کلاسیکل دہلی گھرانے کے چراغ اُستاد مظہر اُمراؤ بندو خان۔

دنیا بھر کے بے فکروں نے کل بزم سرود سجائی تھی

کیا دل کو مسلتا تھا طبلہ کیا سارنگی گھبرائی تھی

بر صغیرکے معروف کلاسیکل گھرانے دہلی سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے معروف کلاسیکل گائیک اُستاد مظہر اُمراؤ بندو خان

دہلی یہ تین اطراف سے ہر یانہ سے گھرا ہوا ہے ،جبکے اِس کے مشرق میں اُتر پردیش واقع ہے ۔یہ بھارت کا مہنگا ترین اور تاریخ ساز شہر ہے یہ وہی شہر ہے جہاں اُستاد بندو خان پیدا ہوئے اور اُن کے خاندان والوں نے فنِ موسیقی کی لازوال خدمت کی ۔مقامی زبان میں دلی بولا جاتا ہے ۔

جب جب دہلی کی تاریخ لکھی جائے گی استاد بندوخان کا نام سنہرے الفاظ سے لکھا جائے گا ۔

دریائے جمنا کے کنارے یہ شہر چھٹی صدی قبل مسیح سے آباد ہے۔ تاریخ میں یہ کئی سلطنتوں اور مملکتوں کا دار الحکومت رہا ہے جو کئی مرتبہ فتح ہوا، تباہ کیا گیا اور پھر بسایا گیا۔ سلطنت دہلی کے عروج کے ساتھ ہی یہ شہر ایک ثقافتی، تمدنی و تجارتی مرکز کے طور پر ابھرا۔ شہر میں عہد قدیم اور قرون وسطیٰ کی بے شمار یادگاریں اور آثار قدیمہ موجود ہیں۔

جنوبی ایشیا کاخطہ ایساہے،جہاں ہر زمانے میں فنون نے فروغ پایا۔یہ الگ بات ہے کہ یہاں کے باسیوں نے اہل یونان کی طرح اپنے ہنرکو پیش نہیں کیا ورنہ دنیا اس خطے کے فن سے اور زیادہ باخبر ہوتی۔اس خطے نے جنگ وجدل دیکھے اور فنون کا دم بھرتے دیوانوں کو بھی دیکھا۔اس دھرتی سے موسیقی، شاعری، ادب، مصوری، رقص،گائیکی اوردیگر اصناف فن نے جنم لیا۔یہ سب اثاثے یہیںکے اثاثے ہیں۔تقسیم کے بعد ہر ملک نے اپنی ترجیحات کے لحاظ سے ان فنون کی سرپرستی کی۔انھی میں سے ایک فن ’’کلاسیکی موسیقی‘‘ کا بھی ہے،جس کے مستقبل کویہاں مخدوش قرار دیا جاتا رہاہے۔

دہلی کا وہ مقام جہاں دنیائے فنِ موسیقی کے بے تاج بادشاہ اُستاد بندو خان،انکے صاحبزادے استاد امراؤ بندو خان ،استاد بلند اقبال پیدا ہوئے اور فن موسیقی کے یہ جواہر وں نے دنیا میں دھوم مچائی

استاد اُمراؤ بندو خان صاحب کے دو صاحبزے ہیں ایک استاد مظہر امراؤ بندو خان اور دوسرے استاد اطہر امراؤ بندو خان جو اپنے خاندانی روایات پر چلتے ہوئے فنِ موسیقی کی خدمات ادا کر رہے ہیں ۔

آئیں ہم آپ کو وہ محلہ دلی کا بتائیں جہاں استادوں کے استاد ،استاد بندو خان اور استاد امراؤ بندو خان اور استاد بلند اقبال پیدا ہوئے 1595گلی سُو قاؤ والی سُوئی والن دہلی انڈیا یہ وہ عظیم جگہ ہے جہاں فن موسیقی کے چشمے نکلے جنہوں نے دنیا میں اپنے فن سے بے پنہاہ شہرت پائی اور اعزازات پائے ۔قیامت تک دلی کے اس گھرانے کا نام بلند رہے گا ۔

موسیقی ایک ایسی رسیلی، شرمیلی اور پُر مغز زبان ہے، جسے ہر ذی روح پسند کرتا ہے، بشرطیکہ یہ موسیقی ہو محض شور نہ ہو، جب یہ دنیا بنائی گئی تو اس میں موسیقی بھی رکھ دی گئی، فطرت کے اس نگار خانے میں ہر سُر ہر دھن اور ہر راگنی الاپی جاتی ہے، انسانی دماغ نے اسے ایک علم کی صورت دے کر مسخر کر لیا، پھر کیا تھا فطرت کے ساز کی سنگت میں ایسے ایسے نغمے تخلیق کئے گئے کہ جو کبھی رُلا رُلا اور کبھی ہنسا ہنسا دیتے ہیں، ہر کان میں پہنچ کر یہ مختلف اثرات مرتب کرتے ہیں

جو دل والے متوالے سُر تال کی چال سے واقف و آگاہ ہو کر ریاضت کے سمندر میں غوطے لگاتے رہتے ہیں وہ آخر اک روز شہرت و عظمت کی سیڑھی پہ چڑھتے ہوئے مو سیقی کی دنیا میں ایسا مقام حاصل کر لیتے ہیں کہ دُنیا اُنہیں احترام کی نگا ہ سے ،دیکھتی اور بڑی چاہ سے سراہتی ہے۔اِس سراہنے میں بناوٹ کا گُذر ہرگز نہیں ہوتا بلکہ چاہت کی سچی اور کھری کہانی ہوتی ہے اسی لئے شوق سے سنی جاتی ہے۔

سات سُروں کے سمندر کا پہلا سبق،، سارے گاما پا دھا نی ،،سے آشنائی گِنا جاتا ہے۔اور جو موسیقی سیکھنے کے شوقین اس سبق پر کامل دسترس حاصل کر لیتے ہیں ، اُن کی آواز میں ایسا نکھار آجاتا ہے کہ عام سماعتیں بھی داد و تحسین دئیے بغیر نہیں رہ پاتیں۔

قدیم یونانی اور لاطینی ادب، فنون، ثقافت اور سادہ متناسب انداز و اسلوبِ موسیقی سے کو بھی کلاسِیک ہی کہا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں کلاسِیکی موسیقی سے مُراد قدیم ہندوستانی موسیقی ہے۔ کلاسِیکی موسیقی ہندو مذہب میں عبادت کا حِصّہ ہے ۔ چشتِیہ سِلسلے کے ولی حضرت نظام اُلدّین اولیائؒ کے مُریدِ حضرت امیر خسرو (1243ء 1325ئ)، فارسی، ہندی، برج بھاشا کے شاعر اور ”راگ وِدیا“ ( علمِ موسیقی) میں کامل تھے۔ اُنہوں نے ایرانی اور ہندوستانی موسیقی کی آمیزش سے کئی راگ تخلیق کئے اور راگنیاں بھی ستار امیر خسرو کی ہی ایجاد ہے۔

موسیقی کے بیش تر گھرانوں نے اپنی شاندار تاریخ اور گائیکی کی روایات کے ساتھ پاکستان کا رُخ کیا۔ لیکن کلاسیکی گائیکی کے تلونڈی، آگرہ، کرانہ، ہریانہ، کپورتھلہ اور دہلی گھرانے ملک چھوڑکے چلے گئے دہلی گھرانہ کے لوگ رہ گئے ہیں جو اپنے جد کے فن کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔

راجستھان سے سارنگی. سارنگی جنوبی ایشیا کا ایک کمان سے بجنے والا اور چھوٹی گردن کا تانتل ساز ہے جو ہندوستانی کلاسکی سنگیت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ساز سب سے زیادہ انسانی آواز سے ملتا ہے، گمک (لہراؤ) اور مینڈ (مسلسل اتار چڑھاؤ) جیسے صوتی کی تقلید جو کر سکتا ہے۔

چھاتی سے لگا کر بجایا جانے والا ساز جس میں لکڑی کے خول پر چار تانت کی تانیں اور عموماً یرہ طربیں ہوتی ہیں، تاروں پر کمانچہ پھیر کر بجایا جاتا ہے غچکا، غچکی۔

اِس دورِ جدید میں سارنگی کی پہچان اُستاد بندو خاں کا نام ہے لوگ بندوخاں کے نام سے پہچانتے ہیں ۔سارنگی سنسکرت زبان کا لفظ ہے ۔1759ء میں راگ مالا میں بطور اسم استعمال ہوا سارنگی بجانے والا سارنگیا کہلاتا ہے ۔

برصغیر پاک وہند میں سارنگی جیسا ساز آج تک کسی بھی ملک سے نہیں آیا،عصرحاضرمیں صرف تین سارنگی نواز پاکستان میں رہ گئے.

سارنگی نوازوں کی اکثریت تقسیم کے بعد ہجرت کر کے پاکستان میں مقیم ہوئی تھی۔ لاہور میں استاد حیدر بخش خان عرف فلو سے خان، استاد ناظم علی خان، استاد نبی بخش، استاد بابا غلام محمد خان، استاد مولوی حمید، استاد نثار حسین، استاد حسین بخش پیرو خان، ماسٹر شرف الدین اور دوسرے، کراچی میں استاد بندو خان، استاد نتھو خان، استاد حامد حسین خان، زاہد حسین خان، امراﺅ بندو خان و دیگر، راو لپنڈی میں استاد اشن خان، استاد مبارک خان، استاد اللہ رکھا خان، پشاور میں استاد فقیر حسین اور حیدر آباد میں استاد مجید خان سمیت دیگر نے فن کا سکہ جمایا۔

استاد بندو خان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ریڈیو پاکستان کی سگنیچر ٹیون ایجاد کی، جو آج بھی ٹرانسمیشن کے آغاز میں بجائی جاتی ہے۔ استاد فلو سے خان پہلے سے ہی لاہور میں آباد تھے اور وہ کلاسیکی موسیقی کے ایک بڑے انسٹیٹیوٹ تکیہ مراثیاں میں پروان چڑھے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے خادم حسین عرف بھوبے خان نے بھی اس فن میں نام پیدا کیا۔ استاد نتھو خان کراچی میں مقیم ہوئے، انہیں رفیق غزنوی جیسے عظیم گلوکار اور موسیقار کی سنگت کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ انہوں نے استاد نزاکت علی خان اور سلامت علی خان جیسے دوسرے بڑے فنکاروں کے ساتھ سنگت کی۔

سُرتال کی دنیا میں سارنگی کا مقام سب سے جدا ہے۔ سارنگی بجانے والے افراد کچھ کم تو ہوگئے ہیں مگر اس آلہ موسیقی سے بکھرتی دھنیں شائقین کو آج بھی سحر زدہ کردیتی ہیں۔

تین حصوں پر مشتمل سارنگی کے چھتیس تار ہوتے ہیں، جن سے سُر چھیڑنا ماہر سارنگی نواز ہی کا کام ہے ۔

انسانی آواز سے قریب ترین سمجھی جانے والی سارنگی کی روایتی دھنیں اور اس سے وابستہ عوامی شاعری اب ہندوستان کے دیہی علاقوں سے ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔

موسیقی کے شعبہ میں پروفیشنلزم کے بڑھتے رحجان کے سبب سارنگی کے وجود کو شاید کوئی خطرہ نہ ہو لیکن طرز زندگی میں ہوتی تبدیلیوں نے سارنگی نواز خانہ بدوشوں اور ان سے وابستہ عوامی شاعری کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور یہ فنکار اپنے وجود کو بچانے کی جدوجہد کرتے محسوس ہوتے ہیں۔

استاد بندو خان 1880ء میں دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد علی جان خان بھی سارنگی بجاتے تھے اور استاد ممّن خان، جنہوں نے سر ساگر ایجاد کیا ان کے ماموں تھے۔ استاد بندو خان نے سالہا سال اپنے ماموں سے سارنگی کے اسرار و رموز سیکھے پھر وہ ایک ملنگ میاں احمد شاہ کے شاگرد ہوئے جنہوں نے انتہائی شفقت اور محبت سے بندو خان کو اپنے علم کا سمندر منتقل کردیا۔

قیام پاکستان کے بعد بندو خان پاکستان چلے آئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔ ایک مختصر سی علالت کے بعد 13 جنوری 1955ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ کراچی میں آسودہ خاک ہوئے

استاد بندو خان کو ان کی وفات کے بعد 1959ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

جس میں تاروں کی بجائے تانت اور بال لگے ہوئے ہوتے چھاتی سے لگا کر بجایا جانے والا ساز جس میں لکڑی کے خول پر چار تانت کی تانیں اور عموماً تیرہ طربیں ہوتی ہیں، تاروں پر کمانچہ پھیر کر بجایا جاتا ہےہندوستان میں سارنگی ایسا باجہ ہے کہ جس کا جواب کسی ملک میں ایجاد نہیں ہوا اس کو اجین کے حکیم سارنگا نے ایجاد کیا تھا۔ اس کی ابتدا یوں ہے کہ حیک موصوف کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جس طرح قدرت نے آدمی کے گلے سے ہر طرح کے نغمات پیدا کئے ہیں اس طرح کا کوئی ساز ایجاد کیا جائے چنانچہ اس نے نصف دھڑ سے لیکر گلے تک کی شکل کا ایک ساز ایجاد کیا اور اس کا نام سارنگی سکھا یعنی انگ (بدن) کا سا ورسی کے ایجاد کی وجہ سے وہ سازنگا کہلانے لگا اس سے پہلے اس کا کچھ اور نام تھا سارنگی میں اس نے آدمی کے بدن کا ڈھانچا بنایا اور تانت اور تار کی وہ رگیں بنائیں جو آواز اور نغمات کو اندر باہر لاتی اور لے جاتی ہیں اور جن کے ذریعہ سے گلے یا سینے میں آواز گونجتی اور چلتی پھرتی ہے پہلے سارنگی میں تمام وہ رگیں موجود تھیں جو آدمی کے بالائے ناف سے لیکر گلے تک میں گویا یہ ساز علم تشریح کا ایک نمونہ تھا لیکن اب چودہ یا سترہ طرب سے زیادہ نہیں ہوتیں

استاد بلند اقبال کلاسیکی موسیقی کے دہلی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور معروف سارنگی نواز استاد بندو خان کے فرزند اور استاد امراو بندو خان کے چھوٹے بھائی تھے۔ استاد بلند اقبال 1930ء میں دہلی میں پیدا ہوئے تھے اور قیام پاکستان کے بعد اپنے والد کے ساتھ پاکستان منتقل ہوگئے تھے

استاد بلند اقبال نے 25 جولائی 2013ء کو کراچی میں وفات پائی اور کراچی ہی میں آسودہ خاک ہوئے ۔

سچ ہے یا نہیں مگر کچھ فنکار یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ موسیقی کے آلات میں سارنگی سیکھنا اور بجانابہت مشکل ہے،اس لئے عموماً’باریک ‘ ذہن رکھنے ولے ہی یہ باریکی سمجھ سکتے ہیں اور سارنگی سیکھ کر بجا سکتے ہیں

کلاسیکل گائیک ،میوزک ڈائیریکڑ ،میوزک کمپوزر،سارنگی نواز اُستاد مظہر امراؤ بندو خاں جنہے ٹھمری ،دادرہ ،گیت ،غزل ،بندش ،راگ ،نعت ،منقبت ،نوحے مرثیے پر بھی عبور حاصل ہے ۔آپ استاد بندو خاں کے پوتے استاد امراؤ بندوخاں کے صاحبزادےہیں

کلاسیکل گلوکار استاد مظہر امراؤ بندو خان نے کہاہے کہ ثقافتی طور پر پاک بھارت تعلقات کو میوزک کے ذریعے دوستی و امن کا روپ دینے کی کوشش کررہا ہوں

کلا سیکی گھرانے کے گلوکار استاد مظہر امراؤ بندو خان

استاد مظہر اُمراؤ بندوخان کے دادا جان استاد بندو خان والد استاد اُمراؤ بندو خان تھے ۔آپ کراچی میں 1965ء میں پیدا ہوئےاُستاد مظہر اُمراؤ بندوخان کی دو بہنیں اور دو بھائی ہیں ۔

فن موسیقی کی تعلیم اپنے والد محترم استاد اُمراؤ بندو خان سے حاصل کی ،موسیقاروں کے گھرانے میں پیدا ہوئے ۔کلاسیکل گلو کار اُستاد مظہراُمراؤ بندو خان نے پاکستان کے ہر صوبے میں اپنے فن کا لوہا منوایا اور شائیقین کے دل جیت لئے انڈیا بھی کنسرٹ کرنے گئے وہاں بھی دھوم مچا دی ۔جہاں بھی گئے شائیقین کی تعداد بڑھتی گئی ۔

اُستاد مظہر اُمراؤ بندو خان نے کلاسیکی موسیقی میں اپنے آپ کو متعارف کرایا ہے ،جب آٹھ سال کے تھے تو موسیقی کے رموز سیکھنے میں اپنے والد استاد امراؤ بندو خان سے تربیت لی ،اپنے چچا استاد بلند اقبال سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی ۔برصغیر کے موسیقی دان گھرانے کے سر پنج استاد بندو خان ،استاد بندو خان کے صاحبزادے استاد امراؤ بندو خان اور استاد بلند اقبال ،استاد امراؤ بندو خان کے صاحبزادے استاد مظہر امراؤ اپنے گھر کی موسیقی کی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں آپ جہاں جاتے ہیں حاضرین کے دل جیت لیتے ہیں ۔آپ اپنے شاگردوں کو ایسی تربیت دے رہے ہیں کہ فن موسیقی آگے بڑھے ۔

آپ کا شمار عصر حاضر کے بہترین غزل گلوکاروں میں ہوتا ہے۔ غزل سرائی میں آپ کا انداز اور اتار چڑھاؤ منفرد مانا جاتا ہے، کیونکہ اس میں دیگر غزل گائیکوں کے برعکس، ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا رنگ جھلکتا ہے۔

استاد مظہر امراؤ بندو خان آج بھی ریڈیو پاکستان سے وابسطہ ہیں جہاں انکے دادا اور والد اپنی خدمات دیتے رہے مگر وہ مستقل ملازمت سے محروم ہیں کسی پروگرام میں موسیقی کی دھنیں درکار ہوں تو بجانے چلے جاتے ہیں ۔مگر ریڈیو پاکستان سے والہانہ محبت اور عقیدت ہے انکے بزرگ ایسی ادارے سے وابسطہ رہے اور موسیقی کی خدمت رکرتے رہے ۔ریڈیو پاکستان کے لئے سینکڑوں پروگرام کئے جو آج بھی انمول ہیں ۔ریڈیو پاکستان کے لئے دھنیں بجائیں گانے گائے ۔نجی محفلوں میں غزل گاتے ہیں اپنی غزلوں کی دھنیں خود تر تیب دیتے ہیں ۔آپ کی دھنیں راگ پر ترتیب ہوتی ہیں ۔ایسے خوبصورت راگوں کی چاشنی میں ان کی غزلیں سامعین کے دل چھو لیتی ہیں ۔پاکستان سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ ہندوستان میں بھی خاصے مقبول ہیں ۔

موسیقی کے رسیا بخوبی جانتے ہیں کہ کلاسیکی موسیقی مشکل اور پیچ دار تانوں پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن مشکل تانوں کو میٹھی آواز میں سہل بنانا صرف استاد مظہر اُمراؤ بندوخان صاحب کا ہی خاصاہے

مسلسل ریاض اور تان لگانے کے بعد گائیک کے سروں میں خشکی پیدا ہو جاتی ہے، لیکن خان صاحب کے ہاں صورتحال بالکل برعکس

ہےآواز کبھی ترش نہ ہوئی اور گلہ ہمیشہ تر رہا، گویا آواز میں دریا کی لہروں کی مانند روانی

ہےٹھمری کو نئی جہت عطا کی، عموماً گائیک راگ کے زیر و بم کو فالو کرتا ہے لیکن ان کے ہاں تمام راگ انہی کے پیروکارہیں۔بھیروں ، درباری ، ایمن اور جے جے ونتی بہت شوق سےگاتے ہیں ۔

استاد مظہر اُمراؤ بندوخان صاحب نے کلاسیکی کو مٹھاس میں بدلا ،جدت دی لیکن روایات کو بھی پختہ کیا ،استاد مظہر امراؤ بندوخان صاحب اونچے سروں میں جاتے ہیں تو آواز رتی بھر بھی نہیں کانپتی نہ پھٹتی ہے قدرت نے آپ کو ایسی آواز عطا کی ہے کہ سر کے آغاز سے انجام تک دریا کی سی روانی قائم رہتی ہے ۔مشکل سے مشکل تان ،پلٹ اور گمک میں بھی آواز اور ریاضت کے طفیل سر میٹھے رہتے ہیں۔وہ چاہے خیال ہو کہ ٹھمری بہ کمال گاتے ہیں ۔

نوجوان نسل میں تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والے غزل گائیک

اُستاد مظہر اُمراؤ بندوخان صاحب ہیں

گلوکاری کے ذریعے امن ، پیارمحبت، حب الوطنی کے جذبہ اوررواداری کاپیغا م عام کرکے عوام میں احساس پیداکررہے ہیں ۔پاکستان کایہ معروف گْلوکارنہ صرف موسیقی کے ذریعے امن اورحْب الوطنی کاجذبہ عوا م کے دِلوں میں پیداکررہاہے اس پاکستانی گلوکارکے مداحوں کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔

اُستاد مظہر اُمراؤ بندوخان صاحب فرماتے ہیں

جیسے آندھی، طوفان کے بعد ایک بار پھر سکون ہوتا ہے اسی طرح سے آج کی شور شرابے والے موسیقی کا دور جب ختم ہوگا تو ایک بار پھر سے غزلوں اور كلاسیكل گائیکی کا دور آئے گا اور اس بات کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا۔

میں نے اپنے اساتذہ اور والدین کی بہت عزت اور خدمت کی ہے جس کی وجہ سے مجھے زندگی کے ہر مقام پر عزت ملی ہے

کلاسیکی موسیقی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔

خیال گائیکی میں سب سے اہم چیز اس کی بندش ہوتی ہے ۔ خیال کے بولو ں کو سراور لے کے اندر باندھا جاتا ہے اس کو بندش کہتے ہیں۔ استھائی اس کے کے بولوں کا ابتدئی اور انترا دوسرا حصہ ہوتا ہے ۔ استھائی کو بھرنا ہی خیال گائیکی ہے ۔ چند بار بندش اپنے اصل انداز میں سناکر گائیک لے کو آلاپ ، بہلاوں اور تانوں سے بھرنے لگتا ہے اور ہر آوردی کے آخیر میں بول پکڑ کر سم پر آجاتاہے۔ خیال کا ٹیمپو آہستہ آہستہ تیز ہوتا جاتا ہے جو بڑھت کرنے میں گائیک کی مدد کرتا اور گائیک کو نئی نئی طرح سے اپنے فن کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ غرض یہ کہ جب تک خیال وضع کی گائیکی متحرک اور کھلی ہے اپنے اندد نئی نئی اختراعات اور تخلیقات کی اجازت دیتی ہے اور دوسری نظام ہائے موسیقی سے نئے عناصر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے زندہ رہے گی۔ اور جب دھرپد کی طرح جامد اور بند وضع بن جائے گی متروک قرار دے دی جائے گی۔

ٹھمری ایک لائٹ کلاسیکل فارم ہےلفظی طور پر ٹھمری کا مطلب ہی نرت یعنی رقص ہے ۔ٹھمری میں سنگھار رس اور بول بھاؤ کا استعمال زیادہ ہوتا ہے ۔

تالیں بھی ٹھمری کے ساتھ مخصوص ہیں ، اکہروے میں زیادہ تر ٹھمریاں گائیں جاتی ہیں ، علاوہ ازیں دیپ چندی ، تین تال اور دیگر ہلکے پھلکے ٹھیکے بھی استعمال کیے جاتے ہیں ۔

نوم توم الاپ دھرپد کا سب سے اہم اور بڑا حصہ ہوتا ہے ۔ پورے راگ کی بڑھت اسی الاپ میں ہوتی ہے ، اس کے بعد دھرپد(تال کے ساتھ) گایا جاتا ہے جس کے چار حصے ہوتے ہیں استھائی ،انترا،ابھوگ اور سنچاری۔ مگرتال والا حصہ دھرپد کا بہت مختصر حصہ ہوتا ہے مثال کے طور پر اگر گائیک نے ایک گھنٹہ آلاپ کیا ہے تو صرف دس پندرہ منٹ میں وہ دھرپد گا کر ختم کردے گا۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ دھرپد گائیک صرف الاپ کر کے ختم کردیتے ہیں ۔ اور دھرپد کے چاروں حصے تو اب شاذ ہی سننے میں آتے ہیں زیادہ تر گائیک صرف استھائی اور انترا گا کر کام ختم کردیتے ہیں ۔

ریڈیو پاکستان کراچی کی خدمت کرتے ہوئے عرصہ دراز ہوچکا ہے ۔ریڈیو پاکستان نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا یہ درست ہے کہ ہم گانے والوں کو پبلک تو بڑی واہ واہ کی داد دیتی ہے لیکن داد سے پیٹ نہیں بھرتا سرکاری سرپرستی اس لئے ضروری ہے کہ جہاں گئے ملک کا نام روشن کیا ناکام نہیں آئے اور ریڈیو پاکستان نے جو کار ہائے نمایاں انجام دئیے آج کسی الیکٹرانک میڈیا کو نصیب نہیں ہوئے

جیسے جیسے دنیا کے حالات میں تیزی اور کئی نئی ریسرچ آ رہی ہے موسیقی تو نہیں بدل سکی ۔ اب فلمی گیتوں نے خوب رونق لگا رکھی ہے لیکن میں نے کلاسیکل موسیقی یاری نہیں توڑی اور یہی میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کلاسیکل موسیقی سیکھنا بڑا وقت مانگتی ہے پھر اس کے چاہنے والوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے لیکن میں کہتا ہوں اصل گانا ہی کلاسیکل موسیقی ہے بشرطیکہ آپ اس پر مہارت رکھتے ہوں۔

برصغیر کے موسیقی دان گھرانوں میں دہلی گھرانہ سرِ فہرست نمایاں ہے ۔اُستاد بندوخان،اُستاد اُمراؤ بندو خان ،اُستاد بلند اقبال ،اور دورِحاضر کے اُستاد مظہر اُمراؤ بند و خان صاحب سارنگی کے سُروں سے غزل گائیکی میں اپنے فن سے حاضرین کے دل جیت لیتے ہیں ۔اپنے ہونہار شاگردوں کو فنِ موسیقی کی تعلیم دے کر اِس فن کو آگے بڑھا رہے ہیں

دلی گھرانہ کے معروف سارنگی نواز استاد مظہر امراؤ بندو خان کو یہ اعزاز بھی ہے کہ آپ استاد بندو خان کے پوتے ہیں ۔استاد مظہر امراؤ بندو خان بھی خود بھی اس فن سے جوڑے ہوئے ہیں بہت با صلاحیت موسیقار اور گلو کار ہیں ۔انکے گلے میں سر تیرتے ہیں اور کمال کی سارنگی بجاتے ہیں ۔معاشی بد حالی دیکھ کر دوستوں نے مشورہ دیا کہ اس فن کو خیر باد کہہ دو مگر صاف انکار کر دیا ۔ان کا کہنا ہے کہ یہ فن ان کے پُر کھوں کی معراج ہے اور وہ آخری سانس تک اس کی خدمت کرتے رہیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ جدت ان کے خاندان کی روایت ہے، پہلے درپت گائیکی ہوتی تھی۔

معروف غزل گائیکوں کی موجودگی میں اپنی پہچان خود بنائی ان کا منفرد انداز ہے جو انکے فن کی کامیاب دلیل ہے ۔انہوں نے اپنے فن سے اپنے خاندان اور بزرگوں کا نام روشن کیا ۔ان کا کہنا ہے کہ ان کے بزرگوں نے جو بھی تجربہ کیا وہ کلاسیکل موسیقی سے جڑا ہوا تھا وہ بھی اسی انداز سے موسیقی کی خدمت کرتے رہیں گے ۔

پاکستان میں کلاسیکی موسیقی کو جس طرح سے نظر انداز کیا جاتا ہے، اْس کے پیشِ نظر امکان غالب ہے کہ نوجوان نسل آگے چل کر کلاسیکی موسیقی کو بھول ہی جائے۔ بھارت میں آج بھی کلاسکی موسیقی کو بے پناہ اہمیت اور مقام حاصل ہے، مشرقی موسیقی کی مختلف اصناف میں پاکستان نے اپنا منفرد مقام بنایا تاہم اب سروں کے دلدادہ گائیکی کے معیار سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے ۔

تحریر آفتاب احمد

کراچی پاکستان

SHARE

LEAVE A REPLY