پیکاں برس رہے ہیں تابوت پر حسن کے،سید رضا مہدی باقری

0
1601

علامہ اظہرحسن زیدی کاجملہ ھے کہ “دونوں بھائیوں کے جنازوں میں بس اتنا فرق تھا کہ حسن۴ کے جنازے پر تیر تھے اور حسین۴ کا جنازہ تیروں پرتھا۔” اور دو بہن بھائیوں کی کے سفید لباس کیسے سرخ ہوگۓ؟وہ یوں کہ زینب کے بڑے بھائی حسن۴ کے جنازے کو ان کے نانا۴ کہ پہلو میں آسودہِ خاک کرنے کے لۓ لے جا رھے تھے کہ مقتدرہ نے اجازت دینے سے انکار کردیا اور شقاوت کی انتہا کرتے ہوۓ جنازے پر تیر برساۓ گۓ ۔۔۔حسن۴ کا سفید کفن سرخ ھوگیا۔
کربلا کے میدان میں یوم عاشور حسن۴ کی بہن زینب۴ کی سفید چادر اس وقت سرخ ھوگئی جب وہ جوان علی اکبر۴ کے لاشے پر گریں۔۔۔
یہ دونوں منظر چشم تصور میں لائیں اور حشر تک روتے رہیں پھر بھی عزاداری کا حق ادا نہیں ھو سکتا۔
ایک عمومی سوال بنتا ھے کہ امت کو خاندان رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ سے اتنی دشمنی اور عداوت کیں تھی جبکہ آپ۴ اس دنیا سے جاتے جاتے تاکید کرکے گۓ کہ” قرآن اور میری سنت کی محافظ میری عترت و اہل بیت کا ساتھ نہ چھوڑنا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں”
صاف ظاہر ھے کہ ان لوگوں کو خدا اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ پر ایمان ہی نہ تھا ۔یہ لوگ دنیاوی جاہ حشم اور دولت ثروت اور اقتدار واختیار کے لۓ اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوۓ تھے۔یہی لوگ ہیں جن کو قرآن عظیم کی سورہ توبہ و سورہ تحریم میں بے نقاب کیا گیا۔
جس جس نے فرمان رسول کریم کے برعکس عمل کرتے ہوۓ آل محمد۴ کے حقوق غصب کۓ،ان پر ظلم و ستم کی انتہا کردی اور ان کو اس مرتبے اور مقام سے گرانے کی کوشش کی جو انہیں خدا نے عطا کیا تھا۔۔۔بلا شبہ اس نے اللہ اور اس کے رسول۴ کوایذا پہنچائی۔۔۔اس پر دنیا وآخرت میں خدا کی لعنت ھے اور عذاب شدید اس کا ابدی گھر ھے

اللہم صل علیٰ محمدوآل محمد وعجّل فرجہہم و سہّل مخرجہم والعن عدوّہم من الجن والانس من الاوّلین والآخرین
خاکپاۓ عزاداران شہیدان کربلا
سید رضا مہدی باقری

SHARE

LEAVE A REPLY