آئندہ مالی سال کے لیے پنجاب کا 1970 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا۔
وزیرخزانہ پنجاب ڈاکٹرعائشہ غوث کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ کیا ،ہنگامہ آرائی اور بجٹ تقریرکی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اڑا دیں۔
حکومتی اراکین کی جانب سے ویلڈن ویلڈن کے نعرے لگائے گئے۔
عائشہ غوث پاشا کا بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل پنجاب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، پنجاب حکومت کی کاوشوں سے سی پیک کے کئی منصوبے جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کیلئے 635 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
عائشہ غوث نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کے ریٹائرڈ ملازمین کیلئے پنشن میں بھی 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ رواں برس غیر ملکی سرمایہ کاروں سے 57 معاہدے کیے گئے ہیں، تعلیم، صحت اور سوشل ویلفیئرکے لیے 201 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی فنانس کمیشن کے تحت 44 فیصد حصہ مقامی حکومتوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
وزیرخزانہ پنجاب نے بتایا کہ بجٹ میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کے لیے 230 ارب روپے جبکہ اسکولوں میں اضافی کمروں کی تعمیر کے لیے 6 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔













