رخسانہ نور اب ہم میں نہیں رہیں ،سیدہ قرۃ العین نقوی

0
335

بہتے اشکوں کو تو پلو چاہیئے تھا پیار کا
وہ تو دامن بھی چھڑا کر لے گیا ہے کیا کروں

معروف فلم سازسید نورکی اہلیہ رخسانہ نور58 سال کی عمرمیں انتقال کرگئیں، رخسانہ نور 15 سال سے کینسرکے مرض میں مبتلا تھیں، وہ صحافی اورشاعرہ بھی تھیں جنہوں نے پاکستان کی متعدد فلموں کے گانے بھی لکھے، رخسانہ نور نے پنجاب کی متعدد جامعات میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیئے جب کہ اپنا ایک پروڈکشن ہاؤس بھی کھولا۔

فلم سازسید نور رخسانہ نورسے 1984 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے، سید نوراوررخسانہ نورکے 3 بیٹیاں اورایک بیٹا ہے تاہم سید نورکی پاکستانی اداکارہ صائمہ سے دوسری شادی کے بعد رخسانہ نے ایک بیٹی کے ہمراہ الگ رہنا شروع کردیا تھا

رخسانہ نور نے اپنے کیریئر میں چوڑیاں ، مہندی والے ہتھ ، لڑکی پنجابن ، سنگم ، ناگ اور ناگن جیسی کامیاب فلموں کے سکرپٹ لکھے ۔ انہیں 15 برس قبل کینسر کا عارضہ لاحق ہوا جس کا علاج کروانے کیلئے وہ امریکا میں اپنی بیٹی کے ساتھ مقیم تھیں –

انہوں نے اپنے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے۔ وہ کئی سال سے بلڈ کینسر میں مبتلا تھیں امریکا سے علاج کروانے کے بعد مقامی اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ابلاغیات کے بعد انہوں نے1980ءمیں روزنامہ جنگ میں فیچر رائٹر کے طور پر کام کا آغاز کیا۔اس وقت ان کا نام رخسانہ آرزو تھا، 1984میں فلم سازسید نورسے شادی کے بعدرخسانہ نورکہلا ئیں ۔

ان کی شاعری کا مجموعہ ’’الہام‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ انہوں نے سپر ہٹ فلم چوڑیاں کے ساتھ ساتھ مجاجن ،مہندی والے ہتھ ، لڑکی پنجابن ، سنگم ، ناگ اور ناگن،جھومر، دوپٹہ جل رہا ہے،جیسی کامیاب فلموں کے اسکرپٹ لکھے ۔انھوں نے متعدد پاکستانی فلموں کے کیلئے گانے بھی تحریر کئے۔ان کے فلمی گیتوں کی کتاب ”آپیار دل میں جگا“کو بھی غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی

سیدہ قرۃ العین نقوی

SHARE

LEAVE A REPLY