انہیں ہر تکلیف سے نجات مل گئی،قمر رضوی

0
986

دل میں ہزار امیدوں اور کانپتے ہاتھوں سے امی کو قے روکنے کی دوا کھلانے اور دو چمچے دلیہ اور ایک کچلی ہوئی کھجور کا ناشتہ دینے کے بعد میں اپنی دعاؤں کا اثر دیکھنے کی نیت سے وہیں بیٹھ گیا اور انکی تکلیف کو قدرے کم کرنے کے لیے دھیمی آواز میں سورہء رحمٰن کی تلاوت شروع کردی۔ کہتے ہیں کہ موذی امراض بالخصوص کینسر سے نجات کے لئے کلامِ پاک کا یہ سورہ اکسیر ہے۔ امی کو بھی کوئی دو ماہ قبل لبلبے کا کینسر تشخیص ہوا تھا۔ اس موذی مرض کی دیگر اقسا م تو ڈاکٹروں کو کہیں نہ کہیں کچھ کرنے کی مہلت دے ہی دیتی ہیں لیکن لبلبے کے کینسر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انتہائی خاموشی سے مکمل تباہی مچانے کے بعد تشخیص کے بہت ہی دقیق اور عمیق مراحل سے گزار نے کے بعد معالجین کا منہ چڑاتے ہوئے اپنی منحوس شکل سامنے لاتا ہے۔ جسکے بعد ڈاکٹر محض اتنا ہی کہہ پاتے ہیں کہ اسکا علاج ہمارے بس کی بات نہیں۔ زندگی اور موت کا کسی کو علم نہیں ، ہو سکتا ہے کہ ہمارا وقت ختم ہو چکا ہو لیکن اس وقت آپکے مریض کے پاس گنتی کے چند دن باقی ہیں، جتنا آرام اور سکون انکو پہنچا سکتے ہیں، پہنچا دیں۔ معافی تلافی، رشتہ داروں سے ملاقات، وصیت وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
جب ڈاکٹروں نے کسی بھی طرح کے علاج سے معذوری ظاہر کردی تو ہم ضروری ہدایات اور تکلیف سے نمٹنے کی دوائیں لے کر امی کو گھر لے آئے اور انکو وہ وہ آرام پہنچانے کے کوشش شروع کردی کہ جسکا تصور بھی کبھی ہمارے گمان سے نہ گزرا تھا۔ اور گزرتا بھی کیسے؟ کہ ہم جیسوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا کہ ماں باپ جیسی خدائی نعمت کی قیمت کیا ہے۔ ہمارا یہی خیال ہوتا ہے کہ والدین ہماری وہ ذاتی جاگیر ہے جو ہمیشہ ہمارے تصرف میں رہے گی۔ ہمیں کبھی نہ انکی تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی انکے چلے جانے کا شائبہ۔ ہم تو بس یہی سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیشہ سے ہمارے پاس تھے اور ہمیشہ رہیں گے، چنانچہ انکی اتنی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ۔۔۔۔
ہم جس معاشرے میں گزر بسر کررہے ہیں وہاں میڈیکل سائنس کے علاوہ اور بہت سی سائینسیں عمل پیرا ہیں؛ جن میں حکیمی نسخے ، دیسی ٹوٹکے، دم درود اور نجانے کیا کیا شامل ہیں۔ جب ہم سے جڑے احباب کو امی کی حالت کا علم ہوا تو جس جس کے پاس جو جو معلومات تھیں، وہ سب لے کر حاضر ہوگئے۔ کسی کو کسی آیت کے ورد سے شفا ملی تھی، کسی کو کسی دور دراز کے دیہات میں بیٹھے حکیم صاحب کی دوا نے چلتا پھرتا کر دکھایا تھا، کوئی کسی فقیر کی جھاڑ پھونک سے صحت یاب ہوچکا تھا تو کوئی کسی متبرک چشمے کے پانی سے شفا پا گیا تھا۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ ۔۔ چونکہ اس وقت ہمیں زندگی میں پہلی بار اپنی ماں کی اہمیت کا احساس ہوا تھا سو ہم نے بھی خدا کی اس عظیم نعمت کو اپنے پاس رکھنے کی لالچ میں ہر ایک کے نسخے کو آزمانے کے ٹھان لی۔ اس سلسلے میں قرآنِ مجید، اورادو وظائف کی کتب اور تسبیحات سے استفادے کے ساتھ دیگر جتنے بھی علاج معلوم ہو سکے، متوازاً شروع کر دئے۔ ساتھ ہی عمرہ و زیارات پر گئے احباب سے بھی التماسِ دعا کی اور مقاماتِ مقدسہ میں موجود دوستوں کو مستقلاً دعا و استغاثہ کی تاکید کردی۔ لیکن۔۔۔۔۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔۔۔۔ کہ یہ موذی مرض ہے ہی جان لیوا!
امی کی صحت بہت تیزی سے گر رہی تھی۔ انکی تکلیف اور کمزوری اب گھنٹوں کے حساب سے بڑھ رہی تھی۔ کوئی غذا حلق کے پار نہ اترتی کہ نجانے کیا عفریت معدے کے منہ پر پہرا لگائے بیٹھا تھا کہ کچھ آگے جانے کی اجازت ہی نہ دیتا تھا۔۔ انکی یہ حالت کسی طور دیکھی نہ جاتی تو ناچار مصلے پر جا بیٹھتا اور گڑگڑا کر اپنے رب سے اپنی ماں کی زندگی کی دعائیں شروع کر دیتا۔ لیکن کب، کہاں اور کس انداز میں کسی دعا کی قبولیت کا اثر دکھانا ہے۔۔۔۔ یہ خدائے ذوالجلال کے دفتر کے معاملات ہیں۔ سرِ دست ظاہری طور پہ یہی نظر آتا تھا کہ شاید خدا کے حضور ہماری دعا ابھی قبولیت کی سیڑھی تک جانے کی قوت حاصل نہیں کرسکی۔
اس رات میں قلبی طور پر بہت بے چین تھا۔ امی درد کم کرنے والی اور نیند کی دواؤں کے اثر کے تحت تقریباً بے ہوشی کے عالم میں تھیں لیکن سو نہ پارہی تھیں۔مجھے اپنی بے بسی پر کبھی ترس اور کبھی غصہ آتا تھا۔ کاش میں انکو سلا پاتا!!! لیکن کیسے؟ اسی عالمِ لاچاری میں میں تکئے پہ سر ٹکائے پنکھے کو تکنے لگا اوریوں میری زندگی کی پھِرکی الٹا گھومنے لگی اور میرےتصور کے پردے پر اب سے لیکر ہوش سنبھالنے تک کے مناظرایک فلم کی طرح چلنے شروع ہوگئے۔ کیا کیا منظر نہ تھے اس فلم میں کہ آنکھوں سے ٹپکتی نمکین پانی کی جھڑی تکئے کو گیلا کرتی رہی اور میں بے خبر ہی رہا۔ کافی دیر یونہی پڑا رہنے کے بعد اٹھا اور امی کے سرہانے بیٹھ کر جوشن ِ کبیر کی تلاوت شروع کردی۔ اس دوران مادی آنکھیں تو ورق گردانی کرتی رہیں لیکن دل کی آنکھوں کے سامنے امی کے احسانات کے مناظر کی فلم اسی طرح رواں رہی۔ زندگی بھر کی گئی اپنی کوتاہیوں اور نافرمانیوں کی اس بری طرح سے سزا پانے پر اپنے ہی ضمیر کی عدالت میں بے یار و مدد گار کھڑا رہا اور وقفے وقفے سے آنکھوں کے سامنے آئے آنسوؤں کی دیوار کو ہٹا ہٹا کر اوراق پر لکھی آیات کو پڑھتا رہا۔
سُبْحَانَك‏ يا لَا إِلَهَ‏ إِلَّا أَنْتَ‏ الْغَوْثَ‏ الْغَوْثَ‏ خَلِّصْنَا مِنَ‏ النَّارِ یا رَبِّ ۔۔۔
خدا سے التجا کرتا رہا کہ روزِ جزا کی آگ سے تو تیری پناہ چاہتا ہی ہوں، لیکن تو اس آگ کو بھی ٹھنڈا کردے جسمیں مَیں اس وقت جل رہا ہوں۔ دعا ختم کرکے پانی پر دم کرکے دو چمچے امی کے حلق میں ٹپکادئے اور انکو تسلی دے کر سوجانے کا کہہ دیا۔ فون اٹھا کر دیکھا تو نجفِ اشرف سے اس دوست کا پیغام آیا ہوا تھا جو امی کے لئے نہ صرف خاص دعائیں کررہا تھا بلکہ اس نے وہیں کی خاص کھجور بھی بھجوائی تھی اور کہا تھا کہ ایک مخصوص وقت پہ جب وہ بتائے گا، تب ہی امی کو کھلانا ہو گی۔ اس نے بتایا کہ آج رات اس نے امی کے لئے کچھ مخصوص اعمال انجام دئے ہیں اور آج اس کھجور کو کھلانے کا وقت آگیا ہے۔ اگر یہ کھجور ہضم ہوجاتی ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ شفا کا عمل شروع ہو چکا ہے۔۔۔۔
میری دھندھلائی آنکھوں میں ایک دم سے امید کے ہزار چراغ روشن ہوگئے اور میں خوشی کے عالم میں دوبارہ مصلے پہ جا کھڑا ہوا اور نمازِ شب کا آغاز کردیا کہ یہ اس نماز کا بہترین وقت تھا۔ اوپر نگاہ کی تو آسمان کی کھڑکیا ں کھلی دکھائی دیں جہاں سے دعاؤں کی قبولیت کا نور چھن چھن کر میرے گردوپیش کو روشن کرتا محسوس ہو رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ وقت فجر سے جا ملا اور یوں میری دعا و مناجات میں بھی تسلسل رہا۔ مایوسی میں ڈوبی وہ اندھیری رات آہستہ آہستہ امید افزا نرم اجالے میں ڈھلتی جارہی تھی اور میرے بے چین وجود کو کچھ ایسا سکون بخش رہی تھی گویا میں آغوشِ مادر میں جا پہنچا ہوں۔ خدا خدا کرکے صبح ہوئی اور امی کے ڈاکٹری ناشتے ( دو چمچے دلیہ اور دوا) کا وقت آن پہنچا۔ قے روکنے والی دوا کے ساتھ میں نے وہ کھجور نرم کرکےکسی طور امی کے حلق تک پہنچا دی اور معمول کے مطابق انکے سرہانے سورہء رحمٰن کی تلاوت شروع کردی۔ تلاوت ختم کرکے میں اپنی دعا کی قبولیت کانتیجہ اپنی منشا کے مطابق حاصل کرنے کا انتظار کرنے لگا کہ ناگاہ وہ بے چین سی ہو گئیں۔ میں نے سہارا دے کر انکو اٹھایا اور پشت سہلانے کی غرض سے انکے پیچھے جا بیٹھا۔ اس وقت جو دعا میرے دل سے نکلی شاید ہی ایسی تڑپ سے میں نے زندگی میں کبھی کوئی اور دعا مانگی ہو۔امی کا نحیف اور کمزور وجود میرے ہاتھوں میں تھا ۔ میں انکی ہڈیوں اور سانس کی سرسراہٹ تک محسوس کررہا تھا۔ میں اپنی چشمِ تصور سے کھجور کو انکے معدے تک پہنچ کر اپنا اثر دکھاتے ہوئے دیکھ رہا تھا کہ اچانک سے ایک ابکائی آئی۔۔۔۔۔ اور میری ساری امیدیں قے کے ایک گھونٹ کی صورت میں انکی گود میں رکھے اگلدان میں جاگریں۔ میں نے جلدی سے امی کو کلی کروا کر منہ صاف کیا اور پھر سے کمر سہلانےکی غرض سے انکا تکیہ بن کے بیٹھ گیا۔ امی کی اس حالت اور اپنی امیدوں کے ٹوٹ جانے کو میں برداشت نہ کر پایا اور ایک دبی ہوئی سسکی کے ساتھ رو پڑا۔ پوری کوشش کی کہ میری یہ حالت تکلیف میں ڈوبی ماں پر عیاں نہ ہو اس لئے پشت پہ ہی بیٹھا رہا۔ لیکن نجانے کیسے وہ خاموش سسکی نیم بے ہوش ماں کے کانوں تک پہنچ گئی اور انہوں نے بمشکل اپنے ہاتھ کو پیچھے کی طرف لا کر مجھے اپنے سامنے لانے کی کوشش کی اور مجھ سے میرے رونے کی وجہ دریافت کی۔ میرے پاس انکے معصومانہ سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ بس ضبط نہ کرسکا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ امی اپنی تکلیف بھول گئیں اور ایکدم سے نا معلوم کہاں سے ان میں اتنی قوت آگئی کہ انہوں نے مجھے پکڑ کر گلے لگایا اور پیار سے مجھے چپ کروانے میں لگ گئیں۔ یکایک میں اپنی ماں کی گود کا بچہ بن گیا اور انکی آغوش میں سر رکھ کر زارو قطار رونے لگا۔ میری ماں میرے بالوں میں اپنے بے جان ہاتھوں سے انگلیاں پھیرنے لگی اور میں پوری رات کا جاگا ہوا روتے روتے گہری نیند سوگیا۔ شاید ایسی پرسکون نیند میں ساری زندگی نہ سویا تھا۔
کچھ دیر کے بعد آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ امی کی حالت اب نازکی کی جانب مائل ہے۔ چنانچہ ہم لوگ انہیں ہسپتال لے آئے۔ ہسپتال پہنچنے کی دیر تھی کہ سارا عملہ امی کی خدمت میں لگ گیا۔ گو کہ انکے پاس اسکا کوئی حل نہ تھا لیکن جس صورتِ حال کو کمزور اعصاب کے مالک گھر والے نہ سنبھال سکیں، شاید اسی وقت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر اور نرس نامی فرشتوں کو خلق کیا ہو! بیہوشی کے عالم میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد امی کے ہونٹوں میں کچھ جنبش سی ہوتی جیسے وہ کچھ مقدس کلمات ادا کر رہی ہوں۔ اور کچھ دیر بعد وہ اپنی امی کو آواز دیتی محسوس ہوتیں۔ معلوم ہو رہا تھا کہ جیسے انہیں سونے کے لئے اپنی ماں کی آغوش پکار رہی ہو اور وہ وہاں تک پہنچنے کے لئے بھرپور کوشش کررہی ہوں۔ اس وقت نجانے کہاں سے مجھے خیال آیا اور میں نے اپنے ہاتھ میں موجود مفاتیح الجنان کھولی اور دعائے عدیلہ کی تلاوت شروع کردی۔ سرہانے کھڑی باجی تو مسلسل یٰسین پڑھ ہی رہی تھیں۔ ڈاکٹر اور نرس بھی وہیں بے بس کھڑے مانیٹر کو دیکھ رہے تھے۔ میری نظریں بھی وقفے وقفے سے کتاب سے اٹھتیں اور مانیٹر کا جائزہ لینے لگتیں۔ اس پر چلتے ہوئے بے ترتیب گراف بتدریج مترتب ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری لکیریں سیدھی ہو گئیں اور سب کچھ صفر پر آگیا۔ اور یوں انہوں نے اپنی ماں کی گود میں پہنچ کر سکون کا سانس لیا اور گہری نیند سو گئیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ جیسے اس وقت میری ساری دعائیں قبولت کا زینہ طے کر کے اپنی منزل کو پہنچ گئی ہوں۔۔۔ انہیں ہر تکلیف سے نجات مل گئی، تمام بیماریاں رفع ہو گئیں اور مکمل شفا مل گئی۔ جیسی نیند وہ اب سو رہی تھیں، ایسی پرسکون اورگہری نیند وہ زندگی بھر نہ سوئی تھیں۔

قمر رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY