فصلاں دی مُک گئی راکھی، جٹا آئی وساکھی

0
81

فصلاں دی مُک گئی راکھی، جٹا آئی وساکھی۔ آئی وساکھی‘‘ بیساکھی کا یہ تہوار اور میلہ بھی موسم کی بجائے سکھوں سے منسوب کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہ میلہ ماضی میں سب کسان مل کر مناتے تھے۔ اُن کے نزدیک یہ خوشی کا مقام ہوتا کہ اس میلے کے بعد گندم کی کٹائی شروع ہو جاتی تھی۔ تاہم قیام پاکستان کے بعد بتدریج یہ رسم یا میلہ سکھوں سے منسوب ہو کر رہ گیا ہے کہ وہ بھی اسے اپنے گورو کے استھان پر مناتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر متبرک مقام پاکستان میں ہیں۔اب ہر سال بیساکھی کا میلہ حسن ابدال میں لگتا ہے اور بھارت کے علاوہ دُنیا بھر سے سکھ اس میں شرکت کے لئے آتے ہیں۔ اب بھی بیرونی ممالک سے سکھ حضرات کی آمد کا سلسلہ تو پچھلے ہفتے سے جاری ہے۔ البتہ بھارت سے خصوصی ٹرینوں کے ذریعے آمد اب ہوئی اور اٹاری سے واہگہ کی سرحد پار کر لینے کے بعد یہ خصوصی ٹرینیں حسن ابدال کے لئے روانہ ہو گئیں۔

حکومت پاکستان ان کے لئے خصوصی حفاظتی اور آمدورفت کے انتظامات کرتی ہے۔ان سکھوں کی میزبانی کے فرائض متروکہ وقف املاک بورڈ انجام دیتا ہے اور یہی بورڈ میلے کا بھی منتظم ہوتا ہے۔ اس بار بھی بورڈ نے میلے کے مہمانوں کی خاطر تواضع کے خصوصی انتظامات کئے ہیں۔ چیئرمین بورڈ صدیق الفاروق خود نگرانی کر رہے ہیں اور بورڈ کا سارا عملہ دن رات محنت سے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کی طرف سے ویزوں اور امیگریشن سے لے کر حفاظت تک کے خصوصی انتظامات کئے ہیں، ان کے لئے یہ قابلِ تعریف ہیں کہ ایک تو ان مہمانوں کی تقریب پُرامن اور اچھی ہو اور دوسرے کسی بھی نوعیت کا کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ ہو، بھارت میں گندم کی فصل کٹے گی، تو پاکستان میں بھی اب کٹائی شروع ہے۔اس بار موسم نے کافی متاثر کیا، پھر بھی فصل اچھی ہوئی ہے۔ دُعا کرنی چاہئے کہ ہماری فصل محفوظ اور اچھی ہو تو بھارت سے آنے والے خیربت سے تہوار منا کر واپس جائیں۔ مُلک کی نیک نامی اِسی میں ہے۔

بھارت کی طرف سے خواجہ معین الدین چشتیؒ المعروف غریب نواز کے عرس پر اجمیر شریف جانے کے خواہشمند پاکستانی زائرین کو ویزہ دینے سے انکار کے باوجود پاکستان کی طرف سے بیساکھی میلے پر سکھ یاتریوں کا کھلے دل سے استقبال، 1560 یاتری بیساکھی میلے کے لیے پاکستان پہنچ گئے۔

ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کا اُتار چڑھاؤ اپنی جگہ لیکن اس کے اثرات مذہبی اقدار کی پاسداری پر اثرانداز نہیں ہونے چاہیں۔ بھارت نے ہمیشہ اس حوالے سے غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ دوسری طرف پاکستان ہے جو ہمیشہ دوسرے مذاہب کی مذہبی اقدار کی پاسداری کرتا ہے۔

بیساکھی میلے کی تقریبات میں شرکت کے لیے سکھ یاتری واہگہ کے راستے لاہور پہنچے تو ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ بھارت سے سکھ یاتری دو خصوصی ٹرینوں کے ذریعے پاکستان پہنچے ہیں۔ جن میں مردوخواتین دونوں ہی بڑی تعداد میں شامل تھے۔ ان یاتریوں کے لیے واہگہ ریلوے سٹیشن پر کھانے سمیت، ہرطرح کی دیگر سہولیات کا انتظام کیا گیا تھا۔ حسن ابدال، ننکانہ صاحب اور دیگر مقامات پر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد یہ سکھ یاتری 21 اپریل کو واپس روانہ ہوجائیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY