کراچی میں ندی نالوں پر تجاوزات کے خاتمے کا آغاز کر دیا گیا، پہلے مرحلے میں ضلع وسطی میں گجر نالے کے اطراف گلبرگ کیفے پیالہ سے غیر قانونی دکانیں مسمار کی جا رہی ہیں۔سندھ حکومت کے مطابق رہائشی نہیں کمرشل عمارتوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
دوسری جانب شہر قائد میں موثر پیشگی انتظامات نہ ہونے، نکاسی آب کے مسائل، انفراسٹرکچر کی تباہی کے نتیجے میں کئی ارب روپے کے نقصانات کا سبب بن گئے، برسات اور سیوریج کے پانی سے سینکڑوں سڑکیں تباہ ہوگئی، ٹوٹی سڑکوں پر سفر کرنا شہریوں کیلئے کڑا امتحان بن گیا۔
زیر آب سڑکوں سے گزرنے والی گاڑیاں اور موٹرسائیکل سوار گڑھے پڑھنے کے باعث حادثات کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ برسات کے بعد شہر میں سیوریج کا نظام مزید تباہ ہونے سے رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی، بچی کچی سڑکیں بھی تباہ ہو رہی ہیں، ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا ہے۔
نکاسی آب کے مسائل کے باعث شہریوں کی املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ وزیر بلدیات سندھ کی جانب سے برسات سے متاثرین کے نقصانات کے ازالہ سمیت صوبے بھر میں ترقیاتی سکیمیں معتارف کرنے بھی اعلان کیا گیا ہے۔ برسات میں تبائی اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے احکامات بھی دئیے گئے ہیں۔












