ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 4

3
1779

آل رائٹ ۔۔ آئی ایم ریڈی ۔۔( میں تیار ہوں )
باہر نکل کر آفتاب کو بتایا کہ ۔۔۔میں نے ایڈمیشن کے سارے پیپرز سائن کر دیئے ہیں اور ابتدائی آپریشن 25 مئی بروز بدھ دوپہر کے بعد طے ہوا ہے ۔
تم ٹھیک ہو ناں
جی جی میں بلکل ٹھیک ہوں
ڈر تو نہیں لگ رہا
ڈر کیسا ۔۔۔ جو ہے وہ ہے ۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا
ہاں جو بھی ہوگا ۔۔ میں تمہارے ساتھ ہوں
اگر ویزہ آ گیا تو ۔۔۔۔ میں ہنس رہی تھی
ایسا کیسے ۔۔؟
آفتاب کی آواز کی نمی کسی انجانے خوف میں ملفوف تھی ۔۔ جو مجھ تک پہنچ چکی تھی اور میری ذمہ داری اچانک ہی بڑھ گئی تھی ۔ہم دونوں نے اپنے اپنے والدین کھوئے تھے ۔۔ہمارا سفر بتیس برسوں پر محیط تھا ۔۔ ہم انگلیوں پر گن کر بتا سکتے تھے کہ کب کب ایک دسرے سے جدا ہوئے تھے ۔۔ اور ہمیشہ وجہ میری ہی بنتی تھی ۔۔ کبھی میری پڑھائی کے سلسلے میں دوسرے شہر میں سیمینار ہوتا تو کبھی امتحانات تو کبھی ہاؤس جاب کا سلسلہ ۔۔ تو کبھی جاب ۔۔۔ کبھی امی ابا جی سے ملنے لندن جانا ہے تو کبھی پاکستان ۔۔۔ اور آفتاب شاید دو یا تین بار اکیلے پاکستان گئے ہونگے یا پھر آمنہ کے پاس کینبرا ۔۔۔ لیکن پھر وہی فون اور فیس چیٹ نے ہر فاصلے کو کم کر دیا تھا ۔۔۔ہم دونوں میں دائمی جدائی کے سوچنے تک کا حوصلہ نہ ہو رہا تھا ۔

کھانا کھانے چلیں کہیں ۔۔۔ آفتاب نے میری خاموشی کو توڑنے کے لئے تجویز دی تھی
نہیں یار ۔۔ بہت کام ہیں ۔۔ کبھی کبھی دل کے اور گھر کے کام ایک ہی ہو جاتے ہیں ۔
گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی میں نے اپنے بینکس ٹاؤن ہسپتال کی ڈیوٹی سے بدھ سے لے کر جمعہ تک کی چھٹی کی درخواست بھیج دی

دوسرے ہی دن ایڈمیشن ڈیسک سے فون آگیا اور ریسیپنشسٹ نے بتایا کہ بدھ کی صبح گیارہ بجے ویسٹ میڈ پرائیویٹ ہسپتال پہنچ جانا ہے ، رات بارہ بجے کے بعد کچھ نہیں کھنا پینا اور صبح گیارہ بجے سے ایک گھنٹہ پہلے کوویڈ ٹیسٹ

Rapid Antigen Test, Rat

کرنا ہے جس کا تصویری ثبوت انہیں ایڈمیشن کاؤنٹر پر چاہیئے ہوگا ۔ اور جو ٹیسٹ کرنا بھول گئی تو وہیں ریسیپشن پر کرنا ہوگا جس کی قیمت تیرہ ڈالر دینی ہو گی ۔ اس کے ساتھ مزید ہدایت کا سلسلہ بھی تھا جس میں سب سے اہم یہ تھا کہ کوئی بھی میرے ساتھ ریکوری سے پہلے تک نہیں ہو گا۔

پچیس مئی (25/5/22 ) بروز بدھ کو آفتاب کے ساتھ میں ویسٹ میڈ پرائیویٹ ہسپتال پہنچ چکی تھی ۔ بچوں کو گھر آنے سے منع کر دیا تھا کہ دن کے دن یعنی ڈے سرجری ہی کی تو بات تھی .اور میں دعاؤں کے حصار میں تھی ۔۔

آفتاب ، میرے بچے ، میرے استاد محترم جناب صفدر ہمدانی ، میرے بہن بھائی اور میرا اسٹاف مجسم دعا میرے ہم قدم تھے ۔ گھر سے چلتےوقت دعاؤں کا سائیبان یوں ساتھ تھا جیسے لڑکی کو رخصت کرتے وقت قران پاک کا سایہ کیا جاتا ہے ۔

آپریشن کے لئے کمرے کے اندر داخل ہوئی تو آپریشن سے قبل کی بااخلاق نرس نے میرا چیک اپ کیا اور ایک ٹیبلیٹ

( Misoprostol )

زبان کے نیچے رکھنے کو کہا تاکہ بچہ دانی کا منہ

( Cervix )

نرم ہو کر کھُل جائے اور ڈاکٹر رابعہ کو ہسٹروسکوپی

Hysteroscopy

اور مزید آپریشن میں آسانی ہو جائے ۔ کتنا کچھ بدل گیا تھا ۔۔سائینس اور ٹیکنالوجی کی ترقی حیران کن تھی ۔ کچھ عرصہ پہلے تک دوا کی گولی یا دوا والی سٹک ویجائینا یعنی فُرج میں رکھتے تھے ۔۔۔۔ اف ایک انگلش فلم یاد کر کے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے جب پرانے وقتوں میں سویٹر بننے والی سلائی سے بچہ دانی کا منہ یعنی

cervix

کا منہ کھولا جاتا تھا
اور آج بھی گاؤں دیہاتوں میں دائیاں کیا کیا ظلم نہ کرتی تھیں اور بیچاری عورتیں ڈاکٹرز اور ہسپتال کی سہولت نہ ہونے سے کتنی تکلیفوں سے گزر جاتی تھیں بہت تو موقع پر ہی مر جاتی تھیں ۔

ایک سرد سی لہر میرے پورے جسم میں دوڑگئی۔

میں سوچ رہی تھی کہ اتنی ترقی کے باوجود ہم انسان خود کوکیوں نہیں بدل سکے ۔۔۔ کیوں ہم ایک دوسرے کو آسانیاں نہیں بانٹ سکے ؟

اور میں اس ادراک پر بھی حیران تھی کہ اتنی ترقی یافتہ ملک میں رہ کر ۔۔اتنی قابل اور مستند ڈاکٹرز کی توجہ پا کر بھی میرے اندر ایک عام سا انسان ہی رہتا تھا ۔۔ جیسے اگر مگر سے خوف آرہا تھا۔ بستر پر لیٹے لیٹے اپنی باری کا انتظارکرتے ہوئے اس وقت دل میں ایک خواہش نے بڑی زور سے سر اٹھایا کہ میرا آپریشن طویل ہو جائے کیونکہ یہ اسی صورت میں ہوتا جو ڈاکٹر رابعہ کو کینسر کا شک نہیں ہوتا ۔۔۔۔ لیکن وہ اور میں یہ بھی جانتے تھے کہ آنکھیں اور مائیکروسکوپ تو صرف شبہ ظاہر کرنے کے لئے ہوتی ہیں جو بایئوپسی کا بدل نہیں ہو سکتی ۔۔۔ پر پھر بھی تسلی کتنی پیاری تھی ۔۔جو مجھے ہوش میں آنے کے بعد ملی تھی کہ رابعہ کو ایسی کوئی ابنارمیلٹی نظر نہیں آئی تاہم پولپ بڑا اور کچھ ابنارمل سا لگا تھا جسے اس نے نکال دیا تھا اور اسی وجہ سے آپریشن طویل ہوا تھا۔۔۔ سب کچھ بائیوپسی

( Biopsy)

یعنی حیوی تشخیص کے لیئے جا چکا تھا۔ آج جب یہ سب لکھ رہی ہوں تو بایوپسی کا اردو ترجمہ تلاش کر کے لکھتے ہوئے سختی سے احساس ہوا کہ ہمارے ہاں طب جیسے شعبے میں اصطلاحات کا ترجمہ نہ ہونے کے برابر ہے اور جو تراجم ہیں ان سے آسان تو انگریزی کے الفاظ ہیں۔ خیر یہ جملہ معترضہ تھا

