بیسویں قسط
امام حسین علیہ السلام پھر گویا ہوئے
فرمایا ۔۔۔
اے لوگو!
الله تعالیٰ نے
علمائے یہود کی سرزنش کی ہے
اور ۔۔ اپنے اولیاء کو جو نصیحت کی ہے
اس سے عبرت حاصل کرو
الله تعالیٰ نے فرمایا
کہ
یہودی علما اور دینی راہنما
ان لوگوں کو کیوں نہیں روکتے
جو گناہ آلود باتوں اور حرام خوری میں لگے ہیں
پھر اللہ پاک نے فرمایا
جن لوگوں نے
بنی اسرائیل میں کفر اختیار کیا، برے اعمال کئے
اور ان لوگوں نے بھی برا کام کیا جو ان کو نہ روکا
ایسے لوگوں پر لعن اور نفرین کی گئی ہے
درحقیقت الله تعالیٰ نے
اس لئے انہیں برا قرار دیا
کہ
وہ اپنی آنکھوں سے یہ دیکھنے کے باوجود
کہ
ظالمین کھلم کھلا برائیوں کو پھیلا رہے ہیں
ظالموں کو اس عمل سے باز رکھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے
کیونکہ انہیں
ان ظالموں کی طرف سے ملنے والے مال و متاع سے دلچسپی تھی
اور
ان کی طرف سے
پہنچ سکنے والی سختیوں سے خوفزدہ تھے
جبکہ
خداوند متعال کا ارشاد ہے
کہ
” لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو”
پروردگار نے فرمایا
” مومنین اور مومنات ایک دوسرے کے دوست اور سرپرست ہیں
اچھائیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں “
الله تعالیٰ نے
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کوواجب قرار دیا ہے
کیونکہ
پروردگار عالمین
جانتا ہے
کہ
اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام پاجائے
اور ۔۔ معاشرے میں ہر قدم پر برقرار بھی رکھا جائے
تو ۔۔
تمام واجبات
خواہ وہ آسان ہوں یا مشکل، خودبخود انجام پائیں گے
اے لوگو !
امربالمعروف اور نہی عن المنکرکا مطلب یہ ہے
کہ
لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جائے
اور ۔۔۔
ساتھ ہی مظلوموں کو انکے حقوق لوٹائے جائیں
ظالموں کی مخالفت کی جائے
عوامی دولت اور مال غنیمت کی عادلانہ نظام کے تحت تقسیم ہو
اور
صدقات
یعنی زکات اور دوسرے واجب اور مستحب مالیات
صحیح مقامات سے وصول کر کے
حقداروں پر خرچ کیا جائے
امام حسین علیہ السلام نے
حق کی طرف مڑنے والوں کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا
جاری ہے













