برطانیہ میں اسرائیلی سفیر زیپی ہوٹو ویلی نے کھلے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان کا ملک دو ریاستی حل کو غزہ میں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کسی صورت قبول نہیں کرے گا، بلکہ مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

برطانوی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران اسرائیلی سفیر زیپی ہوٹو ویلی نے کہا کہ اسرائیل آج یہ جانتا ہے اور پوری دنیا کو بھی یہ جان لینا چاہیے کہ فلسطینی اسرائیل کے ساتھ اپنی ریاست قائم نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح آج بھی فلسطینی اسرائیلی ریاست کے بغیر اپنا نقشہ اور نعرہ اونچی آواز میں پیش کر رہے ہیں کہ وہ ‘من النہر الی البحر’ اپنی ریاست چاہتے ہیں۔یہی ہمارا مؤقف ہے کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہو سکتی۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

جی سیون رہنماؤں نے فلسطین اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کرلیا۔

جی سیون گروپ کے ورچوئل اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دو ریاستی حل فلسطین اور اسرائیل کو منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کے قابل بنائے گا۔

اجلاس میں جی سیون رہنماؤں میں اگلے سال سے روسی ہیروں کی درآمد محدود کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے، یہ اقدام یوکرین جنگ پر روس کے خلاف پابندیاں سخت کرنےکی پالیسی کاحصہ ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یکم جنوری تک روس میں تیار اور پروسس شدہ غیرصنعتی ہیروں پر درآمدی پابندیاں متعارف کرائیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY