ممبئی : 26ستمبر۔( ندیم صدیقی) عروس البلاد میں اُردو کے سینئر اور ممتازشاعر(اکیاسی۔ 81 سالہ) جمیل مجاہد (جمعہ پچیس ستمبر دوہزار بیس کو) ملاڈ(ممبئی) کے ایک نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔
آٹھ اگست 1939 ع کو جمیل الرحمان عرف جمیل مجاہدؔ کانپور میں پیدا ہوئے تھے
وہ اپنے شباب ہی کے زمانے میں کانپور سے ممبئی آگئے تھے ، دل کے مریض جمیل مجاہد نے نہایت سخت محنت اور جِدوجہد کی، ہر طرح کے کام کیے اور ساتھ ساتھ شاعری کا چراغ بھی روشن رکھا، انہوں نے پہلا شعر اپنی نوعمری میں کہا اور اُس دَور کی روایت کے مطابق سخت ریاض اور مشق کی جس کے سبب انھیں شاعری کی جملہ اصناف پر عبور حاصل ہوگیا تھا ۔
جمیل مجاہد اُن فنکاروں میں شمار کیے جائیں گے جنہوں نے فن کےتقدس اور حرمت کا پاس رکھا اور سستی شہرت سے اجتناب کیا۔ وہ کسی بھی بحر میں شعر موزوں کرنا ہی نہیں جانتے تھے بلکہ شاعری کے جملہ فنون پر بھی ان کی گرِفت تھی۔زری اور کشیدہ کاری کےخاکے بنانے میں یدِِ طولیٰ رکھتے تھے بلکہ عمر کے آخری حصے میں یہی فن اُن کے بہت کام آیا ،اُن کے اِس فن کا شہرہ عرب ممالک میں بھی تھا جہاں وہ اس کام کےلیےاکثر بلائے جاتے تھےمگر شاعری نے بھی ان کا حق ادا کیا ، مرحوم نے مختلف ریکارڈنگ کمپنیوں کے لیے وقتاً فوقتاً جو شعری کام کیا تھا اس کی انھیں خاصی رائلٹی بھی ملتی رہی۔ مشہور ریکارڈنگ کمپنی’ وینس‘ کے لیے انہوں نے خاصا رائٹنگ ورک کیا، گاہے گاہے ان کا کلام شہر کےاخبارات اور دیگر رسائل میں بھی چھپتا رہا مگر انہوں نے شہرت کےلیے کبھی کوئی غیر مہذب طریقہ نہیں اپنایا۔2013 میں ان کا ایک شعری مجموعہ ’’غزل کے دیار میں‘‘شائع ہوچکا ہے۔
جمیل مجاہدنے تقریباً نصف صدی کی مدت اس شہر میں گزاری اور محنت و مشقت سے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر جس طرح ایک باپ کو توجہ دینی چاہیے ، اس فریضے سے وہ غافل نہیں رہے ۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ کے ساتھ چار بیٹے ہیں جن میں سب سے چھوٹا بیٹا ڈاکٹر ادیب الرحمان طب کے شعبے سے وا بستہ ہے۔ جمیل مجاہد نے ایک لڑکی کو گود لیا تھا جس کی پوری نگہداشت اور مشرقی انداز سے اس کی تربیت ہی نہیں کی بلکہ اپنی بیٹی ہی کی طرح اس کی شادی خانہ آبادی کی۔ کانپور کے مشہور شاعر راقم کانپوری ان کے برادرِ بزرگ تھے۔جمعہ ہی کی شب میں جمیل مجاہد کے جسدِ خاکی کو ملاڈ(مالونی۔ ممبئی) کے مقامی قبرستان میں سپردِ لحد کیا گیا۔ تدفین کے بعد اُن کی رِحلت کی خبر ہم تک پہنچی ،سو اس کا غم ہے کہ اپنے دیرینہ رفیق محترم کو دو مٹھی مِٹّی بھی نہ دے سکے۔ اس وقت ان کا یہ شعر ذہن کے دریچے میں روشن ہے۔
مظلوم کا جنازہ اُٹھانے کے واسطے
کاندھے بہت ہیں ، کاندھے پَہ سَر ایک بھی نہیں
ندیم صدیقی













