پانچویں قسط
یہ وہ وقت تھا
اگر کسی پر صرف یہ الزام ہی ہوتا
کہ یہ امیر المومنین کی ولایت و امامت کا طرفدار اور حمایتی ہے
تو اُس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی
اُس کا مال و دولت لوٹ لیا جاتا
بیت المال سے اُس کاوظیفہ بند کردیا جاتا یا قتل کر دیا جاتا
اِن دشوار حالات میں
امام حسین ایک مضبوط چٹان کی مانند جمے رہے
اور آپ نے تیز اور برندہ تلوار کی مانند
میدان منی میں
دین پر پڑے ہوئے تحریفات کے تمام پردوں کو چاک کردیا
امیر المومنین علی علیہ السّلام کی زندگی کے آخری پانچ سال تھے
جن میں جمل، صفین اور نہروان کی جنگیں ہویئں
اور امام حسین علیہ السّلام
اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی نصرت اور حمایت میں شریک ہوئے
شجاعت کے جوھر دکھلائے ۔۔۔۔۔۔تدبیر اور تدبر کے بھید بتائے
پھر یوں ہوا ۔۔ 40 ہجری میں
جناب امیر علیہ السّلام مسجد کوفہ میں شہید کر دئے گئے
امام حسن ع اور امام حسین ع مدینے تشریف لے آئے
اور امامت وخلافت کی ذمہ داریاں امام حسن علیہ السّلام کے سپرد ہوئیں
اہل بیت کی غربت و تنہائی کے دن شروع ہو چکے تھے
مسلمان تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہے تھے
لیکن امام حسن ع کا ساتھ ان کے باوفا اور اطاعت شعار بھائی
امام .حسین علیہ السّلام نے ہر غریب الوقت میں دیا
اور ۔۔۔۔ اس وقت بھی امام وقت کا ساتھ دیا
جب اسلامی مفاد اور بقا کے لئے
امام حسن علیہ السّلام نے اپنی شرائط پر مصلحتا معاویہ سے صلح کرلی
اور ۔۔۔ خود امام حسین ع نے خاموشی اور گوشہ نشینی اختیار کر لی
عبادت اور شریعت کی تعلیم واشاعت میں مصروف رہے
تاریخ اسلام نے لکھا ۔۔
معاویہ نے ان شرائط کو
جو امام حسن علیہ السّلام کےساتھ طے تھیں، پورا نہ کیا
ایک سازش رچائی ۔۔۔۔۔ اور انہیں زہر سےشہید کر دیا
شیعان علی ع کو چن چن کے قید کیا گیا
سر قلم کئے گئے اور سولی پر چڑھایا گیا
اور جو سب سے برا ہوا وہ تاریخ اسلام کا سیاہ باب بن گیا
امام حسن ع کی اس شرط کے بر خلاف
کہ ۔۔
“ معاویہ کو اپنے بعد کسی کوجانشین مقرر کرنے کا حق نہ ہو گا“
معاویہ نے اپنے بیٹے “ یزید “ کو اپنا ولی عہد مقرر کر دیا
اور ۔۔۔۔ زور و زر سے
مسلمانوں کی بیعت حاصل کی اور دنیائے اسلام کا سر جھکادیا
لیکن امام حسین علیہ السلام نے
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے پرچم کو جھکنے نہ دیا
معاویہ کے نام امام حسین ع کے خط
تاریخ کے اوراق کی ایک ناقابل انکار حقیقت اورقابل دید حصّہ ہیں
ان کے وہ عظیم الشّان خط
رہتی دنیا تک ہر انسان کے لئے
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پیغام ہیں
امام حسین ع نے
یزیدکے سلطنت پر قابض ہونے سے لے کر
مدینے سے کربلا جانے تک
آپ ع کے تمام اقدامات، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھے
امام حسین ع فرمایا کرتے
’’میں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
یہاں سے
آپ کی حیات مبارکہ کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے
جاری ہے