روم روم اپنے رب کا شکرگزار بن گیا جس نے مجھے اس دور میں ، ایک ترقی یافتہ ملک میں آنے کا اذن بخشا تھا ۔۔میرے شکر نے ڈر کو شکست دے دی تھی ۔ دل اطمینان سے بھر گیا کہ آپریشن طویل ہوا تھا ۔۔ ایسے جیسے اللہ پاک نے دعا کو قبول کر لیا ہو۔۔ دواؤں کی ہلکی سی بے ہوشی میں قبولیت کا سرور شامل ہو گیا ۔۔ درد کو روکنے کی دوا بھی بذریعہ انجیکشن مل رہی تھی ۔۔۔اور میں خود کو آسمان پر اور کبھی زمین پر محسوس کرتی۔۔

نرسیں ہر پندرہ منٹ پر خبر گیری کر رہی تھی اور میں کبھی اشاروں سے تو کبھی خاموشی سے ان کے سوالوں پر جواب کی صورت سر ہلا دیتی۔ مکمل ہوش آنے کے بعد نرسوں نے کھانے کی ٹرے سامنے رکھ دی اور کہا کہ جب تک میں پانی نہیں پیونگی ، کھاونگی نہیں اور جب تک پیشاب کے لئے واش روم نہیں جاؤنگی ، گھر نہیں جا سکتی ۔ اور یہ سب نمٹاتے شام ڈھلے گھر پہنچی ۔

باقی کے دو دن واہموں سے آزاد تھے ۔۔ تین دن کا میڈیکل سرٹیفیکیٹ ڈاکٹر رابعہ شیخ نے بنا دیا تھا ۔۔ جی میں آیا کہ کیوں نہ پیراور منگل بھی چھٹی کر لوں اور گھر کے مزید کام نمٹا لوں ۔۔ سو الماریاں ٹھیک کیں ۔۔کھانے بنائے ۔گھر کی جھاڑ پونچھ صفائیاں سب آہستہ آہستہ کرتی رہی تھی ۔ اتوار کو نجیب بھی گھر آیا تھا اور ہم دونوں نے مل کر خوب باتیں کیں ۔۔ ٹی وی پر ضیا تبارک کا وی لاگ “ چلیں “ کے کئی پروگرام دیکھ ڈالے۔

آج پیر کا دن تھا اور تاریخ تیس مئی ( 30/5/22 ) تھی ۔۔ ڈاکٹر مدحت سید سے آج اور کل یعنی دو دن کے میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے لئے اس کی سرجری کی انتظار گاہ میں بیٹھی ہوئی تھی جب ڈاکٹر رابعہ شیخ کا فون آیا تھا ۔۔۔ بایئوپسی کی رپورٹ‌آ چکی تھی ۔۔ڈاکٹر رابعہ شیخ مجھ سے زوم پر ڈسکس کرنا چاہتی تھی ۔۔

وقت جیسے ٹھہر سا گیا تھا ۔۔۔
دل بند بند سا لگ رہا تھا
کیوں۔۔۔ بھلا ؟

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

3 COMMENTS

  1. اُففف نگہت پیاری ۔۔۔۔۔اللہ کریم تمہیں شفائے کاملہ و عاجلہ عطا کرے ۔میرے دل سے نکلی دعا ہے یہ اللہ یقیناََ قبول فرمائے گا ۔آمین

  2. پیاری نگہت اللہ آپ کو صحت و تندرستی سے نوازے. آپ بہت بہادر ہیں. حوصلہ ،ہمت اورہمیشہ پُر یقین رہیں. اللہ تعالٰی آپ پر کرم کرے.

  3. بہت گیرائ اور گیرائ کے ساتھ قلمبند کرررہی ہیں اور بہت سے مسائل کی جانب نشاندھی بھی کرتی جارہی ہیں واقعی بہت سی طبی اصطلاحات کا اردو ترجمہ نہیں ہے اور اس پر کام بھی نہیں ھوا ۔لہزا انگریزی ہی میں مستعمل ہیں ۔لوگ بھی آسانی سے سمجھ لیتے ییں۔میں تو، سانس روکے پڑھتی ہوں ۔اور ساتھ ساتھ دعا نکلتی ہے دل سے ۔آپ مکمل شفایاب ھو ں جلد از جلد ۔اللہ اپنی امان میں رکھے ۔

LEAVE A REPLY