حُسین شناسی کا سفر۔9۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
836

نویں قسط

امام عالی مقام کو کوفہ جانے سے باز رکھنے کی پوری کوششیں کیں
انہیں کوفیوں کا سابقہ غدارانہ طرز عمل یاد دلایا
عمرو بن عبدالرحمن، عبداللہ ابن عباس، عبداللہ بن زبیر نے سمجھایا
’’ کوفہ میں یزید کی حکومت ہے
وہاں ان کی افواج اور سامان سب کچھ موجود ہے
اور کوئی شخص بھی قابل اعتماد نہیں ہے
مناسب یہی ہے کہ آپ مکہ ہی میں رہیں
اور اسلام کی سربلندی اور اپنی خلافت کی جدوجہد کریں “
لیکن ۔۔۔ امام حسین ع رضا مند نہ ہوئے
حضرت عبداللہ ابن عباس کی کوفہ کی بجائے یمن جانے کی تجویز بھی رد کر دی
انہوں نے امام عالی مقام سے یہ بھی کہا
’’اگر کوفہ کاسفر آپ کے نزدیک ضروری ہے
تو ۔۔۔ کوفیوں کو لکھیے
کہ۔۔ وہ یزید کے حاکموں کو وہاں سے نکالیں
پھر آپ وہاں کا قصد کریں گے ‘‘
لیکن امام حسین ع نے فرمایا
’’اے ابن عباس میں جانتا ہوں تم میرے خیر خواہ ہو
لیکن ۔۔۔ میں عزم کر چکا ہوں ‘‘
اس پر عبداللہ ابن عباس نے کہا
’’اگر آپ نہیں مانتے تو کم از کم اہل و عیال کو ساتھ نہ لے جائیے
مجھے ڈر ہے ۔۔ کہ
آپ اپنے بال بچوں کے سامنے ذبح کیے جائیں گے ‘‘
لیکن ان تمام ترغیبات کے باوجود
امام حسین عليہ السلام اپنے فیصلہ پر قائم رہے
اور بالآخر 3 ذوالحج 60 ھ کو مکہ معظمہ سے کوفہ کے لیے چل پڑے
آپ کی روانگی کے بعد
کو فے سے آپ کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن جعفر نے
ایک عریضہ اپنے بیٹوں عون اور محمد کے ہاتھ روانہ کیا
عریضے میں لکھا تھا
“ میں آپ کو اللہ تعالٰی کا واسطہ دیتا ہوں
جونہی میرا خط آپ کو ملے مکہ واپس لوٹ آئیے گا
کیونکہ
جس جگہ آپ جارہے ہیں
وہاں آپ کی جان کو خطرہ ہے
آپ کے اہل بیت کی بربادی ہے
جو خدانخواستہ
آپ کو کچھ ہوگیا تو دنیا تاریک ہو جائے گی
کیونکہ ۔۔۔ اس وقت
آپ ہی ہدایت یافتہ لوگوں کا علم اور مومنوں کی امیدوں کا مرکز ہیں“
لیکن ۔۔۔ امام حسین علیہ السلام اپنے ارادے پر قائم رہے
پھر ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن جعفر کے بعد عمر بن سعد حاکم
اہل مکہ کا سفارشی خط لے کر
امام حسین عليہ السلام سے ملے
اور انہیں بتایا
کوفہ کے لوگوں پر اعتماد مناسب نہیں
عمر بن سعد یہاں تک وعدہ کیا اور کہا

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY