ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا

0
502

ابن انشا کی وفات

٭ابن انشا کا شمار اردو کے ان مایہ ناز قلمکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے نظم و نثر دونوں میدانوں میں اپنے فن کے جھنڈے گاڑے۔ ایک جانب وہ اردو کے ایک بہت اچھے شاعر تھے دوسری جانب وہ مزاح نگاری میں بھی اپنا ثانی نہ رکھتے تھے اور کالم نگاری اور سفرنامہ نگاری میں ایک نئے اسلوب کے بانی تھے۔
ابن انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے بی اے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔
انہوں نے 1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1966ء میں روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔ وہ اک طویل عرصہ تک نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے انہیں انگلستان میں تعینات کردیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں لیکن سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اردو ادب کے اس مایہ ناز ادیب کو ان کے لاکھوں مداحوں سے جدا کرکے ہی دم لیا۔
ابن انشا کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’چاند نگر‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اس بستی کے ایک کوچے‘‘ میں اور ’’دلِ وحشی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کو کئی خوبصورت سفرنامے بھی عطا کئے جن میں آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافرشامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم ،باتیں انشا جی کی اور قصہ ایک کنوارے کا قابل ذکر ہیں۔
جناب ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا اور انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔
—————————-

نذرالاسلام کی وفات

٭11 جنوری 1994ء کو پاکستان کے نامور فلمی ہدایت کار نذرالاسلام لاہور میں وفات پاگئے۔
نذرالاسلام 19 اگست 1939ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ نیوتھیٹرز کلکتہ کے دبستان کے نمائندہ ہدایت کار تھے اور ان کی فلموں میں ستیہ جت رے، بروا، باسوچڑجی، بمل رائے اور نتن بوس کے اسلوب کی جھلک ملتی تھی۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز ڈھاکا سے بطور تدوین کار کیا پھر وہ ہدایت کار ظہیر ریحان کے معاون بن گئے۔ چند بنگالی فلموں کے بعد انہوں نے ایک اردو فلم کاجل بنائی جو بے حد مقبول ہوئی۔ پھر انہوں نے ایک بنگالی فلم کاربو اور ایک اور اردو فلم پیاسا کی ہدایات دیں۔ 1971ء میں سقوط ڈھاکا کے زمانے میں وہ پاکستان آگئے جہاں انہوں نے فلم ساز الیاس رشیدی کی فلم احساس سے اپنے نئے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ احساس کے بعد ان کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں حقیقت، شرافت، آئینہ، امبر، زندگی، بندش، نہیں ابھی نہیں، آنگن، دیوانے دو، لو اسٹوری، پلکوں کی چھائوں میں، میڈم باوری، بارود کی چھائوں میں، آندھی اور کالے چور کے نام سرفہرست ہیں۔ یہ تمام فلمیں باکس آفس پر بے حد کامیاب رہیں۔ بطور ہدایات کار نذرالاسلام کی آخری فلم لیلیٰ تھی، جو ان کی وفات کے بعد نمائش پذیر ہوئی۔ نذرالاسلام فلمی صنعت میں ’’دادا‘‘ کے لقب سے معروف تھے۔ وہ لاہور میں گارڈن ٹائون کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
————————-

مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ کی وفات

٭11جنوری 1993ء کو سندھ کے معروف روحانی، سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیت مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ کراچی میں وفات پاگئے۔
مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ 16 ستمبر 1919ء کو ہالانو میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ سندھ کے ایک محترم بزرگ حضرت لطف اللہ مخدوم نوح صدیقی سہروردیؒ کے سولہویں سجادہ نشین اور سروری جماعت کے سربراہ تھے۔ یہ گدی پیر پگارا کے بعد سندھ کی سب سے بڑی گدی سمجھی جاتی ہے۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ نے اپنے والد میاں غلام محمد اور اپنے چچا میاں غلام حیدر کی وفات کے بعد 1953ء میں اپنی گدی کا انتظام سنبھالا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سیاسی دنیا میں بھی قدم رکھا اور 1953ء میں پہلی مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1962ء اور 1965ء میں وہ قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ 1967ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی توسندھ میں ان کا اولین مرکز مخدوم صاحب کا بنگلہ تھا جو ہالا میں واقع تھا۔ 1970ء میں انتخابی معرکے میں نہ صرف مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے بلکہ ان کے بڑے صاحبزادے مخدوم محمد امین فہیم بھی ایک ضمنی انتخاب میں قومی اسمبلی کے رکن بننے میں کامیاب ہوئے۔ مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ ایک وضع دار اور بااصول انسان تھے۔ انہوں نے کئی مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کیا مگر پیپلزپارٹی کا ساتھ کبھی نہ چھوڑا۔ پیپلزپارٹی سے ان کا یہ تعلق ان کی وفات تک جاری رہا۔
مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ ایک اچھے شاعر اور ادیب بھی تھے ان کی کئی کتب اشاعت پذیر ہوچکی ہیں

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY