پر عمل کرنا چاہئے۔

کاش ہماری سیاست میں کوئی اس ملک کے بارے میں بھی سوچے جو ہزراوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY