٭9 جنوری 1920ء نامور طبیب حکیم محمد سعید کی تاریخ پیدائش ہے

0
583

حکیم محمد سعید کی پیدائش

٭9 جنوری 1920ء پاکستان کے نامور طبیب، مصنف اور صنعت کا حکیم محمد سعید کی تاریخ پیدائش ہے۔
حکیم محمد سعید دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد حافظ عبدالمجید نے 1906ء میں ہمدرد دوا خانہ کی بنیاد ڈالی تھی۔ کم سنی میں والد کا سایہ سر سے اٹھنے کے بعد ان کے بڑے بھائی حکیم عبدالحمید نے ان کی تعلیم و تربیت کی۔ 1939ء میں انہوں نے طبیہ کالج دہلی سے طب کا اعلیٰ امتحان پاس کیا اور ہمدرد دواخانہ کے کاموں میں اپنے بڑے بھائی کا ہاتھ بٹانے لگے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں آگئے اور انہوں نے یہاں ہمدرد دوا خانہ کی ازسرنو بنیاد رکھی جو دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کا ایک عظیم طبی، علمی، ادبی، تعلیمی، اشاعتی اور اسلامی ادارہ بن گیا۔ حکیم محمد سعید نے ہمدرد دوا خانہ کے علاوہ اور بھی کئی ادارے قائم کئے جن میں مدینتہ الحکمت کا نام سرفہرست ہے۔ حکیم محمد سعید صدر پاکستان کے طبی مشیر اور صوبہ سندھ کے گورنر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ انہوں نے کئی جریدے جاری کئے اور لاتعداد تصانیف یادگار چھوڑیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر 1966ء میں انہیں ستارۂ امتیاز اور2000ء میں نشانِ امتیازعطا کیا تھا۔ حکیم محمد سعید 17 اکتوبر 1998ء کراچی میں قتل کردیئے گئے۔ وہ کراچی میں مدینتہ الحکمت کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔
یہاں اس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ حکومت پاکستان نے حکیم محمد سعید کے یوم ولادت 9 جنوری کو پاکستان کا یوم اطفال قرار دیا ہے۔
———————————

سلطان راہی کا قتل

٭9 جنوری 1996ء کی رات ملک کے معروف اداکار سلطان راہی کو ڈاکوئوں نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔
سلطان راہی کا اصل نام سلطان محمد تھا۔ انہوں نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز فلم باغی میں ایک معمولی سے کردار سے کیا تھا اس کے بعد وہ خاصے عرصے تک فلموں میں چھوٹے موٹے کردار ہی ادا کرتے رہے۔ 1971ء میں فلم بابل میں انہیں ایک اہم کردار دیا گیا جس سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا اور پھر انہوں نے پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پاکستان کے فلمی صنعت کے سب سے مقبول اور سب سے مصروف اداکار بن گئے۔ انہوں نے مجموعی طور پر 804 فلموں میں کام کیا جن میں500سے زیادہ فلمیں پنجابی زبان میں اور 160 فلمیں اردو زبان میں بنائی گئی تھیں جبکہ 50 سے زیادہ فلمیں ڈبل ورژن تھیں ان میں سے 430 فلمیں ایسی تھیں جن کے ٹائٹل رول سلطان راہی نے ادا کئے تھے۔ ان کی مشہور فلموں میں بشیرا، شیر خان ،مولا جٹ، سالا صاحب، چند وریام،آخری جنگ اور شعلے کے نام سرفہرست ہیں۔ وہ ایک مخیر شخص تھے اور انہوں نے اپنے ذاتی خرچ پر کئی مساجد بھی تعمیر کروائی تھیں۔
انہیں لاہور میں14 جنوری 1996ء کو شاہ شمس قادری کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کردیا گیا۔
————————

نواب صدیق علی خان کی وفات

٭9 جنوری 1974ء کو پاکستان کی جدوجہد آزادی کے معروف رہنما نواب صدیق علی خان کراچی میں وفات پاگئے۔
نواب صدیق علی خان 1900ء میں ناگ پور میں نواب غلام محی الدین خان کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی ناگ پور ہی میں حاصل کی۔ 1935ء میں ناگ پور ہی سے مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کے پولیٹیکل سیکریٹری مقرر ہوئے۔ 16 اکتوبر 1951ء کو نواب زادہ لیاقت علی خان نے آپ ہی کے ہاتھوں میں دم توڑا تھا۔
نواب صدیق علی خان خواجہ ناظم الدین‘ محمد علی بوگرہ اور حسین شہید سہروردی کے پولیٹیکل سیکریٹری رہے اور 1958ء میں سے 1961ء تک ایتھوپیا میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔
نواب صدیق علی خان نے نوابزادہ لیاقت علی خان کی سوانح بے تیغ سپاہی کے نام سے تحریر کی تھی۔ وہ کراچی میں عالمگیر روڈ پر جامع مسجد‘ سی پی اینڈ برار ہائوسنگ سوسائٹی کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY